جعلی ڈگری کےس : اپوزیشن اور الےکشن کمیشن کے مابین خاموش زبانی معاہدہ طے پا گیا

جعلی ڈگری کےس : اپوزیشن اور الےکشن کمیشن کے مابین خاموش زبانی معاہدہ طے پا گیا

لاہور(شہبازاکمل جندران /انوسٹی گیشن سیل ) جعلی ڈگری کیس میں حکومت ، اپوزیشن اور الیکشن کمیشن کے مابین خاموش زبانی معاہدہ طے پاگیا ہے۔ الیکشن کمیشن ایک طرف تو ارکان پارلیمنٹ کو لکھا جانے والا خط واپس نہیںلے گا۔ تو دوسری طرف ڈگریوں کی تصدیق نہ کروانے والے ارکان کے خلاف کارروائی بھی نہیں کرے گا۔ بلکہ ایسے ارکان کو پرسنل ہیرنگ کے نوٹس ارسال کئے جائیں گے اور ایک کے بعد دوسرا پھر تیسرا نوٹس جاری کیا جائے گا۔تب تک اسمبلیوں کی مدت ختم ہوجائے گی۔ معلو م ہوا ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ڈائریکٹر لیگل ثنا اللہ ملک نے 7فروری کو پارلیمنٹ کے 249ارکان کو خط لکھا تھا کہ سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں الیکشن کمیشن تمام ارکان پارلیمنٹ کو ہدایات کی جاتی ہیں کہ وہ خط کی وصولی کے 15دنوں کے اندر ہائر ایجوکیشن کمیشن سے اپنی ڈگریوں کی تصدیق کروائیں خط میں مزید لکھا گیا ہے کہ یہ ارکان اپنی ڈگریاںہائر ایجوکیشن کمیشن سے تصدیق کروانے میں دانستہ تاخیر کررہے ہیں اور پندرہ یوم کے اندر اگر یہ ارکان پارلیمنٹ اپنی اصل اسناد یا ان کی فوٹو کاپی کے ذریعے ہائر ایجوکیشن کمیشن سے تصدیق نہیں کرواتے تو ان کی ڈگریوں کو جعلی تصور کیا جائے گا اور ان ارکان پارلیمنٹ کے خلاف فوجداری کارروائی بھی کی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ نے جون 2010ءمیں الیکشن کمیشن کو حکم دیا تھا کہ وہ ایسے تمام ارکان پارلیمنٹ کے خلاف کارروائی کرے جو بدعنوانی ، جعلسازی یا پھر دستاویزات کی ہیرا پھیری میں ملوث ہیں۔ اس پر الیکشن کمیشن نے ملک کے 1095ممبران پارلیمنٹ کو اپنی ڈگریوں کی تصدیق کا حکم دیا اور 749ممبران کی ڈگریاں درست قرارپائیں ، 55کی ڈگریاں جعلی قراردیدی گئیں اور 249نے تاحال اپنی ڈگریوں کی تصدیق نہیں کروائی تھی ۔لیکن 22فروری کو الیکشن کمیشن کی طرف سے دی جانے والی اس مدت کے خاتمے سے چند روز پہلے حکومت اور اپوزیشن اس خط کے حوالے سے ایک ہوگئی اور چیف الیکشن کمشنر کی قائد حزب اختلاف کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو نے منظر نامہ ہی بدل دیا ۔ ذرائع کے مطابق حکومت ، اپوزیشن اور الیکشن کمیشن کے مابین طے پانے والے اس زبانی معاہدے کے تحت الیکشن کمیشن ڈگریوں کی تصدیق نہ کروانے والے ارکان پارلیمنٹ کی ڈگریوں کو خط کے مطابق جعلی تصور کرنے اور ان ارکان کے خلاف فوجداری کارروائی کرنے کی بجائے ۔ ایسے ارکان کوذاتی شنوائی کے الگ الگ نوٹس ارسال کریں گے ۔ اور ایک کے بعد دوسرا پھر تیسرا نوٹس ارسال کیا جائیگا اور ہر نوٹس کے دوران سات سے 15یوم کو وقفہ رکھاجائے گا اور تب تک موجودہ پارلیمنٹ اپنی مدت پوری کرچکے گی ۔ جس کے بعد صورت حاصل تبدیل ہوجائے گی ۔

خاموش معاہدہ

مزید : صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...