آفتاب ِ خطاطی……خورشید عالم گوہر قلم سایہ جوار ِ رحمت میں 

آفتاب ِ خطاطی……خورشید عالم گوہر قلم سایہ جوار ِ رحمت میں 
آفتاب ِ خطاطی……خورشید عالم گوہر قلم سایہ جوار ِ رحمت میں 

  

خورشید عالم گوہر قلم بھی زمین کا حسن، انسانیت کے ماتھے کا جھومر، سرمایہ شرافت، سراپا خیر وبرکت، ابر بہار اور شجر سایہ دار تھے۔

خورشید عالم گوہر قلم شاہینوں کے شہر سرگودھا کے قصبہ دھریمہ میں 1956ء میں تولد ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی علاقے سے حاصل کی۔ اس کے بعد مزید تعلیم لاہور سے حاصل کی۔ انہوں نے خطاطی سیکھنے کاآغاز کم عمری ہی میں اپنے خاندان کے بزرگوں سے کیا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے وقت کے نامور اساتذہ سید اسماعیل دہلوی اورحافظ محمدیوسف سدیدی سے خطاطی کی مشق لی۔ ریاضت کے ساتھ ساتھ وہ عرب اساتذہ کے فن پاروں اور مرقع جات کا گہری نظر سے مطالعہ کرتے رہتے۔ مسلسل ریاضت کا ثمرہ تھا کہ وہ کم وقت میں شہرت ورفعت کی منزلیں طے کرتے چلے گئے۔والدین نے ان کا نام ”خورشید“ رکھا۔ وہ اسم بامسمی تھے، یعنی خطاطی کے افق کاآفتاب۔  

 مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ ان کے سامنے کئی سال بطور طالب علم زانوئے تلمذ تہ کرنے کا موقع ملا۔ ان سے 2015ء میں میری پہلی ملاقات Da art Institute میں ہوئی۔ یہاں میں نے ان سے تقریباََ ڈیڑھ سال خطاطی سیکھی۔ اس کے بعد نیشنل کالج آف آرٹس میں ایک سال پھر ان سے خطاطی کے اسرار ورموز سیکھنے اور سمجھنے کااعزاز حاصل ہوا۔اسی ادارے میں ایک سال میں نے ڈرائنگ پینٹنگ کا ڈپلومہ کیا۔ ڈرائنگ ڈپلومہ کی کلاس ہفتے میں پانچ دن ہوتی تھی اورہر کلاس کا دورانیہ تین گھنٹے کا تھا۔ اس دوران بھی ان سے ملاقاتیں کرنے اور کچھ نہ کچھ سیکھنے کا شرف حاصل ہوتا رہا۔بعدازاں جب میں نے اپناادارہ بنام ”لاہورسکول آف آرٹ“ بنایا تویہ ان کی عالی ظرفی تھی کہ وہ مجھ ناچیزکے کہنے پروہاں تشریف لائے۔ دارالسلام میں خطاطی کی کلاسز شروع کیں تو وہاں بھی حوصلہ افزائی کے لیے آتے رہے اور طلبہ سے خطاب بھی کیا۔ اس طرح استاد خورشید عالم گوہر کے ساتھ 2015ء میں استوار ہونے والا تعلق ان کے دار ِ فانی سے رخصت تک قائم رہا۔ 

