جے ٹی آئی کے جعلی الیکشن کو کالعدم قرار دیا جائے‘ عاقب شاہ

جے ٹی آئی کے جعلی الیکشن کو کالعدم قرار دیا جائے‘ عاقب شاہ

  



الپوری(ڈسٹرکٹ رپورٹر)شانگلہ میں جمعیت طلبہ اسلام کے ڈپٹی کنوینر سید عاقب شاہ ہاشمی نے کہا کہ شانگلہ میں ہونے والے الیکشن ضلعی کنوینگ باڈی نے مسترد کردیا،مرکزی کنوینر اس جعلی الیکشن کو کالعدم قرار دے کر دستور کے مطابق نیا الیکشن کروالے۔ دستور کے مطابق ضلع امیر کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق مجلس عمومی بنائیں،اسکی مداخلت سراسر تنظیم کے اصولوں کے خلاف ہے،ہم نے صوبائی کنوینر کو پہلے باخبر کر رکھا تھا اگر الیکشن کا انعقاد کنوینگ باڈی کو اعتماد لیے ہوئے بغیر رکھا تو ہم بائیکاٹ کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ضلعی امیر نے ضلعی کنوینر سے کہا عمومی کی لسٹ میں بناکر دونگے جبکہ جے ٹی آئی کے دستور میں مجلس عمومی کا طریقہ کار موجود ہے، تمام ضلعی کنوینگ باڈی نے دستور پر سمجھوتے سے انکار کردیاہے۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے گزشتہ روز اخبار نویسوں سے  بات چیت کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے الزام لگایا کہ مدارس کے چند طلبہ کو اکھٹا کرکے جعلی الیکشن کروایا گیا جو کسی صورت قبول نہیں۔جمعیت کو کسی ایک فرد واحد کے مرضی کے مطابق چلانے کی اجازت نہیں دینگے۔سید عاقب شاہ ہاشمی نے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ جے ٹی ائی انتخابات سے ایک دن پہلے اطلاع ملی کہ کل الیکشن ہے جوکہ دستور کے مطابق اجلاس سے ایک دن نہیں بلکہ کئی دن پہلے دینا لازمی ہے۔ ہمارا موقف ہے اگر الیکشن دستور کے مطابق جو مجلس عمومی بنی ہے،دستور کے مطابق الیکشن کرانا ہے تو ہم تیار ہیں لیکن صوبائی کنوینر اس بات پر بضد تھے جو ضلعی امیر کہے گے ہم وہی کریں گے۔صوبائی ذمہ داران جب بشام پہنچے تو سوائے ضلعی کنوینر باقی کنوینگ باڈی کے کسی ذمہ داران نے شرکت نہیں کی،ہماری مجلس عمومی کی تعداد ایک سو ہے جسکی لسٹیں ہمارے پاس موجود ہیں،ضلع امیر کی مشاورت سے انتخابی اجلاس بشام میں ہوا،چونکہ شانگلہ تنظیمی حوالے سے سات تحصیلوں پر مشتمل ہے،کسی بھی تحصیل سے کسی بھی مجلس عمومی کے ممبر نے شرکت نہیں کی کیوں کہ لسٹیں ہمارے پاس موجود ہیں ہم سے کسی نے لسٹ نہیں مانگی جب مجلس عمومی لسٹ نہ ہم نے دی اور نہ ہی صوبائی جماعت نے دیکھی ہے تو پھر الیکشن کونسے عمومی پر کرایا گیا،تحصیل بشام نے رکنیت سازی کی چار کاپیاں پُر کرکے  ہمیں دی،دستور کے مطابق انکی عمومی کی تعداد بارہ بنتی ہے،کل ایک مدرسہ کے طلبہ کو بٹھاکر الیکشن کا ڈھونگ رچایاگیاکیا ایک سو عمومی میں سے صرف بارہ ارکان کی شرکت پر اجلاس چل سکتا ہے ضلعی کنوینگ باڈی کی عدم شرکت کی وجہ سے اجلاس کی کوئی دستوری حیثیت ہے ضلعی تنظیم کی طرف سے بنائی گئی مجلس عمومی کی لسٹ وصول کیے بغیر الیکشن کرایا جاسکتا ہے۔ ایسے شخص کو جنرل سیکرٹری منتخب کرانا جو ضلعی مجلس عمومی کا ممبر نہ ہو وہ ذمہ دار بن سکتا ہے جے یو آئی کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ دستور کو بالائے طاق رکھتے ہوئے من مانی عمومی بنائی جاسکتی ہے۔اگر رکنیت سازی کی بنیاد الیکشن کا انعقاد نہیں کیاجاتا تو صوبائی جماعت سے ہمارا سوال ہے کہ پھر ہمیں بے وقوف کیوں بنایا جارہا ہے۔ہمارے سابقہ سیشن کے صدر اور سیکرٹری نے بھی الیکشن کے انعقاد سے لاعلم تھے،ہم مرکزی کنوینر سے التجاکرتے ہیں کہ صوبائی کنوینر اور ضلعی امیر کی ملی بھگت سے ہونے والا جعلی الیکشن کالعدم قرار دیتے ہوئے دستور کے مطابق نئے انتخابات کا اعلان کریں،اگر یہ جعلی کابینہ برقرار رکھا تو ہم تمام مجلس عمومی کو اعتماد میں لے کر اپنا لائحہ عمل طے کریں گے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...