وزارت قانون کی جسٹس وقار سیٹھ کیخلاف ریفرنس دائر کرنیکی تیاریاں 

وزارت قانون کی جسٹس وقار سیٹھ کیخلاف ریفرنس دائر کرنیکی تیاریاں 

  



اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وزارت قانون و انصاف نے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کے تفصیلی فیصلے کا پیرا 66 لکھنے والے پشاور ہائی کورٹ کے جج چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ کے خلاف ریفرنس دائر کرنے سے متعلق جائزہ شروع کردیا۔ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق جسٹس وقار احمد سیٹھ خصوصی عدالت کے 3 رکنی بینچ کی سربراہی کررہے تھے اور انہوں نے پرویز مشرف کو 5 الزامات پر انہیں علیحدہ علیحدہ سزائے موت دینے کا حکم دیا۔رپورٹ میں ترجمان کے حوالے سے بتایا گیا کہ وزارت قانون اس وقت ریفرنس دائر کرنے سے متعلق تحقیقاتی کام کررہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اٹارنی جنرل فار پاکستان انور منصور خان جو سرکاری دورے پر ترکی گئے تھے وہ گزشتہ روز واپس آئے اور وہ ریفرنس کی تیاری سے متعلق معلومات دیں گے۔ذرائع کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب مرزا شہزاد اکبر ریفرنس کی تیاری کی نگرانی کررہے ہیں۔خیال رہے کہ 17 دسمبر کو خصوصی عدالت نے مختصر فیصلے میں 2 ایک کی اکثریت سے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کو سنگین غداری کیس میں سزائے موت سنائی تھی اور بعدازاں 19 دسمبر کو اس کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا گیا تھا۔تفصیلی فیصلے میں جسٹس وقار احمد سیٹھ اور جسٹس شاہد کریم نے پرویز مشرف کو سزائے موت سنائی تھی جبکہ جسٹس نذر اکبر نے انہیں بری کردیا تھا۔تاہم اس تفصیلی فیصلے میں جسٹس شاہد کریم نے جسٹس وقار احمد سیٹھ کی اس رائے سے اختلاف کیا تھا جس میں انہوں نے پیرا گراف 66 میں یہ لکھا تھا کہ ’اگر پرویز مشرف سزا سے پہلے فوت ہوجاتے ہیں تو ان کی لاش کو گھسیٹ کر اسلام آباد میں ڈی چوک پر لایا جائے اور 3 دن کے لیے لٹکایا جائے'۔اس پیرا پر جسٹس شاہد نے اختلاف کیا اور کہا تھا کہ یہ بنیادی قانون کے خلاف ہے اور مجرم کے لیے موت کی سزا کافی ہے۔

جسٹس وقار ریفرنس

مزید : صفحہ اول


loading...