ہمارے حوصلے، اچھے مستقبل کی ضمانت!

ہمارے حوصلے، اچھے مستقبل کی ضمانت!
ہمارے حوصلے، اچھے مستقبل کی ضمانت!

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ظہیر کاشمیری مرحوم کا شعر ہے:

شادابیءصحن چمن دیکھ کے خوف آتا ہے

یہی انداز تھے جب لُٹ گئی تھی زندگی اپنی!

شادابیءصحن چمن تو اس وقت ہمیں میسر نہیں، البتہ الیکشن ہو جائیں تو اس کا امکان بہرحال موجود ہے۔ دشمن طاقتیں مختلف ہتھکنڈوں سے ہماری اجتماعی زندگی کو ویران سے ویران تر کرنے کے درپے ہیں۔ انہیں گوارا نہیں کہ ہم اپنے احوال درست کر لیں۔ بجلی اور گیس کی عدم دستیابی نے ہماری معاشی زندگی کو پہلے ہی مفلوج کر رکھا ہے، اس پر مستزاد آئے روز کے دھماکے! ایک گولی بھی کہیں چلتی ہے تو محب وطن عناصر کے دل ہولنے لگتے ہیں کہ جانے الیکشن ہو بھی پاتے ہیں یا نہیں۔ دراصل ماضی کے تجربات ہمارے اجتماعی لاشعور کو ہر وقت لرزہ بر اندام رکھتے ہیں۔ ماضی میں یہ المیہ بار بار وقوع پذیر ہو چکا ہے کہ جب بھی ہم انتخابات کے ذریعے نئی قیادت لانے کے نزدیک پہنچنے لگتے ہیں تو اچانک کوئی بلائے نا گہانی ہمارا راستہ روک دیتی ہے، بلکہ سالوں پیچھے لے جاتی ہے۔

1958ءمیں جب پاکستان اپنی مکمل صورت میں دنیا کے نقشے پر موجود تھا تو تمام سیاسی جماعتیں پوری سنجیدگی کے ساتھ انتخابی عمل میں شریک ہو رہی تھیں۔ پاکستان کی خالق جماعت مسلم لیگ کے تمام دھڑے خان عبدالقیوم خاں کی سربراہی میں متحد اور منظم ہو چکے تھے۔ خان صاحب نے بڑی شان کے ساتھ جہلم سے گجرات تک 32 میل کا جلوس نکال کر اپنی طرف سے داخلی اور خارجی دشمن طاقتوں کو پیغام دیا کہ الیکشن کو ملتوی کرنا آسان نہ ہوگا، لیکن اسی عظیم الشان جلوس نے دشمن قوتوں کو فکر مند کر دیا۔ ان طاقتوں کو کسی طرح بھی گوارا نہ تھا کہ کوئی سیاسی جماعت بڑی اکثریت کے ساتھ قومی اسمبلی میں منتخب ہو کر آجائے۔ انہی ایام میں ایڈیٹر روزنامہ ”کوہستان“ نسیم حجازی مرحوم کی جنرل ایوب خان سے ملاقات ہوئی۔دراصل حجازی صاحب جنرل صاحب کے تیور ہی دیکھنے کے لئے انہیں ملے تھے۔ خدشات صحیح نکلے، نسیم حجازی فوراً خان عبدالقیوم سے ملے اور کہا: ایوب خان نے میرے سامنے سیاستدانوں کو جن گالیوں کے ساتھ یاد کیا ہے، اس سے مجھے ان کے ارادے اچھے نہیں لگتے۔ چنانچہ حجازی صاحب کی کوششوں ہی سے لاہور میں چند سیاستدانوں کی میٹنگ ہوئی، جس میں الیکشن کے انعقاد کو یقینی بنوانے کے لئے مل کر جدوجہد کرنے کا فیصلہ کیا گیا، لیکن دوچار روز کے بعد ہی دستور منسوخ ہوگیا، جماعتوں پر پابندی لگی اور مارشل لاءکی سیاہ رات چار سالوں پر پھیل گئی۔

