حسین پاکستان اور بھارت میں مماثلت، دونوں کی حکومتیں سیکنڈلوں کی زد میں!

حسین پاکستان اور بھارت میں مماثلت، دونوں کی حکومتیں سیکنڈلوں کی زد میں!

برصغیر کے دونوں ملک پاکستان اور بھارت انگریز کی غلامی سے ایک ہی روز آزاد ہوئے۔ دونوں ممالک ماضی میں ایک ملک ہونے کے حوالے سے ایک دوسرے جیسے ہی ہیں اور لوگ بھی ویسے ہیں۔ تاہم بھارت کے بارے میںیہ کہا جاتا رہا کہ جمہوریت کے باعث یہ ملک پاکستان کی نسبت بہتر ہے لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تمام صفات کے باوجود آج بھی بھارت ہمارے ملک کے حالات کے حوالے سے بعض امور میں یکسانیت کا حامل ہے ۔ معروف بھارتی صحافی کلدیپ نائر نے اپنے تازہ ترین کالم میں من موہن سنگھ کی مخلوط حکومت کا جو حال تحریر کیا ہے وہ بالکل پاکستان کی مخلوط حکومت جیسا ہے۔ بھارت بھی سکینڈلوں کی زد میں ہے اور پاکستان میں بھی کرپشن کرپشن کا شور مچایا جا رہا ہے۔ بھارت میں ہیلی کاپٹروں کی خریداری کا معاملہ ہے تو پاکستان میں اوگرا اور این ایل سی جیسے کئی سکینڈل سپریم کورٹ کے توسط سے منظر عام پر آ چکے ہیں۔ من موہن سنگھ کی حکومت سے اتحادی جماعتیں الگ ہو رہی ہےں تو یہاں بھی پیپلزپارٹی کے ساتھ (ق) لیگ رہ گئی ہے۔ اس کے باوجود بھارت اور پاکستان میں فرق ہے اور وہ یہ ہے کہ وہاں وقت سے پہلے انتخابات کرائے جا سکتے ہیں اور بھارت کا الیکشن کمیشن اختیارات کے حوالے سے اس کی اہلیت بھی رکھتا ہے کہ نئے انتخابات کرا کے جیتنے والے کو حکومت بنانے کا موقع دے دے۔

بھارت کے مقابلے میں پاکستان میں زیادہ تر فوج حکمران رہی اور اب سکینڈلوں کی ماری، حکومت نے اگر پانچ سال پورے کر لئے تو یہ بھی عسکری قیادت ہی کی مہربانی ہو گی ،اس میں ہمارے سیاسی راہنماﺅں کے کمال کو دخل نہیں ہو گا جو جمہوریت کی بات تو کرتے ہیں لیکن جمہوری عمل سے گریزپا رہتے ہیں۔ کسی وقت ایسا بھی ہوتا ہے کہ یہ متحد نظر آتے ہیں لیکن اُس وقت جب جعلی ڈگریوں کا سوال آئے اور الیکشن کمشن کا خط زیر غور ہو۔

