عوامی نمائندگی قانون ، عام انتخابات میں امیدواروں کی سکرونٹی کےلئے مجوزہ کمےٹی کا قیامخطرے میں پڑ گیا

عوامی نمائندگی قانون ، عام انتخابات میں امیدواروں کی سکرونٹی کےلئے مجوزہ ...

لاہور (انوسٹی گیشن سیل ) اگلے عام انتخابات میں امیدواروں کی سکروٹنی کے لیے نیب، ایف بی آر ، اسٹیٹ بینک ،نادرا اور الیکشن کمیشن پر مشتمل کمیٹی کے قیام کی راہ میں عوامی نمائندگی کا قانون رکاوٹ ہوگا۔ مذکورہ قانون کے تحت نہ صرف لازم ہے کہ سکروٹنی ریٹرننگ افسر کرے گابلکہ قومی او ر صوبائی اسمبلیوںکے امیدواروں کے لیے لازم ہے کہ وہ کاغذات نامزدگی کے ہمراہ اپنے اور اپنی فیملی کے نادہندہ نہ ہونے اور اپنی دیگر دستاویزات و اسناد اور شناختی کارڈ کے درست ہونے کا سرٹیفکیٹ جمع کروائیں۔ قانو ن میں سکروٹنی کے عمل کے لیے کسی کمیٹی کے قیام کی گنجائش کا ذکر موجود نہیں ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ الیکشن کمیشن نے آئندہ عام انتخابات کے لئے نیب، ایف بی آر ، اسٹیٹ بینک ،نادرا اور الیکشن کمیشن پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ انتخابات میں حصہ لینے کے خواہشمند امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی سکروٹنی کی جائے۔لیکن خدشہ ہے کہ یہ کمیٹی قائم نہیں ہوسکے گی اور عوامی نمائندگی کے قانون مجریہ 1976کا سیکشن 14اور سیکشن12اس کمیٹی کے قیام کی راہ میں رکاوٹ بن جائیں گے۔ مذکورہ قانون کے سیکشن 14کے تحت امیدوار کے کاغذات نامزدگی کی سکروٹنی ریٹرننگ افسر کرتا ہے جبکہ قانون ہذا کے سیکشن 12(2)(a)کے تحت ہر امیدوار کے لیے لازم ہے کہ وہ کاغذات نامزدگی کے ہمراہ ایک سرٹیفکیٹ جمع کروائے کہ وہ آئین کے آڑٹیکل 62اور63پر پور ااترتا ہے۔ اسی طرح سیکشن 12(2)(c)کے تحت ہرامیدوار اپنے کاغذات کے ہمراہ سرٹیفکٹ جمع کروائے گا کہ وہ کسی بھی بینک یا مالیاتی ادارے کا 20لاکھ روپے یا اس سے زائد کا نادہندہ نہیں ہے۔ سیکشن 12(2)(d)کے تحت ہرامیدوار یہ سرٹیفکیٹ بھی جمع کروائے گا کہ اس کا گھر یا اس کے بیوی بچے بھی نادہندہ نہیں ہیں۔سیکشن 12(2)(e)کے تحت امیدوار اپنی تعلیمی اسناد ، شناختی کارڈ، نیشنل ٹیکس نمبر وغیرہ کے حوالے سے سرٹیفکیٹ جمع کروائے گا اور سیکشن 12(2)(f) کے تحت ہر امیدوار اپنے اثاثہ جات کے حوالے سے سرٹیفکیٹ جمع کروائے گا۔مذکورہ سیکشن میں اس بات کا ذکر موجود نہیں ہے کہ الیکشن کمیشن سکروٹنی کے لیے متذکرہ بالا پانچ محکموں کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے سکتا ہے۔اور اس بنیاد پر خدشہ ہے کہ الیکشن کمیشن کی مجوزہ کمیٹی کا نہ صرف وجود خطر ے میں پڑ سکتا ہے بلکہ یہ کمیٹی قائم کی گئی تو کسی بھی امیدوار کی طرف سے چیلنج کردی جائے گی۔ البتہ مذکورہ قانو ن کے سیکشن 14اور سیکشن12کی پارلیمنٹ سے ترمیم کے بعد ایسی کمیٹی تشکیل دی جاسکتی ہے۔

کمیٹی /رکاوٹ

مزید : صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...