پاکستان کے خلاف سازشوں کا سلسلہ

پاکستان کے خلاف سازشوں کا سلسلہ
پاکستان کے خلاف سازشوں کا سلسلہ

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

کوئٹہ میںہزارہ برادری کے خلاف دوسری بار بیہمانہ دہشت گردی کی واردات در اصل اس سازش کا سلسلہ ہے جو عالم اسلام اور پاکستان کے خلاف طویل عرصے سے جاری ہے جس سے پاکستان کی سلامتی اور خودمختاری پر بہت برے اثرات مرتب ہو ئے ہیں۔ کوئٹہ میں دہشت گردوں کے مسلسل حملوں کا سب سے بڑا مقصد پاک ایران تعلقات خراب کرنا ہے۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے ایک سازش کے تحت عراق اور ایران کے درمیان جنگ کرائی تاکہ یہ دونوں مسلم ممالک جو تیل کی دولت سے مالا مال ہیں ” آپس میں لڑ کر ختم ہو جائیں۔“ اس جنگ میں لاکھوں لوگ مارے گئے مگر امریکہ کی خواہش پوری نہ ہو سکی۔ امریکہ نے اپنی سازشوں کا جال پاکستان کی طرف بھی پھیلایا جہاں شیعہ سنی اختلافات کو ہوا دینی شروع کردی گئی جس کے نتیجے میں سپاہ صحابہ ‘ لشکر جھنگوی اور سپاہ محمد جیسی تنظیمیں وجود میں آئیں تاکہ پاکستان میں مسالک کے مابین نفرت کو فروغ دیا جائے۔

عراق کے خلاف جنگ کے دوران ایران کو پاکستان کی طرف سے کوئی مدد نہیں ملی۔ وہ فرقہ وارانہ تنظیمیں جو ماضی میں حکومتی سرپرستی کی وجہ سے ناسور بن چکی تھیں انہیںکالعدم قرار دے دیا گیا جس کے سبب ان انتہا پسند تنظیموں سے وابستہ معتدل لوگ تو خاموش ہو کر بیٹھ گئے لیکن شر پسند عناصر جو خون خرابے اور انتقام پر یقین رکھتے تھے وہ زیر زمین چلے گئے۔ ان روپوش افراد کی اکثریت نے افغانستان کا رخ کیا جہاں بھارتی انٹیلی جنس ”را“ اور امریکی سی آئی اے‘ ان کی سرپرستی کرنے لگیں اور یہی لوگ وہاں سے اسلحہ اور گولہ بارود لے کر پاکستان میںد اخل ہوکر تخریبی کارروائیوں میں مشغول ہو گئے۔ ان کالعدم تنظیموں کی دیدہ دلیری اتنی بڑھ چکی ہے کہ کالعدم لشکر جھنگوی اپنی دہشت گردیوں کی ذمہ داری علی الاعلان قبول کرتی ہے۔ دوسری طرف پارہ چنار میں بھی گذشتہ دس برسوں سے شیعہ سنی کشیدگی جاری تھی اور بالآخر فوج نے وہاں آپریشن کلین اپ کیا لیکن اب بھی وہاں شیعہ سنی فساد کرانے کی سازش جاری ہے کیونکہ افغانستان سے سرحد پار کر کے لوگ آتے ہیں اور فساد پھیلاتے ہیں ۔

2001ءکے بعدامریکہ نے افغانستان کے خلاف جارحیت کی اور فرقہ وارانہ اختلافات کو ہوا دینے میں کامیاب رہا ہے۔ ان سازشوں کے سبب امریکہ کے خلاف مزاحمت کا سلسلہ شروع ہوا جس کے نتیجے میں دو طاقتیں وجود میں آئی ہیں۔ ایک پختون پاور ہے جو کراچی سے لے کر کوہ ہندو کش تک پھیلی ہوئی ہے اور عالم اسلام کی مدافعتی قوت کا مرکز ہے۔دوسری شیعہ طاقت ہے جس کا مرکز ایران ہے جو عراق‘ لبنان‘ بحرین ‘خلیج‘ سعودی عرب اور پاکستان کے علاقوں تک پھیلی ہوئی ہے۔یہ دونوں قوتیں امریکہ کی مخالفت میں ابھری ہیں اسلئے امریکہ ان طاقتوں کے درمیان تصادم کرانے کی کوشش میں ہے اور کسی حد تک کامیاب بھی ہے۔ مثلÉ بحرین میں شیعہ احتجاج پر سعودی عرب اور خلیجی تعاون کونسل (GCC)نے فوجی مداخلت کی۔ یہی سلسلہ شام میں بھی جاری ہے۔امریکہ ‘ ایران کو خطرناک ملک ثابت کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے اور اس کے پڑوس میں واقع عرب سنی ممالک کو اس خطرے کا احساس دلا کرایک سو ستر(170) ارب ڈالر کے ہتھیار سعودی عرب‘ مصر ‘اردن اور خلیجی ممالک کو فروخت کر چکا ہے۔ اوروسطی اور مغربی ایشیا میں تصادم کی کیفیت پیدا کر دی ہے۔ یہ اسی عالمی سازش کا شاخسانہ ہے کہ پاکستان میں کوئٹہ جیسے واقعات کرا کے شیعہ سنی فسادات کرانے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ جس طرح لبنان میں مسلمان‘ شیعہ اور سنی میں تقسیم ہیں ایسا ہی کچھ وہ ہمارے ہاںبھی چاہتا ہے۔تاہم اب تک پاکستان میں یہ تفریق نہیں ہے اور کسی اعلی عہدے پر پہنچنے کیلئے مسلک‘ راہ میں آڑے نہیں آتا لیکن اب یہ تفریق پیدا کرنے کی سازش ہو رہی ہے تاکہ پاکستان ایک مسلسل کشیدگی کی کیفیت میں مبتلا ‘ لبنان کی طرح فرقہ وارانہ فسادات کی آگ میں جلتا رہے۔

