شرافت ، سیاست اور عدالت کا لبادہ اوڑھے ظلم کو بے نقاب کردیا ، طاہر القادری

شرافت ، سیاست اور عدالت کا لبادہ اوڑھے ظلم کو بے نقاب کردیا ، طاہر القادری

ملتان(خصوصی رپورٹر‘ سٹاف رپورٹر)تحریک منہاج القرآن اورپاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ہے کہ جنوری اور فروری کے دو ماہ میں میں نے ظلم وجبر کے کئی نظام دیکھے کسی نے اپنے چہرے پر شرافت کا نقاب اوڑ ھ رکھا تھا اورکسی نے سیاست کا تو کسی نے عدالت کا نقاب اوڑ ھ رکھا تھا لیکن میں نے ایک ایک کرکے سب کو ننگا کرکے رکھ دیا ہے میں جمہوی طبعیت کا آدمی تھا اور ہوں میں نے پہلے آئین کا دروازہ کھٹکھٹایا اوراس کے بعد میں نے قانون کے دروازے پر دستک دی اوراندر جھانک کر دیکھا تو پتہ چلا کہ باہر دروازے پر کسی اور کے نام کی تختی لگی ہوئی تھی اور اندر دھند ا کچھ اور تھا ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز سپورٹس گراو¿نڈ ملتان میں بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا ڈاکٹر طاہر القادری نے اپنے خطاب میں مزید کہاکہ آج سپریم کورٹ آف پاکستان کہہ رہی ہے کہ قرضے لینے والے سیاست دانوں کی فہرست شائع کریں اوریہی بات جب میں نے سپریم کورٹ میں کہی تو مجھے کہا گیا کہ آپ دسمبر میں یہ پوچھنے کیوں آگئے اوراب میں سپریم کورٹ سے یہ بات پوچھتا ہوں کہ جو سپریم کورٹ 10سال سے بیٹھی ہے اسے یہ خیال 10 سال پہلے کیوں نہیںآیا اور آج انہیں یہ بات کیوں یاد آرہی ہے اب تو الیکشن قریب اور حکومت اپنی مدت پوری کرنے والی ہے لیکن یہاں اب بھی پیمانے مختلف اور دوہرے معیار ہیں اور ہم ایسے دوہرے معیار کو ہر گز نہیں چلنے دیں گے پاکستان کی عدالتوں میں اس وقت 16لاکھ کیسز التواءکا شکار ہیں انہوں نے مزید کہاکہ یہاں سرمائے سے پارلیمنٹ کوبھی خریدا جاتا ہے اور انصاف کو بھی لیکن ایک بات میں کہتا ہوں کہ سرمائے سے ہر چیز خریدی جاسکتی ہے لیکن اس ملک کے غریب عوام کو ہرگز نہیں خریدا جاسکتا انہوںنے اپنے خطاب میںمزید کہاکہ ڈاکوو¿ں اور لٹیروں کو نااہل قرار دینے کےلئے آئین اور قانون کا دروازہ میں نے کھٹکھٹایا ۔ آرٹیکل 62اور 63کا سبق ہم نے پڑھایا پھرآرٹیکل 218 کا سبق بھی ہم نے پڑھایا دہشت گردی کے راج کے ملک میں ہم 4روز سے زائد وقت تک ننگے آسمان کے نیچے بیٹھے رہے اورایک شیشہ یا ناخن تک نہ ٹوٹا اوربخیر وعافیت سب کواپس گھروں کو بھیجا اور ہم نے پور یدنیا کو بتایا کہ پاکستانی قوم عافیت اورسلامتی کی عملدار قوم ہے ہماری تاریخ بتاتی ہے کہ جو حق اورسچ کی بات کرتا ہے جو غریب اور پسے ہوئے طبقہ کو طاقتور بنانے کی بات کرتا ہے تو اسے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور یہی بات جب میں نے کی عوام کو ان کے حقوق دلوانے کےلئے سڑکوں پر نکلا اس ملک میں عدل و انصاف ووسائل کی منصفانہ تقسیم کی بات کی تو مجھے کہاگیا کہ آپ غیرملکی ہیں ۔ کیا ملکی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اس ملک کے غریب عوام کی دولت کولوٹا اور سوئزرلینڈ کے بینکوں میں دولت جمع کرادی جو ملک کی دولت لوٹ کر باہر لے جائیں وہ تو یہاں ملکی ہیں اور جوباہر سے دولت لے کر پاکستان آئے وہ غیر ملکی ہے ہم اس دوہرے معیار کو ختم کریں گے لیکن انہیں بتا دینا چاہتا ہوں کہ میں اکیلا نہیں ہوں میرے ساتھ میرا اﷲ اوراس کا رسول اوراس ملک کے 18کروڑ عوام ہیں اس ملک کے غریب ، کسان ، ہاری ، مزدور ، جوان ، بیٹیاں ، مائیں سب میرے ساتھ ہیں میں ان بیٹیوں کی جنگ لڑ رہا ہوں جن کے سر سے دوپٹے چھینے گئے میں ان بیٹوں کی بات کر رہا ہوں جن کے ہاتھوں میں ڈگریاں ہیں لیکن ان سے روزگار بھی چھیناگیا پاکستان کی 65سالہ تاریخ میں ہمیشہ طاقت اشرافیہ ہی اقتدار پرقابض رہا ہے اور ان طاقتور اشرافیہ نے عوام کو غربت دی ، بے روزگاری ، مہنگائی اورفاقے دیئے خود کشی اور خود سوزی دی ۔ عزت فروشی پر مجبور کیا اس کے علاوہ انہوں نے عوام کو کچھ نہیں دیا انہوں نے کہاکہ ہم نے عوام کی طاقت سے صدر ، وزیر اعظم ، وزراءاعلیٰ ، وزیروں ، مشیروں اور سرکاری افسروں کی عیاشیوں کو ختم کرنا ہے اوران کا احتساب کریں گے تاکہ اس ملک کے غریب آدمی کی زندگی آسان ہو بدقسمتی کا تو یہ عالم ہے کہ نہری پانی کی تقسیم بھی منصفانہ نہیں ہے جو بڑا طاقتور وڈیرہ اور جاگیر دا ر ہے صرف اسی کی فصلوں کو پانی ملتا ہے اور جو غریب کاشتکار ہے اس کے لب اور زمین دونوں خشک ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ ان پڑھ اورکرپٹ لیڈروں نے زرعی مارکیٹنگ کاکوئی نظام ہی نہیں دیا آج بھی ملک کے 3کروڑ بچے تعلیم جیسی بنیادی سہولت سے بھی محروم ہیں ملک کے کروڑوں عوام علاج معالجہ کی سہولت سے محروم ہیں اور ہمارے مسائل کا حل ایسے نظام میں نہیں ہے جس کی جڑیں حکمرانوں نے کرپشن سے سیراب کی ہیں اس انتخابی ، حکومتی اور سیاسی نظام کو الٹنا ہوگا حکمرانوں کی بے حسی کی وجہ سے عوام کی شناخت ختم ہوگئی ہے مذہب میں انتہاپسندی آگئی ہے اور عوام تبدیلی سے بھی مایوس ہوگئی ہے مہنگائی نے عوام کا جینا دو بھر کردیا ہے ڈاکٹر طاہر لقادری نے مزید کہاکہ جن لوگوں نے کرپشن سے ملک کوتباہ کیا اب پھر وہی پہلوان آئندہ آنے والے 5برسوںکےلئے اقتدار پر قابض ہونے کی ورزش کررہے ہیں ۔ اگر یہی لوگ دوبارہ آگئے تو پھر نہ تو ملک بچے گا اور نہ ہی سلطنت ۔ انہوں نے کہاکہ آج الیکشن کمیشن باربار کہہ رہا ہے کہ انہیں امیدواروں کی سکروٹنی کےلئے30دن درکار ہیں اور ملک کی دونوں بڑی جماعتوں نے اس بات پر آپس میں سرجوڑ لئے ہیں یہ سبق بھی انہیں ہم نے ہی پڑھایا ہے آج الیکشن کمیشن نادہندہ اور کرپٹ لوگوں کو الیکشن سے باہر کرنے کا کہہ رہا ہے جن لوگوں نے قرضے معاف کرائے ہیں انہیں ناہل کرانے کی باتیں ہورہی ہیں یہ سبق بھی ہم نے ہی پڑھایا جعلی ڈگریوں والوں کے خلاف ہم نے یہی بات کی تھی لیکن یہی ساری باتیں جب میں نے کی تھیں تو کہاگیا کہ آپ الیکشن ملتوی کرنے کی باتیں کررہے ہیں اور آج جب یہی بات الیکشن کمیشن کررہا ہے تو یہ فتویٰ الیکشن کمیشن پر صادر کیوں نہیں ہوتا انہوں نے کہاکہ آج کا دشمن بڑا عیار ، مکار اورچالاق ہے پراپیگنڈہ کی مشینری اس کے ہاتھ میں ہے لیکن ہم بتادینا چاہتے ہیں کہ کسی کی سازش اور پراپیگنڈہ سے عوام کے حوصلے پست نہیں ہوں گے اورفتح عوام کی ہی ہوگی بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ دوحصوں میں تقسیم ہوچکا ہے ایک طبقہ وہ ہے جس کے پاس سب کچھ ہے اور دوسرا طبقہ وہ ہے جس کے پاس کچھ بھی نہیں بچا اورطاقت ورطبقہ نہیں چاہتا کہ غریب آدمی سراٹھائے آج کے سیاست دانوں کا بھی ایسا حال ہے کہ اپنے آقاءکی غلامی اوراسے خوش کرنے کےلئے ساری جماعتوں کے وڈیرے ایک طرف ہوگئے ہیں اورملک کے غریب عوام ایک طرف ہوگئے ہیں اور اب وہ وقت دور نہیںہے جب وڈیروں کی جڑیں کٹ جائیں گی اس ملک کے طلبہ اورجوان میری امید ہیں اور آج کے نوجوانوں کا مستقبل ظالموں ، جابروں ، غاصبوں اور استحصالی طبقوں کے ہاتھ میں ہے ان لٹیروں نے نوجوانوں کے مستقبل کو چھین لیا ہے بدقسمتی سے اقتدار ، پارلیمنٹ ، جمہوریت ، سیاست اورقانون سمیت تمام اداروں پر بھی انہی طاقتوروں اورغاصبوں کا قبضہ ہے قائد اعظم محمدعلی جناح ؒکے بعد 63 برسوں کے دوران اس ملک پرظالموں اوراستحصالی اورمفاد پرست قوتیں غریبوں کو بے گھر ہی کرتی آئی ہیں اور ہم ان بے گھر لوگوں کو آباد کریں گے انہوں نے کہاکہ ہم چاہتے ہیں کہ اس ملک کو حقیقی معنوں میں قائد اعظم ؒ کا پاکستان بنائیں گے وہ ملک جس کا دفاع ناقابل تسخیر ہو شہریوں کی جان ، مال اورعزت محفوظ ہو اس ملک میں اقلیتوں کو مکمل حقوق اورعافیت ملے تنگ نظری ،دہشت گردی ، غربت اور مہنگائی کا وجود نہ ہو ہم ایسا ملک چاہتے ہیں جس میں لوگوں کوبھتہ دے کر اپنی زندگی کی بھیک نہ مانگنا پڑے ۔

مزید : صفحہ آخر