ریسکیو سروس :منظم ادارہ

ریسکیو سروس :منظم ادارہ
 ریسکیو سروس :منظم ادارہ

  



سکاٹش پارلیمنٹیرین حنظلہ ملک نے 19ویں پاسنگ آوٹ کے موقع پر اپنا سرکاری بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے کہا کہ ایمرجنسی سروس کے قیام سے لیکر اب تک میں مسلسل ریسکیو سروس کو مانیٹر کر رہا ہوں اور جب کبھی مجھے پاکستان میں ریسکیو سروس کے حوالے سے بات چیت کا موقع ملتا تھا تو میں کہتا تھا کہ یہ آرمڈ فورسز کے بعد دوسرا ایسا مثالی ادارہ ہے جو پیشہ وارانہ سروسز مہیا کرنے میں اپنی مثال آپ ہے لیکن آج میں یہ سرکاری بیان ریکارڈ کروارہا ہوں کہ ریسکیو1122آرمڈ فورسز کے برابر ہے اور آرمڈ فورسز کے برابراپنی سروسز مہیا کررہا ہے انہوں نے کہا جس جانفشانی سے ریسکیو رز کو میں نے تما م حادثات میں اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر زندگیاں بچاتے دیکھا ہے ان میں سے کچھ حادثات میں ریسکیورز شہید ہوئے ۔ ریسکیو 1122کسی بھی طرح ایک منظم ادارے سے کم نہیں ہے اور یہ بات باعثِ فخر ہے کہ سول اداروں میں ریسکیو 1122نے اپنی محنت ، مسلسل کوشش اور پیشہ وارانہ خدمات سے عوام الناس میں احساس تحفظ فراہم کیا ہے۔ سکاٹ لینڈ کے ممبر پارلیمنٹ نے جو بیان قلمبند کروایا جسکو الیکٹرانک میڈ یا کے نمائندگان نے بھی ریکارڈ کیا اُسکی اہمیت بین الاقوامی سیاسی نمائندہ کی حیثیت کے باعث ہونے کے علاوہ اس وجہ سے بھی ہے کہ حنظلہ ملک کا شمار اُن گنی چنی شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے سروس کے آغاز سے لیکر ہی ایمرجنسی سروس کو جدید طرز پر قائم کرنے میں مد د کی بالخصوص پاکستان میں فائر سروس کی جدید طرز پر قائم کرنے کیلئے حنظلہ ملک کی تمام ممکنہ سپورٹ ریسکیو 1122کے تاریخی اوراق سے کبھی نکالا نہیں جا سکتا ہے ۔

پاسنگ آوٹ کے موقع پر اُنہوں نے حکومت پنجاب کی ریسکیو سروس کو مسلسل سپورٹ کرنے کے حوالے سے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی ذاتی دلچسپی کی وجہ سے یہ ممکن ہوا کہ ایمرجنسی سروس نے نہ صرف صوبے بھر میں اپنا معیار برقرار رکھا ہے بلکہ دوسرے صوبوں کو بھی ایمرجنسی مینجمنٹ کے نظام کے قیام کے لئے معاونت دے رہا ہے ۔ الحمدللہ آج ایمرجنسی سروس پنجاب کی تریبت اور تکنیکی معاونت کی بدولت خیبر پختو خوا ، آزادکشمیر ،گلگت سکردو اور بلوچستان میں حادثات و سانحات میں پیشہ وارانہ خدمات مہیا کررہی ہے ۔حنظلہ ملک ممبر سکائش پارلیمنٹ نے پاسنگ آوٹ کی تقریب میں یہ بات بڑے فخر سے بیان کی کہ جب پہلی مرتبہ ریسکیو افسران کی برطانیہ فائر سروس سے ٹریننگ کے لئے انتظامات کر رہے تھے تو اُنہیں ڈر تھا کہ ہو سکتا ہے یہ افسران برطانیہ میں بہتر پرفارمنس نہ دے سکیں، جس کی وجہ سے شرمندگی ہو۔

