من کجا تو کجا …… یا رحمت اللعالمینﷺ

من کجا تو کجا …… یا رحمت اللعالمینﷺ
من کجا تو کجا …… یا رحمت اللعالمینﷺ

  

سائنس کی ایک منطق کے مطابق اندھیرے کا کوئی وجود نہیں ہے روشنی کی عدم موجودگی کو اندھیرا کہا جاتا ہے کیونکہ جب روشنی آتی ہے تو اندھیرا چلا جاتا ہے جس کی مثال کچھ یوں دی گئی ہے کہ ایک حامل الوجود چیز کے ساتھ اگر کوئی دوسری حامل الوجود چیز رکھ دی جائے تو دونوں چیزیں موجود رہتی ہیں مگر جب روشنی آجائے تو اندھیرا غائب ہوجاتا ہے تو ثابت ہوا کہ اندھیرے کا کوئی وجود  نہیں ہے، مگر اہل اسلام کو اس امر کا علم تو 1443سال پہلے سے ہے جب  سرزمین عرب پر کفر و الحاد کے گھٹا ٹوپ اندھیرے چھائے ہوئے تھے تو اللہ رب العزت نے آمنہ کے لعل رحمت اللعالمینؐ کو انوار رحمت بنا کر بھیجا اور آپؐ نے کفر و الحاد کے اندھیروں میں اسلام کی شمع منور کی اور اسلام کے نور کو چار سو پھیلا دیا اور وہی سر زمین عرب جہاں جہالت کا دور دورہ تھا تہذیب و شائستگی، اخوت و مروت،

بھائی چارہ، انسانیت اور حسن اخلاق کا گہوارہ بن گئی ان کی با برکت اور عظیم شخصیت نے یثرب کی بستی کو مدینہ اور اپنی موجودگی کے باعث مدینہ کو منور کیا تو وہ مدینہ منورہ بن گیا۔ جب آپ ؐ کے قدم مبار ک وہاں پہنچے تو یثرب کی بستی مدینہ بن گئی۔ آپؐ  کی پیدائش گو کہ مکہ شریف میں ہوئی اور مکہ میں خدا کا گھر بھی ہے اور اللہ عزوجل جہاں رحیم و کریم ہے وہاں وہ صاحب جلال بھی ہے جب کہ آمنہ کا لعل صاحب الجمال ہے اوراس صفت حمیدہ کے باعث آپؐ نے مدینہ ہجرت کی اور آج بھی مکہ کے لوگ طبعاً جلالی اور مدینہ کے لوگ جمالی ہیں۔جب بات آپؐ کے حسن وجمال کی ہورہی ہے تو یہاں حضرت مولانا کوثر نیازی کا یہ شعر کمال کا ہے 

نازاں ہو جس پہ حسن و ہ حسن رسولؐ ہے

یہ کہکشاں تو آپ ؐ کے قدموں کی دھول ہے

حضرت مولانا کوثر نیازی کا یہ شعر ان کی بخشش کا سبب ہوگا کہ جس بھر پور انداز میں رسالتمابؐ کے حسن و جمال کی تعریف کی گئی ہے یقیناً اللہ رب العزت کی بارگاہ میں اسے شرف قبولیت بخشا گیاہوگا۔ کسی نے مولانا مرحوم سے استفسار کیا کہ محبوبؐ خدا کے حسن کی تعریف تو بجا مگر کہکشاں آپؐ  کے قدموں کی دھول کیسے ٹھہری تو حضرت کوثر نیازی نے فرمایا کہ حضور ؐ اقدس کے قدم مبارک معراج پر جاتے ہوئے جہاں جہاں پڑے وہ کہکشاں بنتی چلی گئی۔ قرآن کریم کے پندرہویں پارے میں اس کا ذکر کچھ یوں ہے کہ اللہ کریم نے اپنے محبوبؐ  کو آسمانوں کی سیر کرائی اور آپ ؐصاحب الاسراء و المعراج ہیں۔ رب کریم نے جب آپؐ   کو  معراج پر بلایا تو آپؐ نے مکہ سے بیت المقدس تک کا سفر براق پر کیا۔

