موسم+ کھابے اور صحت مند ماحول!

موسم+ کھابے اور صحت مند ماحول!

یہ اللہ کی قدرت ہے۔ مون سون میں بارش کم ہوئی۔ موسم سرما میں بھی تاخیر ہوئی، دسمبر بھی گزرا، تاہم جنوری سے پھر جو سلسلہ شروع ہوا تو اب تک رکنے میں نہیں آ رہا، فروری میں بھی برف باری ہو رہی اور مینہ برس رہا ہے۔ اس سے جہاں سردی کے موسم میں کچھ طوالت ہوئی تو بارانی علاقوں کی فضاﺅں کو بھی بہت فائدہ ہوا اور گندم کی جو فصل متاثر ہور ہی تھی وہ اب بہتر پھل دے گی ۔ تاہم موسم کی غیر یقینی صورت حال نے عام لوگوں کو متاثر ضرور کیا ہے۔ عوامی سطح پر احتیاط مشکل ہو گئی۔ کئی قسم کے وائرس آ گئے۔ نزلہ۔ زکام،کھانسی اور نمونیہ تک کی عام شکایت ہو رہی ہے۔ اول تو ہمارے لوگوں کو ایسی بے یقینی کا اندازہ نہیں اور پھر احتیاطی تدابیر بھی نہیں کی جا سکیں چنانچہ وائرس کا پروگرام ذرا زیادہ ہو چکا ہے۔ اس سلسلے میں حکومت کا محکمہ صحت سویا ہوا لگتا ہے کہ اس کے کرتا دھرتا حضرات کو اس وقت ہوش آتا ہے جب کوئی مرض وبائی صورت اختیار کر لے اب بھی کسی کو خسرے یا پولیو کی فکر نہیں ہوئی تو وائرس کی طرف کون دھیان دے گا۔ البتہ دو چار روز قبل یہ ضرور سنا کہ موسم تبدیل ہو رہا ہے ڈینگی بخار سے بچاﺅ کی تدابیر شروع کی جا رہی ہیں اتفاق سے موسم سرد ہوا تو یہ مہم بھی فی الحال سرد خانے میں چلی گئی ہے۔

بات دراصل کچھ اور کرنا تھی اس کا تعلق بھی بہرحال صحت سے تو بنتا ہی ہے۔ جب بھی موسم تبدیل ہوتا ہے۔ لاہور والے اس کے حوالے سے کھابوں کی طرف دوڑ پڑتے ہیں اس مرتبہ بارش ہوئی اور خنکی بڑھی تو شہر والے بال بچوں کو لے کر مچھلی فروشوں کی دکانوں پر پہنچ گئے اور ایسے پہنچے کہ معروف دکانوں پر باری آنے میں ڈیڑھ ڈیڑھ گھنٹہ لگا اور یہ بچوں سمیت انتظار میں بیٹھے رہے۔ جمعرات کو ذرا تیز بارش ہوئی تو ہمارے صاحبزادے کو پیار آ گیا۔ فون کرکے کہا مغرب کے بعد کھانا نہ کھائیں ہلکی پھلکی غذا لے لیں موسم اچھا ہے مچھلی کھائیں گے۔ ہمیں خیال ہوا کہ برخوردار دفتر سے گھر واپس آتے ہوئے ساتھ لے کر آئیں گے لیکن وہ خود آئے اور کہا کہ دکان پر جا کر کھائیں گے کہ تازہ اور گرم ہوگی۔ مجبوراً ساتھ جانا پڑا۔ رخ قذافی سٹیڈیم کی طرف ہو گیا۔ بارش کی وجہ سے سڑکوں پر پانی کھڑا تھا۔ متعلقہ محکمے والے غائب تھے لاہور کو صاف ستھرا بنانے کے دعویدار بھی نظر نہیں آ رہے تھے،قذافی سٹیڈیم جا کر برخوردار کو گاڑی پارک کرنے کے لئے جگہ نہیں مل رہی تھی اگر کسی طرف جگہ نظر آتی تو وہاں گارڈ نما شخص کھڑا ملتا پوچھتا کہ کدھر جانا ہے جب بتایا جاتا کہ مچھلی کھانے آئے ہیں تو فوراً جواب آتا گاڑی بھی ادھر لے جائیں، یوں کئی چکر لگانے کے بعد بالآخر سٹیڈیم کے سامنے سپورٹس بورڈ والی دیوار کی طرف جگہ ملی، گاڑی پارک کرکے برساتی کیچڑ سے ہوتے ہوئے جب مچھلی والی معروف دکان پر پہنچے تو حیرت ہوئی، لاہور یئے بال بچوں سمیت دھاوا بولے ہوئے تھے، لوگ باہر کھلے آسمان تلے میزوں پر بیٹھے مچھلی آنے کے منتظر تھے، آگے جا کر فیملی والے علاقے میں دیکھا تو کوئی میز خالی نہیں تھی۔ پھر یہ عجیب منظر بھی نظر آیا کہ مچھلی کیری کرنے کے لئے قطار لگی ہوئی تھی اور لوگ باری باری پیک کرا کے جا رہے تھے۔

