سپریم کو رٹ کا خصوصی عدالت کو شاہ زےب قتل کیس کا فیصلہ 7روز میں کرنے کا حکم

سپریم کو رٹ کا خصوصی عدالت کو شاہ زےب قتل کیس کا فیصلہ 7روز میں کرنے کا حکم

اسلام آباد (این این آئی) سپریم کورٹ آف پاکستان نے انسداد دہشتگردی عدالت کو روزانہ سماعت کی ہدایت کرتے ہوئے شاہ زیب قتل کیس سات دن میں نمٹانے کا حکم دےا ہے جبکہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس مسٹر جسٹس افتخار محمد چودھری نے ایف آئی اے کی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایف آئی اے ملک میں جرائم کو فروغ دے رہی ہے ¾کراچی انسانی سمگلنگ کا گڑھ بنا ہوا ہے، جرائم بے پناہ بڑھ رہے ہیں ¾ایف آئی اے کی کارکردگی معیار کے مطابق نہیں ¾ قانون کی نظر میں کوئی وی آئی پی نہیں ہوتا،ملزم ایف آئی اے کی آنکھوں میں دھول جھونک کر فرار ہوا ¾ دہشتگرد بھی ملک سے فرار ہو سکتے ہیں ¾ڈائریکٹرایف آئی اے سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل نہیں کر سکتے تووضاحت پیش کریں۔جمعہ کو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں تین رکنی بنچ شاہ زیب قتل کیس کی سماعت کی۔ سماعت شروع ہوئی تو ڈی آئی جی شاہد حیات نے عدالت کو بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں ملزم کے فرار ہونے کی ویڈیو نہیں جس پر جسٹس شیخ عظمت سعید استفسار کیا کہ کیا ملزم کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے جہاز میں سوار کرایا گیا۔ ڈائریکٹر(لیگل)ایف آئی اے نے بتایا کہ وی آئی پی کلچر کی وجہ سے ایسا ہو رہا ہے، ایک وزیرکے ساتھ کئی لوگ وی آئی پی لاونج سے گزر جاتے ہیں۔ چیف جسٹس نے نے کہاکہ قانون کی نظر میں کوئی وی آئی پی نہیں ہوتا،ملزم ایف آئی اے کی آنکھوں میں دھول جھونک کر فرار ہوا، اس طرح تو دہشت گرد بھی ملک سے فرار ہو سکتے ہیں، ڈائریکٹرایف آئی اے سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل نہیں کر سکتے تووضاحت پیش کریں، ایف آئی اے کی سکیورٹی اس قدرکمزورہے کہ ملزمان ایئر پورٹ سے فرارہوجاتے ہیں،اس وقت پورا ملک دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے، ایف آئی اے کی کارکردگی معیار کے مطابق نہیں۔ ملزم نے رضا کارانہ طور پر خود کو حوالے کیا، پولیس کا کوئی کردار نہیں، عدالتی مداخلت پر مختلف مقدمات کے ملزمان بیرون ملک سے واپس لائے گئے۔ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ شاہ رخ جتوئی کے پاسپورٹ پرایگزٹ اسٹمپ ہی نہیں لگی، شاہ رخ جتوئی جعل سازی سے دبئی فرار ہوا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے دیانتداری سے سچ بتا دیا مگر آپ کی کارکردگی پر تو سوالیہ نشان آ گیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ کراچی انسانی سمگلنگ کا گڑھ بنا ہوا ہے، کراچی میں جرائم بے پناہ بڑھ رہے ہیںجرائم بڑھ چکے ہیں، ان کا سدباب کرنے والا کوئی نہیں، دو ماہ گزر گئے اب تک ملزم فرار ہیں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ کراچی ایئرپورٹ پر جو حشر ہوتا ہے، سب کو پتہ ہے، کراچی میں لوٹ مار ہوتی ہے اسی لئے افسران وہاں تبادلے کراتے ہیں، مجرموں کے فرار اور ایئرپورٹ پر جعل سازی روکنے کیلئے کیا اقدامات کئے گئے ہیں ؟چیف جسٹس نے کہا کہ ایف آئی اے ملک میں جرائم کو فروغ دے رہی ہے، ملک میں آگ لگی ہوئی ہے اور متعلقہ حکام مزے لے رہے ہیں،جن افسروں نے شاہ رخ کو فرار کرایا ان کی جلد نشاندہی ہونی چاہیے۔ چیف جسٹس نے شارخ جتوئی کے بیرون ملک فرار کی سی سی ٹی وی فوٹیج سے متعلق ایف آئی اے کے جواب کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ ڈی جی ایف آئی اے تین دن میں جواب پیش کریں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ شاہ رخ کو فرار کرانے والے اہلکاروں کو ابھی تک پکڑا نہیں جاسکا۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے محمد مالک نے بتایا کہ شاہ رخ کو ملک سے فرار کرانے میں پی آئی اے کا پروٹوکول عملہ ملوث ہے۔ سندھ پولیس کو سی سی ٹی وی فوٹیج مل گئی ہے، وعدہ کرتا ہوں ذمہ داروں کو جلد گرفتار کر لوں گا ۔جسٹس خلجی عارف نے استفسار کیا کہ آپ نے ایسی جعل سازیوں کوروکنے کےلئے کیا اقدامات کیے ہیں جس پر ڈائریکٹرایف آئی اے نے کہا کہ ان کا محکمہ ائرپورٹ پرسٹاپ لسٹ متعارف کروارہے ہیں ملزمان ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے بچ جائیں توسٹاپ لسٹ سے پکڑے جائیں گے۔انہوں نے استدعا کی کہ ایئرپورٹ حکام کوسی سی ٹی وی فوٹیج ایف آئی اے کے حوالے کرنے کی ہدایت کی جائے ۔ چیف جسٹس نے اظہاربرہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا اب ایف آئی اے کا کام عدالتیں کریں گی۔ بعد ازاں عدالت عظمی نے اپنے حکم میں کہا کہ شاہ رخ نے اے این ایف، کسٹمز ، امیگریشن ، اے ایس ایف سمیت تمام حکام کو چکمہ دیا جبکہ شاہ رخ کو فرار کرانے والوں میں سے صرف دو افراد کو گرفتار کیا گیا۔

مزید : صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...