بیت المقدس سے چھٹے آسمان تک آپ کو نور کے فرشتے لے گئے وہاں سے حضرت جبرائیل ؑ حضور کریم ؐ  کو سدرۃ المنتہیٰ تک لے گئے اور انہوں نے حضور اکرمؐ  کو فرمایا کہ اس سے آگے میں ایک بال برابر بھی نہیں جا سکتا کہ تجلیات الہٰی میرے بال و پر جلا دیں گی اور سدرۃ المنتہیٰ سے قاب قوسین تک آپ رف رف کے ذریعے پہنچے اور بار گاہ رب العزت سے ملاقات کی اور سارا سفر صرف ایک رات میں طے ہوا یہاں ایک واقعہ کا ذکر بھی بر موقع ہوگا کہ آپ ؐ نماز چاشت کے وقت مکہ مکرمہ میں بیت اللہ کے قریب تشریف فرما تھے اور ذکر وتسبیح میں مشغول تھے کہ اتنے میں دشمن خدا ابوجہل کی نظر آپؐ پر پڑی وہ خانہ کعبہ کے ارد گرد گھوم رہا تھا وہ رسول اکرمؐ کے پاس آیا اور ازراہ تمسخر کہنے لگا کہ اے محمدؐ  کیا کوئی نئی بات پیش آئی تو حضرت محمدؐ نے فرمایا کہ ہاں آج رات مجھے آسمانوں کی سیر کرائی گئی اور معراج کرایا گیا۔

اس نے قہقہہ لگایا اور استہزایہ انداز میں حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ رات آپؐ  کوبیت المقدس کی سیر کرائی گئی، معراج پر لیجایا گیا اور صبح آپ ؐ ہمارے سامنے ہیں او رگویا ہوا کہ اگر میں سب کوبلاؤں تو کیا آپؐ یہ بات سب کے سامنے کہہ دیں گے آپ ؐ نے اثبات میں جواب دیا تو ابو جہل خوشی خوشی سب کو اکٹھا کرکے حضور اکرمؐ  کی یہ بات بتانے لگ گیا۔ لوگ تعجب کااظہار کرنے لگے اوراس خبر کو ناقابل یقین خیال کرنے لگے۔ یہی خبر چند لوگوں نے حضر ت ابو بکر ؓ کو بتائی جب حضرت ابو بکرؓ نے یہ با ت سنی تو فرمایا کہ اگر یہ بات حضور اکرم ؐ نے فرمائی ہے تو پھر یہ سچ ہے اور کہا کہ میں آپ پر اترنے والی وحی کی تصدیق کرتا ہوں تو کیا اس بات کی تصدیق نہیں کروں گا اور وہ وہاں تشریف لے گئے جہاں حضورؐ پاک معراج کا واقعہ  سنارہے تھے  تو ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تسلسل کے ساتھ فرما رہے تھے کہ ”سچ فرمایا“،”سچ فرمایا“ اوراسی روز حضور ؐ اکرم نے آپ کا نام صدیق   ؓ رکھ دیا اور جس کا نام حضرت محمدؐ نے رکھا ہو اس کی فضیلت کسی وضاحت کی محتاج نہیں اور پھر ہمیشہ آپ کو حضرت ابوبکر صدیق  ؓ کہا گیا اور کہا جارہا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم صاحب الاسراء و المعراج، وجہ تخلیق کائنات اور امام الانبیاء کی تعلیمات اور فرمودات کو حرز جاں بنا کر اس کی پیروی کریں جس سے ہمارا دین و دنیا دونوں سنور جائیں گی اور یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ جب تک مسلمان تعلیمات ربانی اور فرمودات مصطفی  ؐپر عمل پیرا رہے دنیا میں حکمرانی کرتے رہے اور جب اغیار کی سازشوں کی بدولت فرقوں میں بٹ گئے اور دین سے دور ہوتے چلے گئے تو یہی وجہ ہے کہ آج عالم اسلام زبوں حالی کا شکار ہے۔ آج ہمیں اس کی زیادہ ضرورت ہے کہ ہم اسلام اور اسلام کے بتائے ہوئے راستوں پر چل کر دین و دنیا دونوں سے سرخرو ہوسکتے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -