میٹرو بس سروس ........ ماحول دوست تحفہ

میٹرو بس سروس ........ ماحول دوست تحفہ

لاہور شہر کی بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث ٹریفک ایک سنگین مسئلہ بن چکی تھی جس کے لئے ایک ایسا موثر انفراسٹرکچر درکار تھا جو موجودہ حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے اور اپنے محدودوسائل میں رہتے ہوئے پایہ تکمیل کو پہنچ پاتا۔ٹریفک کے سنگین مسائل کی وجہ سے ہی لاہور میں گاڑیوں کے دھویں اور شور نے ماحولیاتی آلودگی کو بڑھا دیا تھا جس کی وجہ سے لاہور دنیا کے فضائی آلودگی والے بڑے شہروں میں شمار ہونے لگا تھا۔ میٹرو بس سسٹم کی تکمیل کے بعد لاہور کو اب تازہ سانس لینے کا موقع ملا ہے۔اس ایک منصوبہ نے پورے پاکستان میں بالخصوص لاہورمیں ایک بڑے سماجی،معاشی انقلاب کی بنیاد رکھی ہے اور اس بات کا احساس میٹرو بس میں سفر کرنے کے بعد ہی ہوتا ہے کیونکہ اس کی اصل افادیت اور اس کی تعمیر میں چھپے جذبے سے آگاہی ہوتی ہے ۔مگر افسوس کہ ہمارے بعض منچلوں نے اسکو محض تفریح بنانے کی کوشش کی ہے جس سے بسوں کو نقصان بھی پہنچا ہے حالانکہ میٹرو بس سروس قومی اثاثہ جس کی حفاظت کرنا ہر ایک ذمہ داری ہے۔

یہ مسلّمہ حقیقت ہے قائدانہ صلاحیتوں کے حامل لوگ ہی اپنی قوم کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ایسے قائد جو اپنی عوام کے درد کا احساس کرتے ہوئے ایک مُصلح معالج اور منظّم کی خصوصیت رکھتے ہوں وہ دیانتداری سے شب روز ایک کرکے ہر اُس پہلو پر کام کرتے ہیں جو اُنکی قوم کے مسائل کو کم کرسکتا ہے۔گزشتہ پانچ سال کے دوران پنجاب ہونے والے عوامی وفلاحی،تعلیمی میدان میں ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیا جائے تو اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ میاں شہباز شریف نے درد منداوردیانتدارقائد کاکردار ادا کیا ہے۔میں میاں برادران کو برسوں سے جانتا ہوں اور انکے ساتھ کام کرتا آرہا ہوں۔جس تیزی اور قومی وعوامی احساس سے لبریز ہوکرمیاں شہبازشریف نے بدانتظامی کا خاتمہ کرکے شفاف طریقے سے برسوں کے کام مہینوں اور دنوں میں کئے ہیں ایسی مثال پاکستان میں اس سے پہلے کسی اورعوامی قائد نے قائم نہیں کی ہوگی۔لاہور میں میٹروبس کا منصوبہ دن رات ایک کرکے گیارہ ماہ میں کم ترین بجٹ میں مکمل کرنا غیر معمولی قائدانہ صلاحیتوں کامظہر ہے۔میاں شہباز شریف چونکہ شروع سے ہی بہترین انتظامی صلاحیتوں کے حامل ہیں ،لہذا انہوں نے اپنے سیاسی تدبر کو منظم طریقے سے صوبے کی ترقی کے لئے وقف کررکھا ہے۔ان کی خوبی یہ ہے وہ وژن پیدا کرتے اور صرف عمل کے لئے ہدایت ہی جاری نہیں کرتے بلکہ عملاً خود بھی اسکا نمونہ پیش کرتے ہیں۔وہ عوامی فلاح کے کاموں کی خودنگرانی کے لئے راتوں کو بھی اور صبح سویرے بھی دورے کرتے نظرآتے ہیں اور انکی یہ عادت نہایت پختہ ہے۔ میاں برادارن کی یہ خوبی ہے دونوں بھائی ملک کو ترقی دینے لئے انفراسٹرکچرکو جدید خطوط پر استوار کے حامی ہیں لہذاانہوں نے اپنے پہلے دورحکومت میں بھی اور اس بار بھی ذرائع رسل ورسائل کی تعمیروترقی کے منصوبوں کو پروان چڑھایا ہے۔جبکہ ان سے پہلے تعمیروترقی کے منصوبے محض کاغذوں میں ہی ملتے یا ادھوری شکل میں تباہی کا منظر پیش کرتے نظرآتے تھے۔میاں نوازشریف اور میاں شہبازشریف نے حمزہ شہباز کی بھی قومی تعمیرکے جذبے کے خطوط پر تربیت کی ہے۔حمزہ شہبازشریف میٹرو بس سسٹم کو فعال اور شفاف بنانے کے لئے دن رات کام کرتے رہے ہیں ۔انکی نگرانی اور توجہ کا نتیجہ ہے آج میٹرو بس سروس خواب سے حقیقت بن گئی ہے۔

