دورئہ تُرکی کی چند تلخ و شیریں یادیں

دورئہ تُرکی کی چند تلخ و شیریں یادیں
دورئہ تُرکی کی چند تلخ و شیریں یادیں

بچپن ہی سے سُنتے آئے تھے کہ اگر ہم پاکستانیوں کی کسی ملک میں واقعی عزت ہوتی ہے، احترام اور لحاظ کیا جاتا ہے تو وہ ترکی ہے۔ ترک اپنی جنگ آزادی اور پہلی جنگ عظیم میں (1914-18ئ) شکست کے بعد مشکل حالات میں برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کی طرف سے تُرکوں کے حق میں چلائی جانے والی تحریکِ خلافت، ان کے لئے چندہ اکٹھا کرنا، ڈاکٹروں، نرسوں اور پیرا میڈیکل سٹاف کی روانگی، اخلاقی و سیاسی حمایت اور دیگر قربانیوں کو کبھی نہیں بُھلا پائے۔ آج بھی ترکوں کے دل و دماغ میں برصغیر کے مسلمانوں کی قربانیاں ترو تازہ ہیں۔ یہی نہیں، بلکہ 1974ءمیں تُرکی کی یونان کے ساتھ جنگ میں ہم تُرکی کے شانہ بشانہ تھے۔ وہاں ہمارے فوجی جوان بھی شہید ہوئے۔ تُرکی کا یورپی یونین میں داخلے کا ایشو ہو یا قبرص کا مسئلہ، پاکستان نے ہمیشہ تُرکی کے مو¿قف کی حمایت کی ہے اور اسی طرح ترکی نے بھی ہر مشکل میں ہمارا ساتھ دیا ہے۔ پاکستان میں زلزلے کی تباہ کاریاں ہوں یا سیلاب کی مشکلات، جنگ وجدل ہو یا کشمیر کا تنازع، ہر حالت میں اس نے ہمارا ساتھ دیا ہے....اکتوبر2005ءمیں جب آزاد کشمیر میں شدید زلزلہ آیا تو سب سے پہلے، سب سے موثر اور سب سے زیادہ امداد ہمیں تُرکی سے آئی۔یہی صورت حال2010ءاور 2011ءکے درمیان پاکستان میں آنے والے سیلاب کے دوران تھی۔

ہمیں جب جون، جولائی2006ءمیں پہلی بار تُرکی جانے کا اتفاق ہوا تو 2005ءکے زلزلے کو وقوع پذیر ہوئے ابھی چند ماہ ہی ہوئے تھے اور تاحال امدادی کارروائیاں جاری تھیں۔ ہمیں تُرکی میں جہاں بھی جانے کا اتفاق ہوا۔ سب سے پہلے یہ سوال پوچھا گیا کہ متاثرینِ زلزلہ کا کیا حال ہے؟ ہمیں چھٹی کلاس کے ایک ترک طالبعلم سے ملوایا گیا اور اس کے بارے میں یہ بتایا گیا کہ اس بچے نے پورے ایک ماہ کا جیب خرچ پاکستان کے متاثرین زلزلہ کے لئے اکٹھی کی گئی رقم میں جمع کرایا ہے۔ آپ کو اس ترک بچی مروا تکنے کی قربانی بھی یادہوگی، جب اس نے اپنی سالگرہ کا سونے کا کنگن زلزلہ متاثرین کے لئے پاکستان بھیج دیا تھا۔ ترک اساتذہ نے اپنے پورے ماہ کی تنخواہ اور پارلیمینٹ کے ارکان نے بھی اپنی تنخواہ ریلیف فنڈ میں جمع کروا دی تھی۔ تُرکی کے صدر، وزیراعظم اور ان کی اہلیہ اظہارِ یکجہتی کے لئے پاکستان آئے۔

خریداری کے لئے ہمیں ایک شاپنگ سنٹر لے جایا گیا۔ گارمنٹ سٹور کے مالک کو جب یہ پتہ چلا کہ ہم پاکستان سے آئے ہیں تو اس نے ایک ایک شرٹ یا ٹی شرٹ تحفتاً عنایت کی اور خریداری پر بھی خصوصاً رعایت فرمائی۔ استنبول یونیورسٹی کے سامنے سلطنتِ عثمانیہ کی چند یادگاروں کی نقول، جو پلاسٹک اور لوہے کی بنی ہوئی تھیں، بیچنے والے سے مَیں نے کچھ اشیاءکی قیمتیں پوچھیں۔ اس دوران باتوں باتوں میں، مَیں نے اس سے پوچھا کہ مَیں اس کے دوست ملک کا باشندہ ہوں، بوجھیں تو میرا تعلق کہاں سے ہو سکتا ہے؟ وہ شکل و صورت سے کم پڑھا لکھا لگتا تھا۔ کہنے لگا ترکی کے دنیا میں ایک دو ہی حقیقی دوست ہیں، ان میں سے ایک پاکستان ہے، جس سے ترک بہت محبت کرتے ہیں۔ انقرہ میں اتاترک کے مزار سے واپسی پر مَیں نے ایک ادھیڑ عمر ترک میاں بیوی کا سلاماً ہاتھ لہرا کر خیر مقدم کیا اور کہا کہ مَیں پاکستان سے آیا ہوں۔ دونوں میاں بیوی کے چہرے فرطِ محبت کے جذبات سے لبریز تھے اور چمک رہے تھے اور کہہ رہے تھے۔ تُرکی پاکستانی بھائی بھائی، ہم دوست ہیں، بھائی ہیں۔