موجودہ دور کو یہ داد دے دیں کہ حزب اقتدار اور حزب اختلاف نے چیف الیکشن کمیشن کے تقرر پر اتفاق رائے دکھایا اور اب مرحلہ نگران وزیراعظم کا ہے اور پھر اختلافی منظر بنا ہوا ہے، اس کے باوجود یہ تاثر بھی موجود ہے کہ یہاں بھی اتفاق رائے ہی سامنے آئے گا۔ بہرحال گزارش یہ ہے کہ سب لوگ مانتے ہیں کہ جمہوریت بہترین نظام اور بہترین انتقام بھی ہے اور جمہوریت ہی سے ملک کا استحکام بھی وابستہ ہے، اس کے باوجود یہ حضرات ایسے معاملات میں الجھتے ہیں جن سے تاثر بنتا ہے کہ شاید ان کو جمہوریت راس نہیں آتی۔ انہی کے طرز عمل، کرپشن کے شور اور سیکنڈلوں کی وجہ سے یہ تاثر پھیلا کہ جمہوری بساط لپیٹی جا رہی ہے اور تین چار سال کے لئے ٹیکنو کریٹ حکومت آنے والی ہے۔ اس سلسلے میں کئی عوامل کا ذکر ہے ۔ ان میں ایک طاہر القادری کی آمد بھی ہے، ان کے غبارے سے تو حکومتی حکمت عملی نے ہوا نکال دی تاہم اتنا ضرور ہوا کہ ان کی کہی گئی اور دی گئی کئی تجاویز الیکشن کمیشن نے منظور کرلیں۔ اب سب سے بڑا کام یہ ہوا کہ سٹیٹ بینک نے قرض نادہندگان کی فہرستیں الیکشن کمیشن کو مہیا کرنے کا یقین دلایا ہے ۔سٹیٹ بینک کے اعلامیہ کے مطابق نادہندگان کو یہ موقع دیا گیا ہے کہ وہ مقررہ تاریخ تک اپنے حسابات درست کرالیں یعنی ادائیگیاں کر دیں ورنہ فہرست الیکشن کمیشن کے حوالے کر دی گئی تو پھر ردو بدل نہیں ہو گا اور یہ فہرست کاغذات کی جانچ پڑتال کے وقت کام آئے گی اور نادہندگان کے کاغذات مسترد ہو جائیں گے ۔اس کے ساتھ ہی نادرا او ایف بی آر والے بھی یہ یقین دہانی کرا چکے ہیں کہ ان کی طرف سے بھی لحاظ نہیں ہو گا، البتہ یہ بات اچھی نہیں کہ جن حضرات کے خلاف مقدمات زیر سماعت ہوں گے وہ بھی زد میں آئیں گے۔ قانون کی رو سے ہر شخص بے گناہ ہے، جب تک جرم ثابت نہ ہو جائے۔ اس پر غور کی ضرورت ہے۔

اب فوج کے ترجمان کی طرف سے واشگاف الفاظ میں ہر نوع کی افواہوں سے لاتعلقی ظاہر کردی گئی اور جمہوریت کے ساتھ ساتھ صاف اور شفاف انتخابات کی حمایت کی گئی ہے، یوں عسکری قیادت نے ایک بار پھر ٹیکنو کریٹ والوں کو منہ توڑ جواب دیا۔ ہم مسلسل اسی یقین کا اظہار کرتے چلے آ رہے ہیں کہ عام انتخابات لازماً ہوں گے کہ حزب اقتدار ، حزب اختلاف اور ذمہ دار ادارے سبھی اس کے حق میں ہیں اور بادل چھٹ بھی رہے ہیں۔ تاہم لازمی امر یہ ہے کہ کراچی اور کوئٹہ کے حالات کو سنبھالا جائے۔ عدالت عظمیٰ کی کوششوں کو انتقام جاننے کا مشورہ دینے والوں کی بجائے عدالت کی تجاویز اور رپورٹ کی روشنی میں موثر اقدامات کئے جائیں۔ اس امر کا بھی خیال رکھا جائے کہ متحدہ الگ ہوئی ہے اور پرانا بلدیاتی نظام بحال ہوا ہے تو حالات میں بہت بڑی تبدیلی ہوئی ہے، اس کے تمام اسرار ورموز پر غور اور ٹھنڈے دل سے فیصلے لازمی ہیں۔ وقت بہت کم ہے۔ انتخابات کے لئے ساز گار ماحول بنانا ضروری ہے۔ محاذ آرائی ترک کرکے جمہوری انداز اور طرز عمل اختیار کیا جائے۔ نگران حکومتوں کا فیصلہ اختلافات کی بجائے چیف الیکشن کمیشن کے تقرر کی طرح طے کر لیا جائے۔

مزید : صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...