کوئٹہ میں جاری دہشت گردی کا پاک‘ ایران گیس پائپ لائن منصوبے اور گوادر پورٹ کو چین کے حوالے کرنے کے اقدام سے بھی گہرا تعلق ہے۔ گوادر کے ساتھ ہی جیوانی سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ایران میںایک نیا نیول بیس ”پاسا بندرگاہ“ تعمیر ہو رہا ہے۔ اس لحاظ سے گوادر پورٹ کا انتظام چین کے حوالے ہونا اور پاک‘ ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر پیش رفت پاکستان اور ایران دونوں کیلئے بہت اہم ہیں۔ایران کے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو امریکہ نے ہمیشہ خراب کرنے کی سازش کی ہے۔ مثلÉ پچاس سال قبل آر سی ڈی شاہرہ جیساپروجیکٹ شروع ہوا جواب تک مکمل نہیں ہو سکا ہے۔ اسی طرح پاکستان نے جب ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن کا منصوبہ شروع کیا تو امریکہ نے ہمیں لالچ دیا کہ وہ پاکستان کو اس سے بھی سستی گیس دلائے گا اور ترکمانستان سے افغانستان‘ پاکستان اور بھارت(TAPI) تک گیس پائپ لائن بچھانے کا منصوبہ بنایا گیا۔ امریکہ نے اس منصوبے کیلئے رقم بھی فراہم کی۔ یہ محض پاکستان ‘ ایران تعلقات میں رکاوٹ ڈالنے کیلئے کیا گیا لیکن صدر زرداری اس بات پر مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے اس معاملے میں دلیری دکھائی ہے اور ایران کے ساتھ تعلقات قائم کئے اور گوادر پورٹ کا انتظام چین کے حوالے کرنے کا معاہدہ بھی ہو چکا ہے ۔

دوسر ی جانب امریکہ افغانستان سے شکست کھا کر نکل تو رہا ہے لیکن چاہتا ہے کہ اس کے مفادات کے تحفظ کیلئے اس خطے پر بھارت کی بالادستی قائم ہو۔ بھارت کی بالا دستی اسی وقت ممکن ہے جب چین‘ ایران اور پاکستان کو محدود کر دیا جائے۔ اس پر امریکہ اور بھار ت دونوں متفق ہیں کیونکہ ایشیاءپیسیفک (Asia-Pacific) میں امریکہ‘ بھارت‘ جاپان اورآسٹریلیا نے چین کے خلاف ایک نیا عسکری و اقتصادی اتحاد بنایا ہے۔چین نے ا س کے جواب میں تین بندرگاہوں کا انتظام سنبھال لیا ہے‘ پہلی چٹاگانک کی بندرگاہ‘ دوسری سری لنکا کی اور تیسری گوادر کی بندرگاہ ہے۔ اس کے ذریعے چین بحر ہند میں اپنے اقتصادی اور تجارتی مفادات کو تحفظ مہیا کر سکے گا۔امریکہ یہ بھی نہیں چاہتا کہ اس کے جانے کے بعد افغانستان‘ پاکستان اور ایران کوئی اتحاد بنائیں تاہم ان تینوں ممالک کے لئے اب ایسا اتحاد قائم کرنا بہت ضروری ہے۔ اس اتحاد کا تصور میں نے 1988ءمیں Strategic Depth کے نام سے پیش کیا تھا جس کے خلاف امریکہ نواز دانشور بھی لکھتے رہے ہیں لیکن افغانستان سے امریکہ کے نکلنے کے بعداب اس اتحاد کا بننا لازم ہے۔اسیلئے افغان طالبان کے ساتھ بات چیت ضروری ہے جس میں پاکستان اور ایران کا کردار بہت اہم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات خراب کرانے کیلئے سازشیں عروج پر ہیں۔ کوئٹہ میں ہزارہ برادری کو نشانہ بنانا اسی سازش کی کڑی ہے۔