موٹر وے کی تعمیر کے بعد ہی میاں برادران نے ملک میں ترقی کا پہیہ تیز کرنے کا فیصلہ کرلیا تھااور اسکے لئے انہوںنے شاہراو¿ں کی تعمیر پر بالخصوص توجہ دی ۔ظاہرہے آج کے دور میں اگر پاکستان کو عالمی برادری کے ساتھ تجارتی تعلقات کو فروغ دینا ہے تو سب سے پہلے یہاں اقتصادی ترقی کی بنیاد یعنی سڑکوں کا جال بچھا کر اور ٹریفک کے جُملہ معاملات درست کرنے ہوں گے۔ اس حوالے سے آپ دنیا کی دوسری ترقی یافتہ اقوام کو دیکھ لیں جنہوں نے ترقی کا پہیہ تیز کرنے کے لئے اپنے ذرائع آمدورفت کو بہتر اور جدید بنایاہے۔سووےت ےونےن کے بانی انقلابی مفکر مسٹر وی آئی لےسنن کاکہناتھاکہ دنےا مےں اس جگہ سب سے پہلے تمدن ، تہذےب اور ترقی ہوتی ہے جہاں سڑک عوامی گزر گاہ بنتی ہے ۔سچ تو یہ ہے لو جسٹیکل معاملات کی سائنس سڑک سے شروع ہو کر سڑک پر ختم ہوتی ہے۔ ےورپ کے سےکنڈے نےو یائی ملکوں اوررےل روڈ لنک سسٹم کے علاوہ ہانگ کانگ آسڑےلےا کےنےڈا اورشےر شاہ سوری کی جی ٹی روڈ تک ہرگزر گاہ ےا سڑک اورراستے کا ذکر آتے ہی اقتصادی ،تجارتی، سماجی، معاشی اورثقافتی ترقی کاگراف ابھرکرسامنے آجاتا ہے ۔میاں برادران نے مخلصانہ اور قائدانہ صلاحیتوں کی وجہ سے مےٹروبس منصوبے کی تکمیل کرکے سفری اورمعاشی انقلاب کا عمل تےز کرکے ملک کو اقوام عالم میں بلند کردیا ہے۔

دلچسپ بات یہ کہ میٹرو بس منصوبہ عہد جدید کے کئی ملکوں میں جاری ایسے منصوبوں سے بھی قلیل مدت میں تعمیر کیا گیاہے۔یہ منصوبہ ترکی کی مدد سے مکمل ہوا ہے ۔ترکی نے بھی 42 کلومیٹرطویل میٹرو بس کامنصوبہ بنایا تھا جو تین سال میں مکمل ہوا تھا لیکن لاہور میں گجومتہ سے شاہدرہ تک 27 کلومیٹر طویل انفراسٹرکچر 11 ماہ میں مکمل کیا ہے۔اسکے لئے چوبیس گھنٹے تین شفٹوں میںکام کیا گیا۔ہمارے ہاں تو ایسی مثالیں بھی موجود ہیں کہ کسی محلے کی سڑک یا نالی برسوں میں مکمل نہیں ہوپاتی ،لیکن جب مخلصانہ اور کچھ کردکھانے والی باعمل قیادت موجود ہوتومیٹرو بس سسٹم جیسا تعمیراتی شاہکار بھی بنا کر قوم کو تحفہ میںدیا جاسکتا ہے۔اس منصوبے کو اگر زیرزمین بنایا جاتا تو اس پر 250 ارب روپے خرچ ہوتے ۔لیکن میاں شہباز شریف نے کہا تھا کہ ہم اپنے محدود وسائل میں اسقدر بھاری رقم کا بندوبست نہیں کرسکتے لہذا میٹرو بس کا موجودہ منصوبہ تقریباً 30 ارب روپے میں مکمل ہوا ہے ۔

عالمی مانیٹرنگ ادارے کا کہنا ہے کہ میٹروبس منصوبہ ہر طرح کی کرپشن سے پاک ہے۔یہ مضبوط ترین ہے۔اس پر مستقبل میں ٹرین بھی چلائی جاسکتی ہے۔ میٹروبس8.6کلو مےٹر پل سے گزرتی ہے ۔ جس سے بلا روک ٹرےفک رواں رہتی ہے ۔یہ افرےقہ اوراےشےاءکا سب سے طوےل پُل ہے۔ مےٹروبس سسٹم کی اتھارٹی قائم کردی گئی ہے۔