پاکستان کی سیاسی زندگی کو ڈسٹرب کرنے والی دشمن قوتوں نے اپنی مہم کا آغاز وزیراعظم لیاقت علی خان کے قتل سے کیا تھا، اس کے بعد سال سال، دو دو سال کی حکومتیں بنوائیں۔ دستور بھی بنوایا، لیکن اس کوشش میں رہیں کہ کسی طرح حکومتی باگ ڈور غیر منتخب ہاتھوں میں آجائے کیونکہ ایسی حکومتوں میں ملک دشمن عناصر کو کھل کھیلنے کے کھلے مواقع میسر رہتے ہیں۔ 1958ءمیں اگر سول سوسائٹی اتنی باخبر اور متحرک ہوتی جیسے آج ہے تو مارشل لاءکے نفاذ تک نوبت ہی نہ پہنچتی۔

ایوب خان نے گول میز کانفرنس میں تمام سیاسی جماعتوں کے دو اہم مطالبات مان لئے تو امکان پیدا ہوگیا کہ اب قوم کو اپنی قیادت کے انتخاب کا موقع مل جائے گا، لیکن پھر وہی داستان دہرائی گئی۔ غیرجمہوری قوتوں کی شہ پر مولانا عبدالحمید بھاشانی اور ذوالفقار علی بھٹو نے گھیراو¿ جلاو¿ کی مہم جاری رکھی۔ بھٹو صاحب نے گول میز کانفرنس میں جانے سے انکار کر کے دراصل غیر جمہوری قوتوں ہی کے ہاتھ مضبوط کئے تھے۔

دسمبر70ءمیں انتخابات ہوئے، لیکن مفاداتی طاقتوں کو ایک بار پھر اپنے مفادات خطرے میں دکھائی دئیے، چنانچہ انہوں نے ایسی صورت حال بنوائی کہ منتخب قائدین کے درمیان مفاہمت نہ ہو سکی۔ مشرقی پاکستان میں احتجاج کی لہر اتنی شدت سے اٹھی کہ پھر سقوط ڈھاکہ تک قابو ہی میں نہ آسکی۔ بھٹو صاحب نے 1977ءمیں انتخابات کروائے، لیکن یہ بھول گئے کہ انہیں ایٹم بم کے سلسلے میں ایک دشمن طاقت عبرت کی مثال بنانے کی دھمکی دے چکی تھی۔ انہوں نے مخالف جماعتوں سے مفاہمت کرنے میں اتنی دیر لگا دی کہ دشمن کو راستہ بنانے کا موقع مل گیا۔ چنانچہ دستوری زندگی کی ساری بساط ہی لپیٹ دی گئی۔

 جنرل ضیاءالحق90 دن کے اندر انتخابات کروانے کے وعدے کے ساتھ تشریف لائے، لیکن وہ نوے دن گیارہ سالوں پر محیط ہوگئے۔ انہوں نے غیر جماعتی انتخابات کروائے اور اس عمل کو جاری رکھنے پر بضد رہے، لیکن وہ جس انجام سے دوچار ہوئے۔ اس سے سبق یہی ملتا ہے کہ غیر جمہوری راستہ اسی طرح کے نتائج پیدا کرتا ہے۔ قرضے معاف کروانے کا مکروہ عمل اسی غیر جمہوری دور کا تحفہ ہے۔ جنرل ضیاءالحق نے ذرائع ابلاغ پر پہرے بٹھا کر اور جماعتی سرگرمیوں پر پابندیاں لگا کر دراصل ملک دشمن عناصر کے ہاتھ مضبوط کئے، انہیں کھل کھیلنے کے مواقع فراہم کئے۔ سول سوسائٹی پوری طرح باخبر ہی نہ ہو پائی کہ قوم کی توانائیوں کو اندر ہی اندر کس طرح کے عوارض چاٹتے جا رہے ہیں۔

