غرب اردن میں اظہار رائے کی مکمل آزادی  ہے،فلسطینی وزیراعظم

غرب اردن میں اظہار رائے کی مکمل آزادی  ہے،فلسطینی وزیراعظم

  



رام اللہ(این این آئی) فلسطینی اتھارٹی کے وزیراعظم محمد اشتیہ نے دعویٰ کیاہے کہ غرب اردن میں آزادی اظہار رائے کی مکمل آزادی حاصل ہے اور شہریوں کو بنیادی آزادیوں کی مکمل ضمانت دی گئی ہے اور کسی فلسطینی کو سیاسی بنیادوں پر حراست میں نہیں لیا گیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق محمد اشتیہ کا یہ بیان اپنی جگہ مگر زمینی حقیقت ان کے برعکس ہے۔ غرب اردن کے تمام شہروں، قصبات، اضلاع اور کالونیوں میں بسنے والے فلسطینیوں پر یہ ضرب المثل صادق آتی ہے کہ ہم آٹا پیسنے کی آواز تو سن رہے ہیں مگرہمیں آٹا دکھائی نہیں دیتا۔مبصرین اور انسانی حقوق کے مندوبین کا کہنا تھا کہ 2019ء ماضی کے برسوں سے انسانی حقوق کے حوالے سے مختلف رہا ہے۔شہریوں کی بنیادی آزادیوں کو کھلے عام پامال کیا جاتا رہا ہے۔پچھلے تین ماہ ستمبر، اکتوبر اور نومبر میں فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے انسانی حقوق کی 900 بار پامالیوں کے واقعات سامنے آئے۔ سیاسی اسیران کے اہل خانہ مشتمل کی کمیٹی کا کہنا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے شہریوں کی سیاست بنیادوں پر گرفتاریوں، طبی، گھروں میں نظر بندی، گھروں پر چھاپے، ورکنگ مقامات پرچھاپے، فلسطینی اتھارٹی کی پولیس اور اسرائیلی فوجیوں کے ساتھ تعاون جیسے واقعات میں اضافہ ہوگیا۔

مزید : عالمی منظر /پشاورصفحہ آخر


loading...