ریلوے سٹیشن کے باہر تجاوزات کی بھر مار ، پارک میں نشئیوں کے ڈہرے

ریلوے سٹیشن کے باہر تجاوزات کی بھر مار ، پارک میں نشئیوں کے ڈہرے

لاہور( سروے :احسن حسن) ریلوے اسٹیشن کے اندر کی کہانی تو کسی سے پوشیدہ نہیں لیکن ایشیاءکے سب سے بڑے ریلوے اسٹیشن کے باہر کی دنیا بھی نرالی ہے جہاں کوئی قانون ہے نہ ضابطہ ایک بے ہنگم پن ہے جو چار سو ہاتھ پھیلائے کھڑا ہے ٹریفک کا بیٹر اغرق ، صفائی کی ابتر صورتحال ، تجاوزات کی بھر مار پارک میں نشئیوں کی یلغار، جعلسازوں دھوکہ بازوں اور مداریوں کے ڈیرے ،جیب تراشوں کی چاندی ٹھیکیدار کی مانی مانیاں ودھونس غرضیکہ ہر طرف افراتفری ظلم وزیادتی اور سادہ لوح شہریوں کی لوٹ مار کی ہرروز بحب کہانی رقم کی جارہی ہے ستم با لا ستم یہ کہ ریلوے نولکھا تھا نہ کی پولیس اور تین حفیہ اداروں کے سینکڑوں اہلکاروں سے دانستہ چشم پوشی انتظامی بے حسی کے منہ پر کھلا طما نچہ ہے اس ام کا انکشاف ”روزنامہ پاکستان “کی طرف سے لاہور ریلوے اسٹیشن کے باہر گزارے گئے ایک دن کے مشاہدے کے دوران ہوا تفصیلا ت کے مطابق گزشتہ” روز پاکستان“کی ٹیم کی طرف سے کیے گئے خصوصی سروے کے دوران شہریوں نے ریلوے انتظامیہ اور تجاوزات کے متعلق اپنے اپنے موقف کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ ایشیاءکے سب سے بڑے ریلوے سٹیشن لاہور میں مسافروں سمیت دوسرے شہریوں کو بہت سی شکایات در پیش ہیں علی اصغر ، کامران اور یاسر نے بتایا کہ ٹرینوں کا لیٹ ہوناروز کا معمول بن کررہ گیاہے کبھی ٹرین پلیٹ فارم پر موجود نہیں ہوتی اور اگر پلیٹ فارم پر موجود ہو تو انجن کا کوئی نہ کوئی مسئلہ بنا رہتاہے انتظامیہ کو کئی بار شکایات سے آگاہ کیا گیا پر کوئی مثبت ردعمل سامنے نہیں آیا شوکت ، اشفاق علی اور محمد رمضان نے بتایا کہ یہاں صفائی کے ناقص انتظامات ہیں جگہ جگہ گند اور کوڑے کے ڈھیر ،واش رومز اور صارف پانی کی عدم دستیابی مسافروں کے لئے ایک بہت بڑے مسئلہ کا باعث ہے اس کی وجہ سے طرح طرح کی بیماریاں جنم لیتی ہےں مگر انتظامیہ اس پر کسی بھی قسم کا ایکشن لینے سے قاصر ہے لاہور ریلوے اسٹیشن کے عین سامنے پارک میں نشئیوں نے ڈیرے جما رکھے ہیں جو کہ پارک میں آنے والے شہریوں کے لیے کسی اذیت سے کم نہیں حیران کن بات تو یہ ہے کہ اس پارک کے اردگرد کئی پولیس اہلکار بھی موجود ہیں مگر وہ ان نشئیوں کے خلاف کسی بھی قسم کی کوئی کاروائی نہیں کرتے ریلوے اسٹیشن کے باہر موجود چنگچی رکشہ والوں نے بتایا کہ ٹھیکیدار ان سے روزمرہ کی بنیاد پر اڈہ وصول کرتاہے جو کہ سرا سر زیادتی ہے انکا کہنا ہے تھا کہ فی چکر ان سے 30سے40روپے وصول کئے جاتے ہیں جسکی وجہ سے انکا روز گار کم ہو کر رہ گیا ہے ریلوے اسٹیشن کے باہر جگہ جگہ تجاوزات کی بھر مار ہے جو کہ ٹریفک کی روانی کو بے حد متاثر کرنے کا باعث بنتی ہیں جگہ جگہ بجاوزات اور سٹرکوں پر غیر قانونی رکشہ پارکنگ ٹریفک کےلئے ایک مسئلہ بن کر رہ گئے ہیں جس کی وجہ سے گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ جاتی ہیں، جو کہ انتظامیہ کی غفلت لا پرواہی اور ملی بھگت کا منہ بولتا ثبوت پیش کرتے ہیں

مزید : میٹروپولیٹن 1

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...