کشمیر پر سودا بازی ہوئی تو عمران خان کا گریبان ہمارا ہاتھ ہو گا:سراج الحق

کشمیر پر سودا بازی ہوئی تو عمران خان کا گریبان ہمارا ہاتھ ہو گا:سراج الحق

  



اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ پرویز مشرف کی پھانسی سے بڑا مسئلہ کشمیر اور مہنگائی کا ہے،کشمیر تقسیم ہند کا نا مکمل حصہ ہے جب تک کشمیر اور پاکستان نہیں ملتے تقسیم ہند مکمل نہیں ہو سکتی،،امریکہ یا دنیا کی دوسری طاقت پر یقین رکھنے کی بجائے اللہ تعالی پر یقین رکھیں، وزیر اعظم صاحب اگر قوم کو لیڈ نہیں کر سکتے تو کرسی چھوڑ دو،اس ملک میں ایسے لوگ موجود ہیں جو قوم ملک اور کشمیری عوام کا تحفظ کر سکتے ہیں،ہم کشمیر ہار گئے تو چناب، ستلج اور راوی میں پانی نہیں ہوگا،کشمیر پر سودابازی کی مہر ثبت ہوئی تو وزیراعظم کا گریبان اور ہمارا ہاتھ ہو گا،کشمیر کیلئے جہاد کا اعلان کیا جائے۔ اتوار کو جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے کشمیر مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ نئے جذبے اور عظم کے ساتھ کشمیری بھائیوں اور مودی کو پیغام دیا ہے، انہوں نے کہاکہ مودی نے بابری مسجد کی جگہ مندر کی تعمیر اور کشمیر کی حیثیت ختم ہونے کا وعدہ پورا کیا اب اب تیسرا وعدہ گلگت بلتستان اور مظفرآباد کو بھارت کا حصہ بنائے گا،اس اعلان جنگ کے بعد ہمارے وزیراعظم کا اعلان کہ ایل او سی کی جانب جانے والا پاکستان کا غدار ہو گا ان سے مایوسی کی ایک نئی لہر دوڑی۔انہوں نے کہاکہ میں وزیراعظم سے مطالبہ کرتا ہوں اگر قوم کو لیڈ نہیں کر سکتے تو کرسی چھوڑ دیں، اقوام متحدہ کی تقریر سے بڑھ کر آج تک میرے وزیراعظم نے کوئی عمل نہیں کیا گیا۔انہوں نے کہاکہ اگر عمران خان کشمیر پر کوئی لائحہ عمل نہیں دے سکتے تو گھر چلے جائیں، پرویز مشرف کی پھانسی سے بڑا مسئلہ کشمیر اور مہنگائی کا ہے،عوام بھوک سے مر رہے ہیں جبکہ تمام ادارے ذقتی مسائل میں الجھ گئے ہیں۔ ایل او سی کو ختم کرنے کا عملی اقدام کیا جائے،کشمیر کی عوام کیلئے اقوام متحدہ سے فنڈ ریزنگ یونٹ قائم کیا جائے۔  سراج الحق

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)جماعت اسلامی نے کشمیر مارچ میں مقبوضہ ریاست جموں وکشمیر کی آزادی کیلئے 15نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈپیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت پاکستان مقبوضہ ریاست جموں وکشمیر کی آزادی کیلئے نیشنل ایکشن پلان مرتب کرے اور اس پر عمل درآمد کیلئے نقشہ کار دے،قومی سیاسی قیادت کی کانفرنس طلب کرکے ایک متفقہ قومی کشمیر پالیسی کا اعلان کیا جائے،مقبوضہ کشمیر کی عوام کی بھرپور مالی معاونت کیلئے اقوام متحدہ کے زیر انتظام ہیومینٹیٹرین اسسٹنس فنڈ قائم کیا جائے،اسلامی ممالک ترکی، ایران اور ملائشیا کے ساتھ مل کر اسلامی کانفرنس تنظیم اوآئی سی کا اجلاس طلب کر کے کشمیریوں کے حق خودارادیت،انسانی اور سیاسی حقوق کیلئے بھارت کے خلاف واضح مؤقف اختیار کرے۔اتوار کو جماعت اسلامی پاکستان کے زیر اہتمام اسلام آباد میں  رکن قانون ساز اسمبلی ازاد کشمیر عبد الرشید ترابی نے چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا۔ چارٹر آف ڈیمانڈ میں مطالبہ کیاگیا کہ ہم ترک، ملائشیا، ایران اور چین کی طرف سے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے موقف کی حمایت کا خیر مقدم کرتے ہیں۔حکومت پاکستان حق خودارادیت کے اصولی مؤقف پر قائم رہے۔بھارتی آئین کی دفعہ370اور35Aکی منسوی کے بعد معاہدہ تاشقند اور اعلان لاہور کی کوئی حیثیت نہیں رہی، ان معاہدوں سے علیحدگی اختیار کر کے لائن آف کنٹرول کو سیز فائرلائن قراردے اور سفارتی وتجارتی تعلقات ختم کرے۔پاکستان کی فضائی حدود بھارتی طیاروں کیلئے بند رکھی جائیں۔امریکی ثالثی دھوکہ اور گھاٹے کا سودا ہے  اس لئے حکومت پاکستان عالمی عدالت انصاف میں کشیر کا مقدمہ پیش کرے اور اس سلسلے میں کی جانے والی کوششوں سے عوام کو آگاہ کرے۔مقبوضہ جموں وکشمیر کے عوام کو درجہ اول کا پاکستانی شہری قراردیا جائے تا کہ وہ بغیر پاسپورٹ اور ویزا پاکستان کا سفر کرسکیں۔ وزارت خارجہ اور دوسرے کلیدی عہدوں سے قادیانیوں کو برطرف کیا جائے۔

چارٹر آف ڈیمانڈ

مزید : صفحہ اول