بلو چستان مےں 14مارچ سے پہلے صوبائی حکومت بحال کردی جائیگی ،فاروق نائیک

بلو چستان مےں 14مارچ سے پہلے صوبائی حکومت بحال کردی جائیگی ،فاروق نائیک

اسلام آباد(این این آئی)وفاقی وزیرقانون فاروق ایچ نائیک نے کہا ہے کہ بلوچستان میں14 مارچ سے پہلے گورنرراج کا حکم نامہ منسوخ کر کے صوبائی حکومت بحال کر دی جائےگی ¾صوبائی حکومت کی بحالی نگران سیٹ اپ کے قیام کا آئینی تقاضہ ہے، نئے وزیر اعلی کا انتخاب صوبائی اسمبلی کرےگی جمعہ کو اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فاروق ایچ نائیک نے کہاکہ بلوچستان میں گورنر راج کے نفاذ کے احکامات منسوخ کیے جانے کے تمام اقدامات آئین کے تحت کئے جائیں گے، صوبائی حکومت کی بحالی نگران سیٹ اپ کے قیام کا آئینی تقاضہ ہے، نئے وزیر اعلی کا انتخاب صوبائی اسمبلی کرے گی۔ایک سوا ل کے جواب میں فاروق ایچ نائیک نے کہاکہ وفاق اورصوبوں میں حکومت اپنی مدت پوری کرنے جارہی اور بلوچستان میں بھی عبوری حکومت کا قیام عمل میں لانا ہے جس کےلئے آئینی طورپر قائد ایوان اورقائد حزب اختلاف کا ہونا لازمی ہے ان دونوں کی باہمی مشاورت سے ہی وہاں نگراں سیٹ اپ آئےگا۔ایک اور سوال کے جواب میں وفاقی وزیرقانون فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ بلوچستان میں قائد ایوان کے لئے کوئی نام زیرغورنہیںایک اور سوال کے جواب میں فاروق ایچ نائیک نے کہاکہ گورنر راج کی مدت دو ماہ کے لئے ہے ¾ پارلیمنٹ سے گورنر راج کی توسیع نہیں کرائی جائے گی۔ واضح رہے کہ بلوچستان میں گورنر راج کا نفاذ دس جنوری کو کوئٹہ میں دھماکوں اور ہونے والے جانی نقصان پر ہزارہ برادری کے شدید احتجاج کے بعد کیا گیا۔کوئٹہ اور ملک بھر میں ہونے والے احتجاج کے بعد وزیراعظم خود کوئٹہ پہنچے وفاقی وزرا اور ہزارہ کمیونٹی کے نمائندوں کے مذاکرات میں گورنر راج نافذ کرنے کا فیصلہ کے بعد دھرنے ختم کیے گئے۔گورنر راج کے نفاذ پر جمعیت علمائے اسلام اسلام ف اور دیگر جماعتوں نے احتجاج کیا اور صوبائی حکومت کی بحالی کےلئے اسلم رئیسانی کے استعفے کی پیش کش کی گئی، ابتدا میں حمایت کرنے والی عوامی نیشنل پارٹی نے بھی نگراں حکومت کے قیام کیلئے صوبائی حکومت کی بحالی کو لازمی قرار دیا ۔

فاروق نائیک

مزید : صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...