پاکستان میں دہشت گردی کو ختم کرنے کیلئے فہم و فراست کی ضرورت ہے۔ ماضی کی غلطیوں کا ادراک کر کے لوگوں کو قانونی طور پر کام کرنے کی اجازت ہونی چاہیئے تاکہ ان کو قومی دھارے میں لا کر ان سے بات چیت کی جا سکے۔ تحریک طالبان پاکستان کو کالعدم قرار دیا گیا‘ یعنی دانستہ طور پر فساد پیدا کیا گیا ہے‘ بالکل اسی طرح جیسے کہ لشکر جھنگوی اور سپاہ محمد کو کالعدم قرار دیا گیا تھا اور ان کا سوشل بائیکاٹ کیا گیا جبکہ ان کے ساتھ روابط قائم رکھ کر بات چیت کے ذریعے دباﺅ ڈلنا چاہیئے تھاتاکہ ر د عمل کے طور پر وہ دشمن کے ہاتھوں استعمال نہ ہو سکیں۔ جہاں تک انٹیلی جنس ایجنسیوں کی ناکامی کا تعلق ہے تو یہ ہماری حکومت کی ناکامی ہے۔ فوج اور عدالتیں مجبوراً وہ کام کر رہی ہیں جو حکومت کی ذمہ داری ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ2008ءمیں بلوچستان ‘ وزیرستان‘ فاٹا اور دیر باجوڑ کے علاقے فوج کے حوالے کئے گئے تھے کہ وہ ان علاقوں میں حکومت کی رٹ قائم کرے اور یہی وہ وقت تھا جب طالبان اسلام آباد سے صرف 70 کلومیٹر کے فاصلے پر تھے مگر آٹھ سے دس ماہ کے اندر اندر فوج نے اس پورے علاقے میں حکومت کی رٹ قائم کر کے اپنی ذمہ داری پوری کر دی۔ اس کے بعد یہ کام حکومت کا تھا کہ وہاں سول انتظامیہ کا سیٹ اپ قائم کرتی‘ یعنی عدالتیں اور دیگر سول ادارے اور پولیس اپنا کام شروع کریں تاکہ وہاں سیاسی عمل شروع ہو سکے لیکن ایسا نہ ہو سکا اور خرابی بڑھتی رہی ہے کیونکہ فوج سول انتظامیہ کا بدل نہیں ہے۔ فوج نہ عدالتیں قائم کر سکتی ہے اور نہ ہی سیاسی عمل شروع کرا سکتی ہے۔فوج کی جانب سے کلیئر کرائے گئے علاقوں میں سول انتظامات موثر نہ بنانا موجودہ حکومت کی بڑی ناکامی ہے لیکن کچھ لوگ طاقت کے استعمال کی بات کرتے ہوئے یہ نہیں دیکھتے کہ طاقت کے استعمال نے ہمیشہ حالات کو بگاڑا ہے سدھارا نہیں۔

آج سے چندسال پہلے چوہدری شجاعت اپنا وفد لے کر بلوچستان گئے تھے جس طرح بیرون ملک کوئی وفد جاتا ہے۔ وہاں سے واپس آئے تو بلوچستان کیلئے اسپیشل پیکیج پر کام شروع ہوا۔ یہ وہ انداز سیاست نہیں ہے جس سے معاملات سلجھتے ہوں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بلوچوں کو اپنا بھائی سمجھ کر ان کے ساتھ بات چیت کی جائے اور ان کے دکھ درد کو سمجھا جائے۔ مجھے توقع ہے کہ سیاسی جماعتیں حالیہ انتخابات کے دنوں میں ان علاقوں میں جا کر یہ فرض پورا کریں گی ۔ کوئٹہ کے حالیہ سانحے کومحض انٹیلی جنس کی ناکامی کہہ کر گورنر بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔ انٹیلی جنس کی ناکامی بھی ان سانحات کی ایک وجہ ہے لیکن حکومت کیا کر رہی ہے کہ بارود سے بھرا ایک ٹینکر آتا ہے اور بھرے بازار میں اسے اڑا دیا جاتا ہے۔ دہشت گردی کے اتنے بڑے واقعات ہوتے ہیں لیکن کسی حکومتی اہلکار نے اپنی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ ذمہ داری تو صرف دھماکے کرنے والے قبول کرتے ہیں۔

حالات بہتر ہونے کیلئے کچھ انتظار کرنا پڑے گا۔اس لئے کہ افغانستان سے امریکہ رخصت ہو رہا ہے اورپاکستان کے اندر مداخلت کا یہ سلسلہ اب ختم ہونے کو ہے۔ انشاءاللہ اس سال کے آخر تک ہم اچھے نتائج دیکھیں گے کہ ہمارے تمام معاملات میں بیرونی مداخلت ختم ہوگی۔ایک نئی سیاسی قیادت معاملات کو درست کرے گی‘ سازشیں ناکام ہوں گی اور افغانستان میں طالبان کی حکومت اور امن دونوں ایک ساتھ قائم ہوں گے‘ اور امن کی یہ لہر پاکستان تک پھیل جائے گی ۔انشاءاللہ۔ ٭

مزید : کالم