اکتوبر1999ءمیں جب جنرل پرویز مشرف نے اچھی بھلی چلتی سول حکومت کا تیاپانچہ کیا، اس وقت بیرونی قوتوں کو ہمارا ایٹمی دھماکہ بُری طرح پریشان کر رہا تھا۔ وہ قوتیں کسی بھی اسلامی ملک کو ایٹمی طاقت بنتے دیکھ نہیں سکتی تھیں۔ انہوں نے ہماری داخلی سیاست میں پوری ڈھٹائی کے ساتھ دخل دیا اور اپنے مقاصد حاصل کر لئے۔ ان کی کامیابی کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہو سکتا ہے کہ انہوں نے افغانستان میں خون کی ہولی کھیلنے کے لئے پاکستان کو اتحادی بنا لیا۔ جنرل پرویز مشرف نے صدر بش کی ایک کال پر اٹھارہ کروڑ پاکستانیوں کی عزت اور وقار کا سودا کر ڈالا۔

آج کل ہمارے دشمن دراصل یہاں اسی طرح کا حکومتی سیٹ اپ قائم کروانے کے لئے دن رات مصروف عمل ہیں کہ جس میں انہیں اپنی پسند کے فیصلوں پر عمل درآمد کروانے کے لئے کوئی مشکل پیش نہ آئے، لیکن خدا کا شکر ہے کہ ہماری عسکری قیادت انتخابی عمل کے سلسلے میں بالکل یکسو ہو چکی ہے۔ جب سے سیاسی جماعتوں نے آئندہ انتخابات میں حصہ لینے کے لئے سنجیدگی سے تیاریاں شروع کی ہیں ، تب سے ہماری قومی زندگی کے لئے خطرات بڑھتے جا رہے ہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری کی مہم جوئی کے اصل مقاصد آہستہ آہستہ قوم پر واضح تو ہوگئے ہیں، لیکن ڈاکٹر صاحب غالباً ابھی مایوس نہیں ہوئے۔ وہ قوم کو الیکشن کے عمل سے دور رکھنے کے لئے طرح طرح کے کھڑاگ رچا رہے ہیں۔ دوسری طرف امن و امان کی صورت حال کو برباد کروانے کے لئے کئی طرح کے حربے استعمال کئے جا رہے ہیں۔ سانحہ کوئٹہ اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ گوادر پورٹ کو چین کے حوالے کرنے کے اقدام اور ایران سے گیس کی فراہمی کے معاہدے نے دشمن طاقتوں کو آتش زیرپا کر دیا ہے۔ ان کی کارروائیوں کا سب سے بڑا مقصد ہمارے اعصاب کو کمزور کرنا ہے، لیکن خدا کا شکر ہے کہ اب ہماری سول سوسائٹی چوکس اور بیدار ہے۔ خاص طور سے ہماری عدلیہ نے غیر قانونی اور غیر دستوری کارروائیوں کو روکنے کی جو سعی کی ہے وہ نہایت قابل قدر ہے۔ کوئٹہ میں فوج کو بلانے کا مطالبہ بار بار اٹھا، لیکن حکومت نے ہوشمندی سے کام لیا اور اس مطالبے پر کان نہیں دھرے، ورنہ فوج اگر ایک بار اس دلدل میں اتر آتی تو پھر واپسی کا امکان ہی نہ رہتا۔خطرات اب بھی بہت ہیں، لیکن یہ امر قابل اطمینان ہے کہ بُرے حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے ہماری قوم کے حوصلے بلند ہیں۔ وہ سازشیوں کو پہچانتی بھی ہے اور ان کے ہر وار کو روکنے، بلکہ ناکام بنانے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔ یہی چیز ہمارے اچھے مستقبل کی ضمانت ہے!  ٭

مزید : کالم