بروقت انتخابات کے لئے فوج کی یقین دہانی

بروقت انتخابات کے لئے فوج کی یقین دہانی

پاک فوج کی طرف سے واضح کیا گیا ہے کہ وہ انتخابات کا بروقت انعقاد چاہتی ہے اور اس کی طرف سے جمہوریت کی حمایت جاری رکھی جائے گی۔ پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم سلیم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات کے التوا سے فوج کو کوئی سروکار نہیں ، فوج ملک میں آزادانہ اور بروقت انتخابات چاہتی ہے ۔ فوج نے پانچ سال تک جمہوریت کی حمایت کی ، آئندہ بھی کرے گی۔ فوج دہشت گرد تنظیموں سے جنگ کر رہی ہے۔ تمام اداروں کو مل کر ان کا مقابلہ کرنا ہوگا ۔ فوج کا طاہرالقادری یا بنگلہ دیش ماڈل سے بھی کوئی تعلق نہیں۔ بلوچستان میں فوج بلانے یا نہ بلانے کا فیصلہ حکومت نے کرنا ہے۔ بلوچستان میں سول حکومت کی بحالی کا فیصلہ سیاسی سطح پر ہوگا۔ اس میں فوج کا کوئی کردار نہیں۔ حکومت، بلوچستان میں آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت فوج کو بلا سکتی تھی جس میں فوج کو انکار نہیں تھا۔ انتخابات کے التوا سے فوج کو کسی بھی طرح کا فائدہ یا نقصان نہیں ہوگا۔ فوج کے ملک کی کالعدم تنظیموں سے کسی طرح کے روابط نہیں۔ فوج لشکر جھنگوی سمیت دوسری دہشت گرد تنظیموں سے جنگ کررہی ہے۔

پاک فوج کی طرف سے ایک بار پھر دو ٹوک ا ندازمیں جمہوریت اور آزادانہ انتخابات کی تائید و حمایت جمہوریت پسند پاکستانیوں کے لئے بے حد حوصلے اور تسلی کا باعث ہے ۔ اس کے بعد جمہوریت یا انتخابات کے سلسلے میں ملکی فضا میں پیدا کئے جانے والے شکوک و شبہات دور ہو جانے چاہئیں۔فوج گذشتہ پانچ برس میں جمہوریت کی حفاظت کرتی رہی ہے۔ اس کی طرف سے اندرون ملک دہشت گردوں سے لڑتے ہوئے بہت قربانیاں دی گئی ہیں۔دہشت گردی سے نمٹنے ، یا بلوچستان اور کراچی کی بدامنی ختم کرنے کی تمام تر ذمہ داری جمہوری حکومت ہی پر عائد ہوتی ہے، اسی کے پاس یہ اختیارات ہیں کہ وہ اس مقصد کے لئے ضروری فیصلے کرے او ر ضرورت محسوس ہونے پر فوج سمیت جس ادارے سے چاہے مدد حاصل کرے۔بلوچستان میں امن و امان قائم کرنے اور بالخصوص ہزارہ برادری کی حفاظت میں سول حکومت کی مکمل ناکامی کے بعد کوئٹہ کا نظم و نسق فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اسی طرح کراچی میں مسلح گروہوں پر قابو پانے اور ووٹر فہرستوں کی جانچ پڑتال کے لئے فوج کی مدد حاصل کرنے کی خواہش ظاہر کی گئی تھی ۔ ایسے مطالبات کے شدت کے ساتھ سامنے آنے کی وجہ سول حکومتوں کی سیاسی وابستگیوں اور جانبداری کی وجہ سے لوگوں کو انصاف نہ مل سکنا ہے۔ لیکن حکومت کی طرف سے اکثر و پیشتر صورتوں میں امن و امان قائم کرنے یا لوگوں کی زندگیوں کو تحفظ دینے کے بجائے اپنے سیاسی مفادات کو ترجیح دی گئی ہے۔ اس کا ثبوت وفاقی حکومت کی طرف سے پنجاب میں سرائیکی صوبہ بنانے کا شوشہ چھوڑنا ، اور متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے حکومت سے علحدگی کے فورا بعد سندھ کے متنازعہ بلدیاتی نظام کو ختم کرکے 1979ءکا نظام بحال کرنا ہے۔ یہ سارے معاملات حکمرانوں کی طرف سے ملکی مفادات اور قوم کو امن و امان اور تحفظ دینے کے بجائے اپنے سیاسی مفادات کو تحفظ دینے کی نشاندہی کررہے ہیں۔

ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ پانچ سال کے دوران لوٹ کھسوٹ میں مصروف رہنے والے حکمران جن کے پاس انتخابات میں عوام کے سامنے جانے کے لئے عوامی خدمت اور ملکی استحکام کے لئے کام کرنے کا کوئی ریکارڈ نہیںہے ، وہ انتخابات کے غیر یقینی ہونے کی افواہیں پھیلانے سمیت دوسرے ہر طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرکے اپنی ”فیس سیونگ“ کا اہتمام کرنے میں مصروف ہیں۔ سپریم کورٹ کی طرف سے بھی جمہوری عمل کے جاری رکھنے کی ہر طرح سے ضمانت مہیا کی گئی ہے۔ حقائق بھی یہ ہیں اور تمام شواہدبھی یہی بتا رہے ہیں کہ انتخابات کے ملتوی کرنے کی خواہش اگر کسی طرف سے ہو سکتی ہے تو وہ اقتدار کے مزے لوٹنے اور فوائد سمیٹنے والوں ہی کو ہوسکتی ہے۔ ان کی طرف سے عوام کو مصائب کا شکار کرکے اپنی کرپشن اور نااہلی کو چھپانے کے لئے ہمیشہ جمہوریت کو درپیش خطرے کا شور مچایاگیا۔ اب بھی اپنی ذمہ داریوں سے نظریں پھیر کر تمام تر توجہ سیاسی ہیرا پھیریوں ہی پر مرکوز رکھی گئی ہے۔ اس طرح ان حکمرانوں نے ہی جمہوریت کی بدنامی اور ناکامی کے تمام تر اسباب پیدا کئے ہیں اور جمہوریت کی چمپین شپ بھی اپنے پاس رکھنے کی کوشش کی ہے۔ اپنے دل کے چور کے لئے دوسروں پر الزام دینا ان کو سب سے آسان معلوم دیا او ر ان کا محبوب مشغلہ رہا ہے۔   

 سپریم کورٹ کی طرف سے سانحہ کوئٹہ کے از خود نوٹس کیس کے سلسلے میں چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ گورنر راج کے بعد سانحہ کوئٹہ کے ذمہ داروزیر اعظم اور گورنر ہیں۔بلوچستان میں آپریشن نہیں اب آپریشن کلین اپ کی ضرورت ہے۔ ملزمان کا سراغ لگانے کے لئے جدید طریقے استعمال کئے جاتے تو کامیابی ممکن تھی۔1995ءمیں آپریشن کلین اپ کیا گیا تھاجس میں دہشت گرد عناصر کو اکھاڑ پھینکا گیا۔انتخابات ہونے والے ہیں ملزم نہ پکڑے گئے توایسے واقعات ہوتے رہیں گے۔ اس طرح سپریم کورٹ کی طرف سے انتخابات کے لئے کراچی اور بلوچستان کے حالات بہتر بنانے کی ضرورت پر بھی مسلسل زور دیا گیا ہے۔

 سٹیٹ بنک کی طرف سے بھی بنکوں کے نادہندہ افراد پر واضح کردیا گیا ہے کہ وہ چار دن کے اندر لئے گئے قرضے واپس کردیں اور اپنے معاملات نمٹالیںورنہ اس کے بعد ڈیفالٹرز کی فہرستیں الیکشن کمیشن کو دے دی جائیں گی۔ الیکشن کمیشن کی طرف سے تمام انتظامات کئے جا رہے ہیں۔ الیکشن کے لئے شیڈول جاری کرنے اور متفقہ نگران حکومت کے قیام کا کام ابھی باقی ہے۔ نگران حکومتوں کی تشکیل کے لئے حکومت کی طرف سے مشاورت میں دکھائی جانے والی غیر سنجیدگی اور اس عمل کی سست روی سے بھی ظاہر ہو رہا ہے کہ وفاقی حکومت خود کو میسر مدت کو زیادہ سے زیادہ ممکنہ طول دینا چاہتی ہے اور کسی طرح سے اپنے اقتدار میں ایک دن کی کمی کرنے کو بھی تیار نہیں۔ ان حقائق کے بعداگر انتخابات ملتوی کرنے کے حالات پیدا ہوتے ہیں تو اس کے پیچھے کون سے ہاتھ ہو سکتے ہیں اس کا اندازہ کرنا اب کسی کے لئے مشکل نہیں ہوگا۔ عوام کو بھی چوکنا رہنے کی ضرورت ہے اور تمام قومی اداروں میں باہمی ربط اور کسی بھی طرح کی غلط فہمیاں دور کرنے کے لئے ان کے درمیان مسلسل کمیونیکیشن کا سلسلہ موجود رہنا چاہئیے۔ اگر حاکم اپنے اختیارات اور آئینی طور پر اپنی برتری ہی پر زور دیتے اور قومی مفاد کو نظر انداز کرتے ہوئے اسی طرح سیاسی کھیل کھیلنے ہی پر اپنی توجہ دیتے رہے تو اپنے آخری دنوں میں وہ یقینا پاکستان کے عوام کو اپنے متعلق بدترین تاثر دے کر جائیں گے۔ ملک اگر نازک حالات سے دوچار ہے تو اس کا سب سے زیادہ احسا س اور اس احساس کا اظہار حکمران جماعت کی طرف سے ہونا چاہئیے۔ اس کے لئے جماعتی سیاسی مفاد کے بجائے اجتماعی قومی مفاد کا رویہ اختیار کرنا وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔

مزید : اداریہ