مشرف کی غیر موجودگی میں سزا کیخلاف اپیل ممکن ہے کیونکہ۔۔۔بابر اعوان شہید بے نظیر بھٹو کاایک کیس نکال لائے،قانونی نکات واضح کردیئے

مشرف کی غیر موجودگی میں سزا کیخلاف اپیل ممکن ہے کیونکہ۔۔۔بابر اعوان شہید بے ...
مشرف کی غیر موجودگی میں سزا کیخلاف اپیل ممکن ہے کیونکہ۔۔۔بابر اعوان شہید بے نظیر بھٹو کاایک کیس نکال لائے،قانونی نکات واضح کردیئے

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سینئر قانون دان اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بابر اعوان کہتے ہیں کہ سابق صدر پرویز مشرف کی سزا کیخلاف ان کی غیر موجودگی میں بھی اپیل دائر کی جاسکتی ہے۔انہوں نے کہا اگر مشرف کو غیر موجودگی میں سزا دی جاسکتی ہے تو سزا کیخلاف اپیل بھی ان کی غیر موجودگی میں کی جاسکتی ہے۔ماضی میں بے نظیر بھٹو کو ان کی غیر موجودگی میں سزا سنائی گئی اور غیر موجودگی میں ہی ان کی سزا کیخلاف اپیل سنی گئی۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بابر اعوان نے کہا پی ٹی آئی نے نوازشریف کی بیماری پرکوئی سیاست نہیں کی۔بیمارلندن جاکرصحت مندہوجاتے ہیں سیاسی قیادت کی جانب سے عدالتوں کوسچ بتانے کی توقع کرتے ہیں۔ مریم نوازکوجانے کی اجازت نہ دیناقانون کی بالادستی ہے۔انہوں نے کہاان ہاو¿س تبدیلی کوئی حلیم کی دیگ نہیں ہے۔نہ ہی اس کے بارے کوئی سوچے نہ ہی اس کا کوئی چانس ہے۔ بابر اعوان نے کہااداروں میں تصادم کا کوئی ماحول نہیں ہے۔ عمران خان کے ہوتے ہوئے اداروں کے تصادم کے بارے میں کوئی نہ سوچے۔انہوں نے کہا تحریک انصاف کسی مجرم کو ملک سے باہر جانے کی نہیں دے گی،قانون بنانا ہے تو پھر پارلیمنٹ میں آجائیں اور قانون سازی کرلیں اس کے بعد جو بھی ابا سے ملنے ملک سے باہر جانا چاہے اسے اجازت مل جائے۔

پرویز مشرف کی سزاکے فیصلے میں پیرا 66سے متعلق حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ آئینی وقانونی راستہ اختیارکرےگی۔انہوں نے بتایاکہ ایک وفاقی حکومت نے نواز شریف اور شہباز شریف کوان کی غیرموجود گی میں نااہل کروایا تھاجس کے بعد انہیں اہل بھی کروایاگیا۔

انہوں نے کہا ایک سوال کیا جا رہاہے کہ جس شخص کو عدالت سزادے دے کیا اس کے سرینڈر کی صورت میں ہی اسے اپیل کا حق حاصل ہے یا اس کی غیر موجود گی میں بھی اپیل ممکن ہے تو اس پر ایک عدالتی مثال موجود ہے۔بابر اعوان کے مطابق سپریم کورٹ منتھلی ریویو انیس سو ننانوے پیج سولہ سو انیس میں درج ہے، بی بی صاحبہ کو سزا ہوئی جب وہ بیرون ملک تھیں۔ ان کی اپیل چیف جسٹس ارشاد حسن خان کے پاس گئیں جب وہ بیرون ملک ہی تھیں۔اس سوال کو انہوں نے پندرہ سولہ میں طے کیا ہے کہ چونکہ ان کو سزا ان کی غیر حاضری میں ہوئی ہے اس لئے ان کی اپیل کو بھی ان کی غیر موجودگی میں سنا جاسکتا ہے،اور ان کی اپیل کو سنا بھی گیا۔

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو ایک سال چار ماہ اور پانچ ماہ ہو چکے ہیں لیکن اس حکومت کو پہلے دن سے ہی کام نہیں کرنے دیاگیا۔

مزید : قومی


loading...