میٹرو بس منصوبہ کی تکمیل کے بعد کئی دوسرے مسائل بھی حل ہوجائیں گے۔لاہور ایک کروڑ سے زائد آبادی کا شہر بن چکا ہے جس کی سڑکیں بھی بھاری ٹریفک کے باعث تنگ ہوچکی تھیں اور گاڑیوں کا بڑھتا ہوا دھواں امراض کا پیش خیمہ ثابت ہورہا تھا۔اقوام متحدہ کے ادارہ عالمی ماحول اورماحولےات کے حوالے سے بنائے گئے اصولوں اورقواعد ےا ترجےحات مےں ماحولےاتی سائنس کے تقاضوں پرزوردےاگےا ہے ۔ارضےاتی ماحول کی آلودگی،شور کی آلودگی اورفضائی آلودگی ماہرےن ماحولےات کے نزدےک ساری دنےا کا مسئلہ اورانسانےت کے لےے مشترکہ چےلنج بھی ہے جس سے نمٹنے کے لےے سبزہ زاروں کے علاوہ گندگی ودھوئےں ، غلاظت ےا تعفّن کے خاتمے کے ساتھ ساتھ صاف ستھرا پےنے کا پانی لوگوں کو فراہم کرنا بھی مقصودہے۔مےٹروبس سروس کا منصوبہ کئی اعتبار اورلحاظ سے ماحولےاتی بہتری مےں بھی ممدو معاون ہوگا ۔یہ عوامی گزر گاہوں پر دھو ئےں اورشور کی آلودگی میں کمی کا باعث بھی بنے گا۔میٹروبس منصوبہ جہاں ایک جانب عوام کو آرام دہ محفوظ اور جدیدترین سفری سہولیات مہیا کرے گا وہاں اس سے فضائی آلودگی میں خاطرخواہ کمی بھی واقع ہوگی ، ٹریفک کا دبا¶ کم ہوگا، وقت کی بچت ہوگی، ٹریفک کی رکاوٹ اور وقت کے ضیاع سے ٹینشن میں افاقہ ہوگا، اس میں سفر کرنے والا مسافر اپنے آپ کو ترقی یافتہ ملک میں گھومتا ہوا محسوس کرے گا۔پی ایچ اے نے ٹریک کے نیچے اور اسکے اسٹیشنوں کو رنگ برنگے پھولوں سے سجادیا ہے جس سے مسافر وں پر ہی نہیں عام شہریوں پر بھی اسکے صحت مندانہ اثرات مرتب ہوں گے۔

میٹرو بس کے منصوبہ کی افتتاحی تقریب میں 35 ملکوں کے سفیروں نے شرکت کی جبکہ ن لیگ کی قومی و صوبائی اور اضلاعی قیادت کے علاوہ دوسری سیاسی جماعتوں کے قائدین بھی گرمجوشی سے شریک ہوئے۔ میںبھی اپنے دوسرے ساتھیوں کیساتھ اس شاندار تقریب میںشامل تھا۔ میٹروبس میں کھڑے ہوکرایک عام مسافر کی طرح میں نے اس سفر کو خوب انجوائے کیا۔افتتاحی تقریب میں ہر سو خوشی کا سماں تھا۔لوگ دوردراز سے میٹرو بس میں پہلا سفر کرنے آئے تھے۔

سچ تو یہ ہے حکومت نے جو دعوے کےے تھے کہ بس اپنے وقت پر مقررہ مقامات پر پہنچے گی،بس کا سفر پرسکون ، محفوظ اور آرام دہ ہوگا، وہ دعوے بالکل درست ثابت ہوئے ۔بس اپنے چوبیس بس سٹاپوں پر رکتی چلتی رہی۔شہری سوار ہوتے اور وزےراعلی پنجاب کے اس منصوبے کی تعرےف کرتے نظرآئے ۔گجومتہ سے شاہدرہ تک کا سفر میرا ایک یادگار سفر تھا جو دوگھنٹے سے کم ہوکر صرف 55منٹ رہ گیاہے۔ اس عظیم الشان منصوبے کو دیکھنے کے لئے گھروں، دفتروں اورفیکٹریوں کی چھتوں پر چڑھے لوگوں نے جس مسرت کا اظہار کیا کاش کوئی ان کی اس حقیقی خوشی کو تول یا ناپ سکتا ۔خادم پنجاب نے آرام دہ ، پُرسکون سفر کی سہولیات دے کر پنجاب کے عوام کو حقیقی مسرت عطا کی ہے جو آج کے دور میں ملنا ناممکن ہوچکی تھی۔یہ منصوبہ ہمارے لیڈروں کی محب وطنی، دیانتداری، خدمت خلق اور عوام کو سچی اور دیرپا خوشیاں مہیا کرنے کی ایک اعلٰی ترین مثال ہے۔رنگ روڈ اور موٹروے کی تعمیر کے وقت بھی بے جا تنقید کرنے والے سرفہرست تھے اور آج وہ میٹرو بس کی کامیابی کو دیکھ کر نہ صرف بوکھلا گئے ہیں بلکہ ان کو اپنا سیاسی مستقبل تاریک نظر آرہا ہے ۔میٹروبس نے پنجاب بدلا ہے اور انشاءاللہ پاکستان بھی بدلے گی۔ ٭

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...