دورہ ملائیشیاءپر پاکستان کو دراصل کس کی وجہ سے شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا؟ ایسی حقیقت سامنے آگئی کہ پاکستانی حیران پریشان رہ جائیں

دورہ ملائیشیاءپر پاکستان کو دراصل کس کی وجہ سے شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا؟ ...
دورہ ملائیشیاءپر پاکستان کو دراصل کس کی وجہ سے شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا؟ ایسی حقیقت سامنے آگئی کہ پاکستانی حیران پریشان رہ جائیں

  



اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان نے آخری وقت میں کوالالمپور سربراہ کانفرنس میں شرکت سے انکار کیا جس کے باعث پاکستان کو سفارتی سطح پر شدید سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔ اب پاکستان کے اس شرمندگی سے دوچار ہونے کی وجہ سامنے آ گئی ہے۔ دفتر خارجہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انگریزی اخبار ایکسپریس ٹربیون کو بتایا کہ دراصل وزیراعظم آفس نے دفتر خارجہ کی سفارشات کو نظر انداز کیا جس کی وجہ سے پاکستان کو اس شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔

عہدیدار کا کہنا تھا کہ ”کوالالمپور کانفرنس کے حوالے سے پاکستان کو درپیش آنے والی ناخوشگوار صورتحال کا ذمہ دار دفتر خارجہ کو ٹھہرانا غلط ہے۔ پاکستان کو جب کانفرنس میں شرکت کی دعوت ملی تھی تو دفتر خارجہ کی طرف سے حکومت کو احتیاط کے ساتھ قدم اٹھانے کا مشورہ دیا گیا تھا۔ چونکہ سعودی عرب اور اس کے عرب اتحادی ممالک کانفرنس کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہے تھے۔ اس لیے حکومت کو دفت خارجہ کی طرف سے تجویز دی گئی تھی کہ اس حوالے سے کھلے عام کوئی واضح موقف اختیار کرنے سے گریز کیا جائے لیکن وزیراعظم آفس نے دفتر خارجہ کی اس ایڈوائس کو نظرانداز کرتے ہوئے کانفرنس میں شرکت کی یقین دہانی کرا دی اور بعد ازاں انکا ر کر دیا جس کی وجہ سے ہمیں خفت اٹھانی پڑی۔“

عہدیدار کا کہنا تھا کہ ”اگر حکومت دفتر خارجہ کی ایڈوائس پر عمل کرتی اور کانفرنس میں شرکت کی یقین دہانی نہ کراتی تو ہم اس خجالت سے بچ سکتے تھے۔ حکومت کو دفتر خارجہ کی طرف سے واضح الفاظ میں بتادیا گیا تھا کہ اس کانفرنس میں پاکستان کی شرکت پر سعودی عرب کی طرف سے ردعمل آئے گا۔ ہم نے وزیراعظم آفس کو تجویز دی تھی کہ شرکت کی یقین دہانی کرانے سے پہلے سمٹ کے مقاصد اور اہداف کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے لیکن بدقسمتی سے ایسا کوئی ہوم ورک کرنے سے پہلے ہی وزیراعظم نے ملائیشیاءکو کانفرنس میں شرکت کی یقین دہانی کرا دی۔“ ایک سوال کے جواب میں دفتر خارجہ کے عہدیدار نے انکشاف کیا کہ ”موجودہ حکومت میں دفتر خارجہ کا پالیسی سازی میں کردار بہت کم ہے۔ خارجہ پالیسی کے حوالے سے زیادہ تر فیصلے دراصل دفتر خارجہ سے مشاورت کے بغیر کیے جا رہے ہیں۔“

عہدیدار نے اس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ”اکتوبر میں ملا عبدالغنی برادر کی قیادت میں افغان طالبان کے وفد کے دورہ اسلام آباد کے موقع پر بھی دفتر خارجہ کی تجویز کو نظر انداز کیا گیا تھا۔ دفتر خارجہ کے سینئر حکام اس دورے کو میڈیا کی تشہیر سے دور رکھنا چاہتے تھے لیکن وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اس کے برعکس معمول سے ہٹ کر کام کیا اور وفد کے استقبال کے لیے دفترخارجہ پہنچ گئے۔ان کی طالبان رہنماﺅں کے ساتھ بغل گیر ہونے کی تصاویر نے دنیا میں یہ تاثرگیا کہ طالبان ہماری جیب میں پڑے ہیں۔ دفتر خارجہ یہ تاثر کبھی نہیں دینا چاہتا تھا۔“

مزید : قومی


loading...