میرا تعلق ایک ایسے خاندان سے ہے جو تین سوسال سے خطاطی کی خدمت کرتا چلاآرہا ہے۔ اس لیے آپ یوں سمجھ لیں کہ خطاطی میرے خون میں شامل ہے اور مجھے خطاطی سیکھنے کا شوق جنون کی حد تک ہے۔ میرایہ جنون مجھے استاد گوہر قلم کے بہت قریب لے گیا۔میری کوشش ہوتی کہ میں زیادہ سے زیادہ وقت ان کے پاس گزاروں، ان کے پاس بیٹھوں، کچھ سیکھوں اور ان کی باتیں سنوں۔ اس دوران میں جتناان کے قریب ہوااتناہی ان کی شخصیت کا گرویدہ ہوتاچلاگیا۔ان کے ساتھ گزراہوایک ایک لمحہ قیمتی متاع ہے۔ اس دوران میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا جیسے خط ِ ثلث، خط ِ نستعلیق، خط ِ نسخ، خط ِ دیوانی، خط رقہ اورخط ِ طغراوغیرہ۔خطِ طغرا سے یاد آیاکہ اس خط میں انہیں بے پناہ مہارت تھی۔بس یوں سمجھ لیں کہ اس خط میں وہ اپنی مثال آپ تھے جبکہ خط ِ نستعلیق اور خط ِ ثلث ان کی پہچان تھی۔ان کی شخصیت ایک ایسے گلستان کی طرح تھی جس میں بہت سے پھول سجے ہوتے ہیں اور ہر پھول کی اپنی دلکش اور مسحور کن خوشبو ہوتی ہے۔

استاد خورشید عالم گوہر قلم واقعی خطاطی کے استاد تھے بلکہ وہ دور حاضر میں خطاطی کے امام تھے۔ وہ عالمی شہرت کے حامل اوربیشمار اعزازات و کمالات کے مالک تھے۔وہ صدارتی ایوارڈ یافتہ تھے۔انہیں جاپان میں ہونے والے27ویں انٹرنیشنل مقابلہ خطاطی میں بھی اعلیٰ ترین ایوارڈ سے نوازا گیا۔انہوں نے اندرون و بیرون ملک خطاطی کی بیشمار نمائشوں میں حصہ لیا اور لاتعداد انعامات واعزازات سے نوازے گئے۔

اسلامی خطاطی کی تاریخ کم وبیش چودہ سوسال پر محیط ہے اس عرصہ میں بلاشبہ لاکھوں خطاط اور خوش نویس ہو گزرے ہیں۔ ہر خطاط نے اپنے اپنے وقت میں بہت کام کیااور نام کمایا ہے لیکن استاد خورشید گوہر قلم کے کچھ کام ایسے ہیں جوانہیں تاریخ کے دیگر تمام خطاطوں سے ممیزوممتازکرتے ہیں۔ اس ضمن میں ان کا سب سے اہم کارنامہ 406اقسام ِ خطاطی پر مشتمل ”عجائب القرآن“ ہے۔ یہ ایک ایسا عظیم شہ پارہ  ہے جس میں خطاطی کی چودہ سوسال کی تاریخ کو سمودیاگیا ہے۔

یہ منفرد اور عظیم شہ پارہ فیصل مسجد اسلام آباد میں تیس الگ الگ شوکیسوں میں محفوظ ہے۔استاد خورشید گوہر قلم کا دوسرا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن کے لیے ”ن۔ والقلم“ کے نام سے تاریخ خطاطی پر ایک سکرپٹ لکھا جو پندرہ قسطوں میں پاکستان ٹیلی ویژن پر آن ائیر ہوا۔یہ بر صغیر پاک وہند میں تاریخ ِ خطاطی پر اپنی نوعیت کا پہلا پروگرام تھا۔ ان کا تیسراکارنامہ خطاطی اور اس کی اقسام پر ایک درجن سے زائد کتب ہیں۔ کسی ایک شخص کے ہاتھ سے خطاطی پر ایک درجن سے زائد کتب کی تصنیف بھی انسان کو ورطہ حیرت میں ڈال دیتی ہے۔ 

”عجائب القرآن“۔۔۔۔ن۔ والقلم اور خطاطی کی تاریخ،اقسام پرمشتمل ایک درجن سے زائد کتب۔۔۔استاد خورشید عالم گوہر قلم کی اپنے فن سے بے پایاں محبت کا زندہ جاوید ثبوت ہیں۔ ان شہ پاروں کو دیکھتے ہوئے یقین سے کہا جاسکتا ہے استاد گوہر قلم کا فن تاقیامت زندہ و تابندہ رہے گا۔دعا ہے کہ اللہ استاد جی کو سایہ جوار ِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین۔ 

مزید :

رائے -کالم -