اعجاز رحمانی نے انقلابی شاعری سے شہادت حق کا فرض ادا کیا:حافظ عیم الرحمٰن

اعجاز رحمانی نے انقلابی شاعری سے شہادت حق کا فرض ادا کیا:حافظ عیم الرحمٰن

  



کراچی (اسٹاف رپورٹر) امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ  اعجاز رحمانی ایک انقلابی شاعر تھے،انہوں نے قلم کے ذریعے اقامت دین اور شہادت حق کافریضہ بھرپور انداز میں ادا کیا اور اسلام کے آفاقی پیغام کو پھیلایا،مرحوم امت کا درد رکھنے والے انسان تھے اور امت کے گم شدہ ماضی اور تابناک مستقبل کے لیے لکھا کرتے تھے،اسلام ان کا عقیدہ اور نظریہ تھا،نظریاتی جنگ کے دور میں اعجاز رحمانی اور بعض دوسرے شعراء اور ادبی شخصیات نے نمایاں کردار اداکیا،اعجاز رحمانی نے منظوم تاریخ اسلام لکھی،کشمیر اور فلسطین کے ساتھ ساتھ بوسنیا اور شیشان کے لیے بھی لکھااور امت کی بھرپور ترجمانی کی۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے ادارہ نورحق میں معروف نعت گو شاعر اعجاز رحمانی کی یاد میں ادبی ریفرنس ومشاعرے سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مشاعرے سے عنایت علی خان نے صدارتی خطاب جبکہ جاذب قریشی اور مقامی اخبار کے ایڈیٹر اطہر ہاشمی، ڈپٹی سکریٹری کراچی نوید علی بیگ اورپبلک ایڈ کمیٹی کے جنرل سکریٹری نجیب ایوبی نے بھی خطاب کیا۔اس موقع پر علاء الدین خانزادہ، نذرفاطمی،نورالدین نور،اکرم راضی،فخر اللہ شاد،راشد نور،الحاج نجمی،چاند علی،خلیل اللہ فاروقی،عبد الرحمن مومن،نعیم الدین نعیم،عبدا لمجید محور،ماسٹر امین اللہ ودیگر شعراء نے اعجاز رحمانی کی یاد میں منظوم کلام پیش کیے۔حافظ نعیم الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے مزیدکہاکہ برصغیر کے عوام میں بیداری کے لیے علامہ اقبال نے اپنی شاعری کے ذریعے سے کام کیا او ر پھر اس کام کو مولانا مودودیؒ نے اپنے لٹریچر کے ذریعے سے آگے بڑھایا،مولانا مودودیؒ نے صرف ایک نظریہ نہیں بلکہ عملی جدوجہد کے لیے ایک جماعت بنائی اور اقامت دین کی جدوجہد کا آغاز کیا۔پروفیسر عنایت علی خان نے کہاکہ اعجاز رحمانی نعتیہ شاعری کی دنیا میں ایک عہد کانام ہے جس نے عوام کے ذہن وقلوب کو حب رسول سے منور کیا۔اطہر ہاشمی نے کہاکہ اعجاز رحمانی کی پوری شاعری بالعموم اورکتاب   ”عظمت کے مینار“ بالخصوص اعلیٰ پائے کا شعری مجموعہ ہے اور اس پر انہوں نے مجھ سے لکھنے کو کہا مگر میری ہمت نہیں ہوئی، ان کی پوری زندگی نعت کے گرد گھومتی تھی وہ جتنے بڑے شاعر تھے اتنے ہی عظیم انسان بھی تھے۔جاذب قریشی نے مرحوم اعجاز رحمانی کی مقبوضہ کشمیر کے حالات اور سیاسی جبر کے حوالے سے ان کی کتاب”لہو کے آبشار“ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ یہ بہت عمدہ کتاب ہے۔انہوں نے کہاکہ اعجاز رحمانی بیسویں صدی کے اہم شاعروں اور تخلیق کاروں میں شامل ہیں نہ صرف ان کی شاعری بلکہ ان کا ترنم بھی بہت عمدہ تھا، ان کاسب سے بڑا ہنر یہ تھا کہ وہ ایک تاریخ ساز شاعر تھے،نعت اور حمد اتنی لکھی اور سماجی زندگی کو جس طرح پیش کیامجھے کراچی میں اس کی کوئی نظیر نظر نہیں آتی۔مرحوم اعجاز رحمانی ممتاز ادبی شخصیت اور شاعر قمر جلالوی کے شاگرد تھے۔

مزید : صفحہ آخر /پشاورصفحہ آخر