حملے کی صلاحیت رکھنے والے مسلم انتہا پسند کم ہو گئے:جرمن وزیر داخلہ

 حملے کی صلاحیت رکھنے والے مسلم انتہا پسند کم ہو گئے:جرمن وزیر داخلہ

  



برلن(این این آئی)جرمن حکومت نے کہاہے کہ گزشتہ برس کے مقابلے میں رواں برس کے دوران مسلم انتہا پسندوں کی طرف سے لاحق خطرات میں کمی نوٹ کی گئی ہے۔ اس کی وجہ برلن دہشت گردانہ حملوں کے بعد سکیورٹی اداروں کا چوکس ہونا بتایا گیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جرمن وزارت داخلہ کی طرف سے جاری کیے گئے تازہ اعدادوشمار میں کہاگیاکہ ایسے مسلم انتہا پسندوں کی تعداد میں کمی نوٹ کی گئی ہے، جن کی طرف سے پرتشدد یا دہشت گردانہ حملے کیے جانے کے خطرات ہیں۔جرمن حکومت کے ایک اہلکار نے اس کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ برلن میں سن 2016 کے دوران ہوئے دہشت گردانہ حملوں کے بعد سکیورٹی کو چوکس کرنے کے نتیجے میں یہ بہتری دیکھی جا رہی ہے۔جرمن پارلیمان میں داخلہ کمیٹی کے چیئرمین آرمین شْسٹر کے بقول انہیں یقین ہے کہ برلن کی کرسمس مارکیٹ میں دسمبر دو ہزار سولہ کو ہوئے دہشت گردانہ ٹرک حملے کے بعد کیے جانے والی حکومتی اقدامات کی وجہ سے سیکورٹی کی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔ اس حملے کے نتیجے میں بارہ افراد مارے گئے تھے۔آرمین شسٹر نے مزید کہا کہ پولیس نے یہ یقینی بنانے کی کوشش کی ہے کہ انتہا پسند عناصر کی بھرپور نگرانی کی جائے اور خطرے کی صورت میں فوری کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ مشتبہ افراد کے خلاف پہلے کے مقابلے میں قانونی کارروائیوں میں کسی قسم کی تاخیر نہیں کی جاتی۔شسٹر نے کہا کہ گروپوں کے علاوہ ایسے مشتبہ افراد پر بھی کڑی نظر رکھی جا رہی ہے، جو کسی گروپ کا حصہ تو نہیں ہیں لیکن اکیلے ہی حملہ کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ انہوں نے اس صورتحال میں بہتری کے لیے سکیورٹی کے اداروں کے علاوہ خفیہ اداروں کی بھی ستائش کی۔

مزید : عالمی منظر /پشاورصفحہ آخر


loading...