بینکوں نے با اثر افراد ، سیاستدانوں کا قرضہ معاف کرنے کی معلومات چھپا لیں:جوڈیشل کمیشن

بینکوں نے با اثر افراد ، سیاستدانوں کا قرضہ معاف کرنے کی معلومات چھپا ...
 بینکوں نے با اثر افراد ، سیاستدانوں کا قرضہ معاف کرنے کی معلومات چھپا لیں:جوڈیشل کمیشن

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)جیو ڈیشل کمیشن نے قرضے معاف کرانے اور اس معاملے میں بے قاعدگیوں کی نشاندہی کر دی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ بنک حکام نے مناسب معلومات فراہم نہیں کیں۔دنیا نیوز کے مطابق سپریم کورٹ کے حکم پر بنائے گئے جسٹس ریٹائرڈ جمشید علی کی سربراہی میں کمیشن نے ہزاروں صفحات پر مشتمل رپورٹ جاری کر دی۔ سٹیٹ بنک نے 1971ءسے 2009ءکے عرصہ میں دو سو اکیاسی ارب روپے کا قرضہ معافی کا سپریم کورٹ میں انکشاف کیا تھا لیکن کمیشن نے صرف سات سو چالیس مختلف کیسز کا جائزہ لیا لیکن کسی ایک کیس میں بھی سیاسی بنیادوں پر قرضہ معافی کا ثبوت حاصل نہ کر سکا۔ رپورٹ کے مطابق بینکوں اور ادروں نے با اثر افراد اور سیاستدانوں سے متعلق قرضہ معافی کی معلومات چھپا لیں۔ رپورٹ کے مطابق بنکرز سیاستدانوں سے ڈرتے ہیں۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 1971 سے 1991 تک 2 ارب 16 کروڑ کے قرضے حاصل کئے گئے اور 2 ارب 38 کروڑ کے قرضے معاف کرائے گئے جبکہ 1992 سے 2009 کے دوران 84 ارب 62 کروڑ روپے سے زائد رقم کے قرضے معاف کئے گئے۔ بنکوں اور مالیاتی اداروں نے قرضہ معافی کی صرف کاروباری وجوہات بیان کیں۔ سیاسی اور دیگر بنیادوں پر کسی قرضہ معافی کا ذکر نہیں کیا گیا۔ قرضے معاف کرانے والے ملزمان نے دستاویزات پر فنگر پرنٹ بھی نہیں چھوڑے۔ کمیشن نے قرضہ معافی کے 222 کیسز پر مزید کارروائی کی سفارش کی ہے۔ ان کیسز میں 35 ارب روپے کی رقم معاف کی گئی۔ کمیشن نے قرضے کی واپسی کے لئے چار آپشنز بھی دی ہیں پہلی آپشن کے مطابق قرض معاف کرانے والوں سے صرف اصل زر وصول کیا جائے یا اصل رقم اور جمع شدہ رقم کا فرق وصول کر لیا جائے۔ کمیشن نے سفارش کی ہے کہ قرضوں کی واپسی کے لئے ہائی کورٹ کے حاضر یا ریٹائرڈ ججوں پر مشتمل ٹربیونل بنا دیئے جائیں۔ کمیشن نے قرضوں کی واپسی کے لئے نئی قانون سازی کی بھی سفارش کی ہے تاہم کمیشن نے اپنی رپورٹ میں تجویز دی ہے کہ معاف قرض واپس لینے کا حتمی آپشن سپریم کورٹ ہی دے گی۔

مزید : بزنس /اہم خبریں