ہم نے واپسی کی کوشش کی برخوردار بضد رہا کہ تھوڑی دیر میں جگہ مل جائے گی۔ کافی تاخیر سے اوپر ایک میز خالی ہوئی تو وہاں بیٹھ گئے اور پھر آرڈر دینے اور مچھلی آنے کے ایک گھنٹے کے وقفے کے د وران تک ہم نے حفظان صحت کے جو نظارے دیکھے وہ اس بات کے لئے کافی تھے کہ کھایا کچھ نہ جائے۔ صفائی کی ابتر حالت تھی۔ پلیٹیں دھوئی ہوئی ضرور تھیں لیکن ٹھنڈے پانی سے ، اور ان کو صاف بھی نہیں کیا گیا تھا ۔ گاہک خود ہی ٹشو پیپر سے پلیٹیں صاف کر لیتے تھے۔ اس کے بعد گلاس صاف نہیں تھے، نان ٹھنڈے اور عجیب سے تھے جن کو چبانا مشکل تھا، لوگ گرم گرم مچھلی پر زیادہ اکتفا کرتے اور کولڈ ڈرنک پیتے نظر آئے، دریائی مچھلی کے نام پر بازار سے زیادہ نرخ ہونے کے باوجود فارم اور سمندر کی مچھلی بھی کھلائی جا رہی تھی یہ اللہ کا فضل تھا کہ رش کم ہونے میں نہیں آ رہا تھا۔ واپسی میں ایک نام نہاد ٹھیکیدار کے بندے نے 20 روپے پارکنگ کے لئے وصول کرلئے اور 20 روپے وہاں موجود ایک گارڈ کو دینا پڑے۔

یہ تو صرف ایک دکان کی بات ہے، اس کے قریب جتنے بھی ریسٹورنٹ ہیں سب صفائی کے حوالے سے ایسی ہی تصویر پیش کرتے تھے، جبکہ خوراک کے معیار کا کسی کو کچھ پتہ نہیں تھا لوگ چٹخارے لے رہے تھے، بات قذافی سٹیڈیم تک نہیں تھی۔ لکشمی چوک، گوالمنڈی، ٹاﺅن شپ اور مون مارکیٹ (علامہ اقبال ٹاﺅن) میں بھی کھابوں پر زور تھا لیکن حفظان صحت کے اصولوں پر عمل نہیں ہو رہا تھا اور معیار کا بھی کوئی اندازہ نہیں تھا۔ شہر میں ایم ایم عالم روڈ اور بعض حصوں میں کچھ ریسٹوران اور بڑے ہوٹل ضرور اچھی تصویر پیش کرتے ہیں اگرچہ ان کے بارے میں بھی کئی بار کچن کے چالان کی خبر پڑھنے کو مل جاتی ہے۔ یوں موسم کا مزہ لینے والے شہریوں کو لوٹا تو جاتا ہی ہے وہ غیر معیاری کھابوں اور غیر صحت مند ماحول میں خرچ کرکے خوش خوش گھر آ جاتے ہیں۔

یہ ہمارے علم میں ہے کہ متعلقہ میونسپل اداروں کے پاس یہ خصوصی اختیار ہے اور ان کے پاس فوڈ کنٹرول کے شعبے بھی ہیں، ان کی کارکردگی کا اندازہ لگانا ہو تو ان کی رہائش گاہوں کو جا کر دیکھ لیں خود ہی اندازہ ہو جائے گا کہ شہر میں پھیلا ہوا کھابوں کا کاروبار کیسے چل رہا ہے۔ یہ ایک اجمالی سی تصویر ہے۔ ہمارے صحافی دوستوں کو اس پر بھی تو کام کرنا چاہئے ایک محفل میں یہ کہا جا رہا تھا کہ سیاست دانوں کے گھپلے تو نظر آ جاتے ہیں جگہ جگہ پھیلی ہوئی کرپشن نظر کیوں نہیں آتی؟  ٭

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...