جب برطانیہ کے ٹرینرز نے کہا کہ ریسکیو 1122کے افسران ان کے برابر ہی تربیت یافتہ ہیں اور سب نے ٹریننگ کے دوران اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کیا تو یہ بات نہ صرف میرے لئے قابل فخر تھی بلکہ افسران کی محنت نے پاکستان کا جھنڈا بھی بین الاقوامی سطح پر بلند کیاہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ ریسکیو 1122کو بلاشبہ اپنی پیشہ وارانہ خدمات کی بدولت نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی جانا جاتاہے ۔جس کا سہرا حکومتی سپورٹ کے ساتھ ساتھ ریسکیو کے بانی افسران آپریشرز اور ایمرجنسی سروسز اکیڈمی کی مینجمنٹ کے سر ہے۔بریگیڈ یر (ر)ڈاکٹر ارشد ضیاء ڈائریکٹر جنرل پنجاب ایمرجنسی سروس اور بریگیڈئر(ر)امیر حمزہ ڈائریکٹر جنرل ایمرجنسی سروسز اکیڈمی دونوں اس کارواں کو درست سمت میں لے کر چل رہے ہیں اُور یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جس جاں فشانی سے ریسکیو رز پاکستان میں قیمتی جانیں اور املاک بچارہے ہیں بلا شبہ ایمرجنسی سروس آرمڈ فورسز کے برابر اپنی خدمات دے رہی ہے ۔

سکاٹش پارلیمنٹ کے ریسکیو سروس کے لئے مسلسل سپورٹ اور ایسے کلمات نہ صرف ایمرجنسی سروس کی مینجمنٹ بلکہ حکومتی اداروں کے لئے بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ ایمرجنسی سروس نے 2004ئسے اب تک اپنی سروسز کا معیار برقرار رکھا ہوا ہے اس میں ریسکیو 1122کی تربیت اور آپریشنز کیلئے موثر پلاننگ اور مانیٹرنگ کا بہت عمل دخل ہے مزید برآں ایمرجنسی سروسز اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل بریگیڈیر (ر) امیر حمزہ کی قیادت میں ریجنل ماسٹر ٹرینرز ڈاکٹر فرحان اور محمد احسن کی موجودگی ایک ایسی ٹیم کا مجموعہ ہے جو مِل کر ریسکیو کے لئے اعلیٰ تر بیتی معیار کو یقینی بنانے میں مصروف عمل ہیں اس ٹیم کی محنت یقیناًایمرجنسی سروسز کے معیار کو مزید بلند کرنے میں معاون ثابت ہوگی ۔ایمرجنسی سروس میں تربیت کے دوران ریسکیورز کو میڈیکل، فرسٹ ایڈ، فائر فائٹنگ ،اونچائی گہرائی سے ریسکیو کرنے ،اربن سرچ اینڈ ریسکیو ، واٹر ریسکیوکمیونی کیشن، سانحات میں درجہ بندی ، کمیونٹی سیفٹی کے حوالے سے لیکچرز ،پریزنٹیشن اور فرضی مشقوں کے ذریعے تربیت دی جاتی ہے جسکے بعد وہ اپنے اضلاع میں ہسپتال میں جا کر ایمرجنسی ڈیپارنمنٹ میں ٹریننگ کر کے سروس کا باقاعدہ حصہ بنتے ہیں۔ آج بین الاقوامی سطح پر بھی سیاستدان اس سروس کے معترف ہیں یقیناًیہ ایک ٹیم ورک ہے اور بغیر حکومتی مدد کے ممکن نہیں ۔ اس تحریر کے ذریعے میں ریسکیو سروس کی طرف سے جناب حنظلہ ملک کا شکریہ ادا کرتی ہوں جنہوں نے ایمرجنسی سروس کے قیام سے اب تک نہ صرف ماڈرن فائر سروس کے قیام میں مدد کی بلکہ افسران کی بین الاقوامی سطح سے تربیت حاصل کرنے میں کلید ی کردار ادا کیا ۔

مزید : کالم