ماضی کی نسبت اس حکومت میں زیادہ مہنگائی ہے، رشید ،بل دینے کی سکت بھی نہیں رہی، اشرف

ماضی کی نسبت اس حکومت میں زیادہ مہنگائی ہے، رشید ،بل دینے کی سکت بھی نہیں ...

لاہور (ملک خیام رفیق/الیکشن سیل) قیام پاکستان سے لے کر آج تک کوئی بھی حکمران روزمرہ استعمال کی اشیاءضروریہ اور مہنگائی میں کمی نہ کرسکا بلکہ اس کی حکومت اضافے کا باعث بنی ہر دور میں اتنی مہنگائی ہوجاتی ہے کہ عوام پچھلے دور کی مہنگائی کو بھول جاتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار گزشتہ روز ”روزنامہ پاکستان“ کے تحت کئے گئے ایک سروے میں لاہور کے شہریوں نے کیا۔ لوہاری کے رہائشی محمد رشید نے کہا ہمیں مشرف دور حکومت میں لگتا تھا کہ بہت زیادہ مہنگائی ہے مگر موجودہ دور حکومت میں ہم پچھلے دور حکومت کی مہنگائی کو بھول گئے ہیں۔ 2007ءمیں اشیائے ضروریا کی جو قیمتیں تھیں اب وہ چار گنا ہوچکی ہیں۔ اس لئے کوئی بھی حکومت مہنگائی کو کم نہیں کرسکتی۔ بھاٹی کے شہری اشرف کا کہنا تھا کہ حکومتیں دعوے تو بہت کرتی ہیں مگر مہنگائی کو کم نہیں کرتیں بلکہ مہنگائی کو اور بڑھادیتی ہے۔ مہنگائی کی وجہ سے ہر کوئی پریشان ہے موجودہ حکومت کے دور میں ہمارا جینا دوبھر ہوگیا ہے گیس پانی اور بجلی کے بلوں کے بعد کچھ بچتا ہی نہیں کھانے پینے کی اشیاءکی قیمتیں آئے روز بڑھتی ہیں۔ لوہاری کے رہائشی راشد بٹ نے کہا آپ کیسی بات کرتے ہیں کوئی بھی حکومت کو مہنگائی کو کم نہیں کرتی بلکہ آتے ہی پٹرول، ڈیزل اور بجلی کی قیمتیں بڑھادیتی ہے جس سے ہر چیز مہنگی ہوجاتی ہے، کرائے بڑھ جاتے ہیں اور تمام اشیا کی قیمتیں خود بخود بڑھنا شروع ہوجاتی ہیں۔ ہر حکومت دعوے تو کرتی ہے مگر مہنگائی کو کم نہیں کرتی، حکمران سب سے پہلے آتے ہی خزانہ خالی کا رونا روتے ہیں اور پھر نئے ٹیکس لگاکر مہنگائی کو بڑھادیتے ہیں اب آئندہ الیکشن میں جو بھی حکومت آئے گی وہ مہنگائی کو بڑھائے گی کم نہیں کرے گی۔ مزنگ کے رہائشی ناصر بٹ نے کہا ہمارے ملک میں کسی بھی حکومت نے مہنگائی کو کم نہیں کیا بلکہ اب حصہ اس میں ڈال کر چیزوں کو مہنگا کیا اور چلتی بنی، پانچ سال پہلے جو حکومت تھی اس کے دور میں چیزوں کی قیمتیں تین گنا تھیں اب بڑھ گئی ہیں۔ اب جو نئی حکومت آئے گی وہ مزید مہنگائی کرے گی بجلی کی قیمتیں آئے روز بڑھ جاتی ہیں مختلف قسم کے ٹیکس بجلی کے بل میں وصول کئے جارہے ہیں۔ بجلی اور گیس کا بل دیکھ کر ہمارے ہوش اڑ جاتے ہیں ہم جائیں تو کہاں جائیں۔ لارنس روڈ کے ایک تاجر محمد وسیم نے کہا کہ موجودہ حکومت نے ہمیں تسلیاں تو بہت دلائیں مگر مہنگائی میں تین گنا اضافہ کردیا، کھانے پینے کی اشیاءکی قیمتیں آسمانوں سے باتیں کرتی ہیں آٹے کا تھیلا کتنا مہنگا ہوگیا ہے اس نے مزید کہا اشیاءمہنگی ہونے کی وجہ سے لوگوں کی قوت خرید کم ہوگئی ہے اور ہمارے کاروبار پر برا اثر پڑا ہے لوگ چیزوں کی قیمتیں پوچھ کر آگے نکل جاتے ہیں۔ عابد مارکیٹ کے ایک تاجر زاہد حسین نے کہا جیسے جیسے حکومت کا وقت گزرتا ہے وہ چیزیں مہنگی کرتی جاتی ہے اور لوگ کم خریداری کرتے ہیں گھر میں ضروری اشیاءکی خریداری کے لئے لوگ سو بار سوچتے ہیں۔ موجودہ حکومت نے ہمیں جو لوڈشیڈنگ کا عذاب دیا ہے اس کی وجہ سے ہر چیز کی لاگت بڑھ گئی ہے جس کی وجہ سے گاہک ہم سے تکرار کرتے ہیں پاکستان میں جتنی بھی حکومتیں آئی ہیں وہ مہنگائی اور روزمرہ کی اشیاءکی قیمتوں میں اضافہ کرکے چلتی بنتی ہیں۔ مسلم ٹاﺅن کے رہائشی اویس بٹ نے کہا کہ بھائی کیا بات کرتے ہو حکومتوں کا بس نہیں چلتا وہ تو عوام کی کھال کھینچ لیں۔ ضرور کی اشیاءپر اتنا ٹیکس لگایا ہوا ہے کہ قیمتیں آسمانوں سے باتیں کرتی ةٰن کوئی بھی حکومت ایسی نہیں آسکتی جو کہ اشیاءکی قیمتیں کم کرے یا مہنگائی کو کم کرسکے۔ حکمرانوں کی اپنی عیاشیوں کے خرچے بھی عوام ہی ادا کرتے ہین اس ملک میں ایسا کوئی حکمران نہیں آیا جس نے غریبوں کی سنی ہو اور مہنگائی کو کم کیا ہوا۔ آئندہ حکومت اس سے بڑھ کر مہنگائی کرے گی۔

مزید : میٹروپولیٹن 1