جو سیاستدان گیس کامسئلہ حل کریں گے ووٹ بھی ان کوملے گا ،شہری

جو سیاستدان گیس کامسئلہ حل کریں گے ووٹ بھی ان کوملے گا ،شہری
جو سیاستدان گیس کامسئلہ حل کریں گے ووٹ بھی ان کوملے گا ،شہری

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور (بابر بھٹی+محمد نواز سنگرا/الیکشن سیل) لٹکتی بجلی کی خطرناک تاریں، ناقص سیوریج سسٹم، صفائی والے پیسے لے کر صفائی کرتے ہیں، گیس سردیوں میں صرف 3دن آئی ہے وہ بھی جب عورتیں سوئی گیس کے دفتر گئیں تھیں۔ روزنامہ ”پاکستان“ کی سروے ٹیم کو دیکھتے ہی عورتیں عوامی نمائندوں، حکومت اور سوئی گیس والوں پر برس پڑیں۔ گزشتہ پانچ سالوں میں بھی نیو انارکلی، آبکاری روڈ، پیپل وہڑہ کے لوگوں کی قسمت نہ سنور سکی۔ غلام مصطفی نے بتایا کہ روڈ پچھلے پانچ سالوں سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے ارد گرد کے سارے روڈ بنائے جاچکے ہیں مگر آبکاری روڈ پر کبھی کسی نے دھیان ہی نہیں دیا۔ انہوں نے بتایا کہ محلے میںکھلی تاروں کے جال بچھے ہوئے ہیں جو کسی بھی وقت بڑے حادثے کا سبب بن سکتے ہیں۔ مگر حکومت نے کبھی توجہ ہی نہیں دی اعجاز احمد نے بتایا کہ ہم لوگوں کا سب سے بڑا مسئلہ گیس ہے سردیوںمیں صرف 3دن گیس آئی ہے ہم لوگ لکڑیاں جلا کر کام چلارہے ہیں مہنگائی کا زور ہے۔ غریب کی تو روٹی ہی پوری نہیں ہوتی حکومت نے ہمیں غربت اور تنگی کے سوا کچھ نہیں دیا۔ ”روزنامہ پاکستان“ کی ٹیم کو دیکھتے ہی محلے کی عورتیں جمع ہوگئیں اور گیس کے حوالے سے آہ وبکا شروع کردیں۔ عورتوں نے بتایا کہ پوری سردیاں گیس صرف 3دن آئی ہے اور وہ بھی جب ہم اکٹھی ہو کر سوئی گیس کے دفتر گئیں۔ ہم ابھی دفتر میں ہی تھیں کہ گیس چالو کردی گئی لیکن صرف 3دن آئی پھر غائب، محلے کی عورتوں نے محکمہ سوئی گیس کے عملے پر نفرت آمیز جملے کسے اور کہا کہ آئندہ الیکشن میں ووٹ اسے دیں گے جو ہمیں گیس کنکشن اور گیس کی فراہمی دے گا عورتوں کا عوامی نمائندوں پر عدم اطمینان سروے میں کوثر اور دیگر کا اظہار خیال، سلیم نے بتایا کہ صفائی کا نظام ناقص ہے اور جب صفائی کروانی ہو تو صفائی والے کو پیسے دینے پڑتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ووٹ ہم نے مسلم لیگ (ن) کو ہی دینا ہے ان کی طرف سے جو کوئی بھی کھڑا ہوجائے اگر بلال یٰسین اور آجاسم شریف کسی اور پارٹی یا آزاد کھڑے ہوتے ہیں تو ہم انہیں بالکل بھی ووٹ نہیں دیں گے ۔ سلیم نے کہا کہ پیپل وہڑہ میں گیس پائپ لائن ڈال دی گئی ہے نہ تو کنکشن دئیے ہیں اور نہ ہی گیس چالو کی ہے جب بھی الیکشن آتے ہیں تو گیس چالو کرنے کا جھانسہ دے کر ووٹ لئے جاتے ہیں۔ ملک اظہر نے بتایا کہ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ گیس ہے اور آئندہ الیکشن میں ووٹ بھی اسے دیں گے جو ہمیں گیس کی فراہمی یقینی بنائے گا ورنہ ووٹ نہیں ڈالیں گے ۔ اگر ووٹ ڈالنا عوام کا فرض ہے توسہولتیں فراہم کرنا حکومت کا بھی فرض ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبادی میں سٹریٹ لائٹس صرف چند کھمبوں پر لگائی گئی ہیں وہ بھی جلتی نہیں ہیں گلیاں تنگ ہونے کی وجہ سے اکثر حادثات ہوتے رہتے ہیں۔ جاوید اقبال نے بتایا کہ سب سے بڑا مسئلہ گیس ہی ہے ہم نے ہر الیکشن میں گیس فراہمی کا مطالبہ کیا لیکن کبھی پورا نہیں کیا گیا۔ ہم نے اس مسئلہ پر ناظم وحید عالم سے بات کی تھی جس نے نہ صرف ہماری بات سنی بلکہ دھکے مارے کر دفتر سے نکال دیا تو ہمارا آئندہ الیکشن میں صرف ایک ہی مطالبہ ہوگا کہ ہمیں گیس کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ورنہ ہم ووٹ کاسٹ نہیں کریں گے اور الیکشن والے دن گھر بیٹھ کر چھٹی منائیں گے ۔

مزید : الیکشن ۲۰۱۳