دنیا دہشت گردی کیخللاف جنگ ہاررہی ہے صدر زرداری

دنیا دہشت گردی کیخللاف جنگ ہاررہی ہے صدر زرداری

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک، آئی این پی) صدرمملکت آصف علی زرداری نے بین المذاہب ہم آہنگی کانفرنس سے خطاب میں کہا ہے کہ مذہب کو مسلمانوں اور غیرمسلموں کے خلاف استعمال کیاجارہا ہے۔ انتہا پسندوں کو استعمال کرنے والے ان پر قابو نہیں رکھ سکتے کیونکہ ان کا اپنا ایجنڈا ہے۔ صدر زرداری نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہم انتہا پسندوں کو ان کا ایجنڈا مسلط نہیں کرنے دیں گے۔ اسلام میں خودکشی حرام ہے۔ صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان سمیت پورا خطہ انتہا پسندی سے متاثر ہے، دنیا دہشتگردی کے خلاف جنگ ہار رہی ہے۔ علاوہ ازیں ایوان صدر میں رحمن ملک نے صدر سے ملاقات کی جس میں ملک میں امن وامان کے حوالے سے تبادلہ خیال کیاگیا۔

صدر آصف علی زرداری نے وزیر داخلہ کو دو ٹوک اور واضح الفاظ میں تمام کالعدم تنظیموں کے خلاف بلا امتیاز اور سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر سخت ترین کارروائی کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں امن و امان کی بحالی کو یقینی بنانے کیلئے شرپسند عناصر کو عبرت کی مثال بنایا جائے‘ وزارت داخلہ اور اس کے ادارے صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ وزیرداخلہ رحمن ملک نے ایران کے دورے کے حوالے سے صدر کو آگاہ کیا اور انہیں بتایا کہ ایران کے دورے کے دوران انہوں نے صدر زرداری کا پیغام ایرانی صدر کو دیا تھا اور واپسی پر جو جواب ایرانی صدر نے صدرآصف علی زرداری کو بھیجا اس حوالے سے آگاہ کیا۔ اس کے علاوہ پاک ایران سیکیورٹی کے معاہدے کے حوالے سے بھی تفصیلی بات ہوئی اور ساتھ ساتھ بلوچستان اور کراچی میں امن وامان کی صورتحال بھی زیر بحث آئی ۔ وزیرداخلہ نے صدر کو بتایا کہ اس وقت لشکر جھنگوی سمیت کالعدم تنظیموں کے خلاف آپریشن شروع ہوچکا ہے جبکہ صدر نے وزیرداخلہ کو واضح احکامات جاری کرتے ہوئے کہا کہ جتنی بھی کالعدم تنظیمیں ہیں ان کی سیاسی وابستگی کو ایک طرف رکھ کر انکے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہ کی جائے اور امن وامان کی صورتحال کی بحالی کو ترجیح دی جائے ۔ اس موقع پر انچارج وزیر برائے قومی ہم آہنگی ڈاکٹر پال بھٹی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزارت قومی ہم آہنگی کے قیام سے ملک میں ہم آہنگی اور بین المذاہب مکالمے کے فروغ کے لئے کئی اہم اقدامات اٹھائے گئے ہیں اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے مستحق طالب علموں کو چار ہزار سے زائد وظائف دیئے گئے‘ قومی و صوبائی اسمبلیوں میں اقلیتوں کے لئے نشستوں کا اضافہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کوئی مذہب تشدد یا انتہا پسندی کا درس نہیں دیتا‘ ہمیں بانی پاکستان کے تصورات کے مطابق پاکستان کے شہری کی حیثیت سے پرامن طور پر مل جل کر رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ تمام مذاہب پرامن بقائے باہمی پر یقین رکھتے ہیں۔ سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس (ر) رانا بھگوان داس نے کہا کہ یکجہتی اور برداشت کے ذریعے انتہا پسندی اور دہشتگردی کے چیلنجوں سے نمٹا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین العقیدہ ہم آہنگی کانفرنس کا انعقاد خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقت کی اشد ضرورت ہے کہ باہمی اخوت ‘ برداشت اور احترام کی روایات کو پروان چڑھایا جائے۔ ملک نازک دور سے گزر رہا ہے۔ بین العقیدہ ہم آہنگی کے فروغ کے لئے عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمان نے کانفرنس کا اعلامیہ پڑھ کر سنایا جس میں معاشرے کے مختلف طبقات میں باہمی تعاون و مفاہمت کی اشد ضرورت پر زور دیا گیا تاکہ معاشرے میں بے اعتمادی‘ تصادم اور فرقہ واریت کا خاتمہ ہو سکے۔ اعلامیے میں مذاہب عالم کے درمیان پرامن بقائے باہمی کے لئے اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کی حمایت کرتے ہوئے کہا گیا کہ ہم انسانی اقدار پر مبنی اپنے ایمان اور عقائد کے ان اعلیٰ اصولوں کے ساتھ اپنی وابستگی کی توثیق کرتے ہیں جن کے نتیجے میں پوری انسانیت کے لئے امن‘ تحمل و برداشت‘ مساوات‘ عدل اور انسانی اقدار کی سربلندی ہوتی ہے۔ کانفرنس نے بین المذاہب مکالمے‘ مختلف المذاہب لوگوں کے درمیان روابط اور پرامن بقائے باہمی پر مبنی معاشرے کی تشکیل کے لئے اس کانفرنس کے اغراض و مقاصد کی مکمل توثیق کی گئی اور ان مقاصد کے حصول کیلئے مذہب کے نام پر ہونے والے ہر قسم کے تشدد، تعصب، نفرت اور انسانی وقار کو مجروح کرنے والے تمام مذموم اقدامات کی شدید مذمت کی گئی۔ کانفرنس کی سفارشات میں ” قومی کونسل برائے بین المذاہب ہم آہنگی“ کی تشکیل‘ بین المذاہب مکالمے کے فروغ کے لئے قومی پالیسی کی تشکیل اور امن و سلامتی کے مواقع کے تعین‘ تشدد اور تصادم کی وجوہ کا تعین اور اس کے انسداد کے لئے حل تجویز کرنا شامل تھا۔ تقریب میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ‘ وفاقی وزرائ‘ وزیر مملکت برائے قومی ہم آہنگی اکرم مسیح گل ‘ ارکان پارلیمان‘ سفارتکاروں ‘ علماءکرام‘ مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے مذہبی سکالرز اور نمائندگان نے شرکت کی۔

صدر زرداری

مزید : صفحہ آخر