گستاخی کے الزام میں سزائے موت پانے والے یونیورسٹی لیکچرر جنید حفیظ کیلئے ماہرہ خان میدان میں آگئیں

گستاخی کے الزام میں سزائے موت پانے والے یونیورسٹی لیکچرر جنید حفیظ کیلئے ...
گستاخی کے الزام میں سزائے موت پانے والے یونیورسٹی لیکچرر جنید حفیظ کیلئے ماہرہ خان میدان میں آگئیں

  



کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)اداکارہ ماہرہ خان توہین مذہب کے جرم میں سزائے موت پانے والے جنید حفیظ کے حق میں بول پڑیں۔

ویب سائٹ مینگو باز کے مطابق جنید حفیظ جیکسن سٹیٹ یونیورسٹی کا گریجوایٹ اور بہاﺅ الدین زکریا یونیورسٹی میں پروفیسر تھا۔ اس پر 2013ءمیں توہین مذہب کا الزام لگا اور اب ملتان سیشن کورٹ نے اسے موت کی سزا سنائی ہے۔

اس کی سزا پر ماہرہ خان نے اپنے ٹوئٹر اکاﺅنٹ پر لکھا ہے کہ ”امید، یقین، تبدیلی۔ یہ وہ چیزیں تھیں جو ہم نے نئی حکومت سے وابستہ کی تھیں۔ امید اس بات کی کہ ہر ایک کا احتساب ہو گا، یقین اس بات کا کہ ہر ایک کے ساتھ مساوی سلوک ہو گا اور تبدیلی ایسی جو بے گناہ شہریوں کو اذیت سے ہمیشہ کے لیے نجات دلا دے۔“

اس بات کے ساتھ ماہرہ خان نے اپنی ٹویٹ میں جنید حفیظ کے نام کا ہیش ٹیگ استعمال کیا اور پی ٹی آئی کے آفیشل ٹوئٹر اکاﺅنٹ کو اس میں مینشن بھی کیا۔

ماہرہ خان کے اس اقدام پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ملی جلی آرا پیش کی جارہی ہیں، کچھ لوگ اس موضوع پر بات کرنے والی ماہرہ کی جرات کی پذیرائی کر رہے ہیں تو بعض ٹوئٹر صارفین انہیں تنقید کا نشانہ بھی بنا رہے ہیں۔

سمیرا خان نامی ایک خاتون صارف نے ماہرہ خان کی پوسٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے ان سے یہ سوال پوچھا کہ ’ آپ کے پاس کیا ثبوت ہے کہ وہ بے گناہ ہے یا گناہ گار۔‘

بہاﺅا لدین زکریا یونیورسٹی کے ایک طالبعلم نعمان علوی نے کہا ’ یہ جتنے جنید کے حق میں بول رہے ہیں ان میں سے شاید ایک نے بھی اس کیس کی فائل پڑھنا تو دور کی بات دیکھی بھی نہیں ہوگی مہربانی فرماکر جنید حفیظ کیس کی اصل حقیقت کو آپ جان لیں.... محترمہ۔‘ خیال رہے کہ لیکچرار جنید حفیظ پر بھی جس وقت گستاخی کا الزام لگا تھا اس وقت وہ بہاﺅالدین زکریا یونیورسٹی میں خدمات سرانجام دے رہے تھے۔

سید منتظر مہدی نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ ماہرہ خان نے جنید حفیظ کے حق میں آواز بلند کی۔

مزید : تفریح