تھرپارکر میں لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر چائے پئیں

تھرپارکر میں لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر چائے پئیں
 تھرپارکر میں لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر چائے پئیں

  

گزشتہ دنوں سندھ کے وزیراعلیٰ صاحب کا یہ فرمان جاری ہوا ہے کہ پیپلزپارٹی نے تھر کا نقشہ ہی بدل دیا ہے !اور اب اس کی ترقی کے چرچوں کی گونج واشنگٹن میں بھی سنائی دیتی ہے !جب میں نے وزیراعلیٰ سندھ کے اس انوکھے دعوے کو سنا تو خدا کی قسم سندھ کی بھوک اور افلاس سے مرتے ہوئے عوام کی قسمت پر رونا آیاکہ وہ کس ناکردہ گناہوں کی سزاکو بھگت رہے ہیں ۔ہم سمجھتے ہیں کہ یہ صرف ایک عام سندھی کی نہیں بلکہ پوری انسانیت کی تذلیل ہے ، سندھ کے جو لاکھوں لوگ جو یہاں کے حکمرانوں کی لوٹ کھسوٹ کی سیاست میں پھنس کر غربت اور افلاس کی زندگی گزاررہے ہیں جن کی جیبوں کا صفایا کرنے کے ساتھ یہ حکمران ان کی تذلیل کرنا بھی اپنا فرض سمجھتے ہیں وہ کس حال میں جی رہے ہیں یہ سب جاننے کے لیے ایک دفعہ ان کی دہلیز پر جانا ضروری ہے جہاں آئے روز کسی نہ کسی جھونپڑے سے رونے کی آوازیں آتی ہیں کہ شاید یہاں بھی کسی غریب ہاری کا بچہ بھوک کی تاب نہ لاتے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہوگیا ہے ،اس دورکی سب سے بڑی بے حسی اس سے بڑھ کر کیا ہوگی کہ سندھ کے لوگ اب تو اس قدر جانیں گنواچکے ہیں کہ ان کا کوئی جگر کا ٹکڑا مربھی جائے تو بہانے کے لیے ان کے پاس آنسو تک نہیں ہیں یعنی وہ اپنے آنسو ؤں کو پہلے ہی اپنے پیاروں کی اموات پر بہاچکے ہوتے ہیں ۔

دوستو آپ چاہے وفاق کی طرف نظر دوڑالیں یا سندھ کی حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لے لیں آپ کو سوائے جھوٹ کی سیاست کے اور کچھ نظر نہیں آئے گا!جیسا کہ تھر میں چار سو آروپلانٹ لگانے کا دعویٰ ! گندم کی سپلائی! اور عوام بھوکے ہوں اور بوند بوند پانی کو ترس رہے ہوں؟ دوستو ہمارے حکمران ایک ایسی ترقی دینے کے لیے کوشاں ہیں ،جس میں عوام کا فائدہ کم اور حکومت کے لاڈلوں کا فائدہ زیادہ ہوتا ہے ،یہ ایک ایسی ترقی ہے جس نے ٹھیکے داروں ،بزنس مینوں اور حکومت کے قریبی حلقے والوں کی موجیں لگا رکھی ہیں ،کیونکہ عوام کے نام پر اس قسم کے تعمیراتی منصوبوں سے حکومت اور ان کے حواریوں کو بھاری تعداد میں پیسہ کمانے کا موقع مل جاتا ہے اس کے باجوداپنے پانچ سالہ دور کو یہ بہت ہی محدود سمجھتے ہیں! اس تمام کاروبار سے حکومتیں جہاں اپنے لیے مال بناتی ہیں وہاں پر یہ لوگ اپنے لیے سیاسی حمایت بھی پیدا کرتے ہیں یعنی اس سے جن لوگوں کو نوازا جاتا ہے یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو انتخابات کے دنوں میں ان ہی سیاسی جماعتوں کو سیٹیں نکال کر دیتے ہیں جن کو ناراض کرنا کافی نقصان دہ ہوتا ہے ہاں اس سارے عمل میں چاہے سندھ کی کسی جھونپڑ پٹی میں کوئی ماں کا لعل مرے یا پنجاب میں کسی کاڈیڑھ گز کا مکان ان کی نام نہاد ترقی کی بھینٹ چڑھے ان کو تو بس اپنا کام کرنا ہے ان کے نزدیک کسی غریب انسان کی جان کی قیمت محض نعرے لگانے اور انہیں ووٹ دینے سے زیادہ نہیں ہوسکتی۔

مَیں نے سندھ کے تقریباً تمام اضلاع اور ان میں موجود گوٹھوں میں بسنے والے لوگوں کو بہت قریب سے دیکھا ہے ان کے چہروں پرخوشیاں آئے برسوں بیت چکے ہیں یہ صرف مایوسیوں کے ساتھ سوتے ہیں اور صبح کسی نہ کسی انہونی کے ساتھ اٹھتے ہیں ان کے سوچنے سمجھنے کی صلاحتیں اب جواب دے چکی ہیں ،میں اکثر ان کو خوش کرنے کے لیے اپنی گاڑی سے اتر جاتا ہوں ان کے پاس زمین پر بیٹھنے یا ان کے ساتھ چائے کے کسی کھوکھے پرچائے پینے کا جو مزہ ہے، اسے ہمارے حکمران نہیں جانتے ان کے پھٹے ہوئے کپڑوں میں پسینے کی بدبو اور اسکے نشانات ضرور ہوتے ہیں مگر کوئی غرور نہیں ہوتا جو ایوانوں میں بیٹھے ہوئے نام نہاد حکمرانوں کے چہروں پر ہر وقت بیٹھا رہتاہے ۔ مجھے یہ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ سندھ کی ترقی کی گونج چاہے واشنگٹن میں ہو یا اس ملک میں آلو پانچ روپے بکنے کی بات ہو یہ وہ ہی لوگ ہوسکتے ہیں جو ان غریبوں کے پاس کبھی جانا تک گوارا نہیں کرتے میراان کومشور ہ ہے ایک بار سندھ کے کسی غریب ہاری کے ہاتھ سے کسی چائے کے کھوکھے سے چائے کا گھونٹ ضرور پیجئے گا آپ کو ان کی زندگی کا ایسا مشاہدہ ہوگا جس کے بعد آپ کبھی ان کا اس طرح مذاق اڑانے سے پہلے دس بار سوچیں گے ضرور !! اللہ پاک آپ کو میرے مشورے پر عمل کی توفیق عطا کرے ۔

مزید :

کالم -