مَیں ایک گفٹ شاپ پر گیا اور کچھ چیزیں پسند کیں۔ دکاندار نے پاکستانی ہونے کے ناتے بہت رعایت کی۔ ترکی میں آپ کسی ریستوران یا ہوٹل میں جائیں، کھانے کا بل نہیں لیں گے یا بہت کم۔ بس یا ٹرین میں سفر کریں، کرایہ نہیں لیں گے۔ دکانوں میں خریداری پر اچھی خاصی رعایت مل جاتی ہے۔ ہر کوئی آپ کو پاکستانی سمجھ کر عزت اور احترام دیتا ہے۔ چہرے خوشی سے دمک اُٹھتے ہیں۔ گویا برسوں کے بچھڑے دو بھائی یا رشتہ دار آپس میں مل رہے ہوں۔ ہمارے وفد کو تُرکی کے شہر کرک پر ایلی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایجوکیشن (ای ڈی او) سے ملوایا گیا۔ ہم سے مل کر وہ بہت خوش نظرآ رہے تھے، تحائف بھی دئیے۔ باتوں باتوں میں کہنے لگے کہ مجھے پاکستان کے بارے میں زیادہ پتہ نہیں ہے۔ بس اتنا جانتا ہوں کہ پاکستان ترکی کا دوست اور برادر اسلامی ملک ہے۔ نوبل انعام یافتہ پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام کے بارے میں انہوں نے بڑی محبت و عقیدت سے ذکر کیا اور کہا کہ ہم تُرکوں کو ڈاکٹر عبدالسلام کے نوبل انعام پر اتنا ہی فخر ہے، جتنا کہ اگر یہ انعام و اعزاز کسی تُرک کو ملا۔

 پھر اس ترک ای ڈی او نے ہم سے سوال کیا کہ اچھا یہ بتائیں کہ پاکستان میں شرح خواندگی کا تناسب کیا ہے؟ ہم یہ سوال سن کر کچھ شرمانے لگے اور ایک دوسرے کے چہرے دیکھنے لگے۔ آخر ہمت کر کے ہم نے حکومت کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جب اسے یہ بتایا کہ پاکستان میں شرح خواندگی کا تناسب 56 فیصد ہے۔ یہ سُن کر وہ کہنے لگا۔ یہ تو بہت کم ہے، پھر ڈاکٹر عبدالسلام جیسے لوگ کیسے پیدا ہو گئے؟.... اور سنا ہے کہ آپ کے پاس ایٹم بم بھی ہے اور پاکستان عالمِ اسلام کی پہلی ایٹمی طاقت بھی ہے، لیکن آپ لوگوں کے ہاں شرح خواندگی بہت کم ہے۔ یہ سُن کر ہم ایک مرتبہ پھر شرم سے ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے۔

ترکی سے واپسی پر ہمارے جہاز میں بہت سے ایسے پاکستانی بھی تھے جو غیر قانونی طور پر ترکی جا پہنچتے تھے اور وہاں سے یونان اور یورپ کھسکنے کی کوشش میں پکڑے گئے تھے، وہ واپس پاکستان بھجوائے جا رہے تھے۔ ہمیں بتایا گیا ہے کہ ہر ہفتے سینکڑوں ایسے پاکستانی غیر قانونی طور پر ترکی میں داخل ہوتے ہیں اور وہاں سے یورپ جانے کی کوشش میں پکڑے جاتے ہیں۔ یہ سن کر ہمیں بہت تعجب ہوا اور دل سے دعا نکلی:”اے مسبب الاسباب! کوئی ایسا سبب پیدا فرما کہ ہمارے ملک کے حالات بھی ترکی کی طرح سدھر جائیں اور یہاں بھی شرح خواندگی97 فیصد سے زائد ہو۔ امن ہو، خوشی ہو، ترقی ہو اور ہم عزت مند قوم بنیں۔ ٭

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...