بھٹو ں کے بعد ہوٹلوں ،ورکشاپوں و پٹرول پمپوں سے چائلڈلیبر کے خاتمے کا اعلان

بھٹو ں کے بعد ہوٹلوں ،ورکشاپوں و پٹرول پمپوں سے چائلڈلیبر کے خاتمے کا اعلان
 بھٹو ں کے بعد ہوٹلوں ،ورکشاپوں و پٹرول پمپوں سے چائلڈلیبر کے خاتمے کا اعلان

  

بچے کسی بھی ملک کا مستقبل اور امید ہوتے ہیں کیونکہ انہو ں نے ہی آگے جا کر نہ صرف ملک کی باگ ڈور سنبھالنی ہوتی ہے بلکہ مختلف شعبوں جن میں انجینئرنگ ،میڈیکل ،سائنس ،معاشیات ،آئی ٹی میں خدمات سرانجام دینا ہوتی ہیں ۔کہتے ہیں کہ بچوں اور نوجوان کو جدید علوم سے آراستہ کرنے کے لئے جو سرمایہ کاری کی جاتی ہے وہ بہترین سرمایہ کاری ہوتی ہے ۔ترقی یافتہ ممالک کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ انہوں نے اپنے بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ اقوام عالم پر حکمرانی کر رہے ہیں ۔جب کہ اس کے برعکس ترقی پذیر ممالک نے اس طرف کوئی توجہ نہ دی اور وہ ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے۔ترقی پذیر ممالک کو جہاں اور بہت سے مسائل کا سامنا ہے ان میں ایک سنگین مسئلہ چائلڈ لیبر بھی ہے ۔چائلڈ لیبر بچوں کی شخصیات پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے اور ان کے مستقبل کو تاریک کر دیتی ہے۔ وہ بچے جو سکول جاتے ہیں ان کی شخصیت میں نکھار آتا ہے اور ان میں خوداعتمادی جنم لیتی ہے۔

دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی چائلڈ لیبرکی نسبت زیادہ ہے اور یہ ایک سماجی مسئلہ کی حیثیت اختیار کرچکا ہے۔ چائلڈ لیبر کی یوں تو بہت سی وجوہات ہیں مگر ان میں سب سے نمایاں غربت، آبادی میں اضافہ اور والدین کی آپس میں لڑائی جھگڑے شامل ہیں۔ غریب والدین اپنے بچوں کے پڑھائی کے اخراجات برداشت نہیں کرپاتے اور گھریلو اخراجات پورے کرنے کیلئے انہیں چھوٹے موٹے کام پر لگا دیتے ہیں۔ اس طرح ان کے گھر کے اخراجات میں زیادہ تو نہیں مگر کمی ضرور ہوجاتی ہے لیکن وہ اپنے بچے کے مستقبل کو داؤ پر لگا دیتے ہیں۔ یوں تو کئی شعبوں جن میں ہوٹلوں، ورکشاپوں، فیکٹریوں ، قالین بانی اور دیگرریڈی میڈ گارمنٹس میں چائلڈ لیبربہت زیادہ ہے لیکن پاکستان میں چائلڈ لیبر کا سب سے بھیانک اور خوفناک روپ بھٹوں پرسامنے آتا ہے۔ بھٹوں پر خاندان نسل در نسل غلامی میں جکڑے ہوتے ہیں اور وہ ان کے بچے جو ٹھیک طرح سے چل یا بول بھی نہیں سکتے وہ بھٹوں پر اپنے والدین کے ساتھ کام کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

ماضی میں کئی حکومتوں نے چائلڈ لیبر کے خاتمے کیلئے اعلانات تو ضرور کئے مگر کوئی عملی اقدامات نہیں اٹھائے۔ وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف کو اس بات کا کریڈٹ جاتا ہے کہ جہاں انہوں نے دیگر شعبوں کی ترقی، عام آدمی کی فلاح و بہبود اور لوگوں کا معیار زندگی بلندکرنے کیلئے کئی انقلابی اقدامات کئے ہیں وہاں انہوں نے چائلڈ لیبر کے خاتمے کیلئے نہ صرف عملی اقدامات اٹھائے ہیں بلکہ قانون سازی بھی کی ہے۔محمد شہباز شریف کی قیادت میں حکومت پنجاب نے اینٹوں کے بھٹوں سے چائلڈ لیبر کے خاتمے کیلئے آرڈیننس کی منظوری دی ہے۔ آرڈیننس کے تحت چائلڈ لیبر کرانے والے بھٹہ مالکان کو چھ ماہ تک قید کی سزا ہوگی، خلاف ورزی پر بھٹہ مالکان کا سمری ٹرائل ہوگا اور پانچ لاکھ روپے تک جرمانہ ہوگا۔ اس کے علاوہ چائلڈ لیبر کی صورت میں بھٹہ کو سیل کر دیا جائے گا۔ حکومت نے اینٹوں کے بھٹوں پر چائلڈ لیبر کی چیکنگ کیلئے ضلع کی سطح پر ڈی سی اوز کی سربراہی میں کمیٹیاں تشکیل دی ہیں۔ یہ کمیٹیاں بھٹوں کی چیکنگ کے بعد رپورٹ وزیراعلیٰ کو پیش کریں گی۔ اسی طرح تحصیل کی سطح پر کمیٹیوں کے سربراہ اسسٹنٹ کمشنر ہیں۔

حکومت پنجاب نے اینٹوں کے بھٹوں پر کام کرنے والے بچوں کی تعلیم کیلئے خصوصی پیکج کا بھی اعلان کیا ہے۔ پیکیج کے مطابق سکول جانے والے ہر بچے کو سو فی صد مفت تعلیم کے علاوہ ایک ہزار روپے ماہانہ خصوصی وظیفہ دیا جائے گا جبکہ بچوں کے سکول داخلے پر والدین کو دو ہزار روپے سالانہ وظیفہ دیا جائے گا۔ بچوں اور ان کے والدین کو علاج معالجہ کی مفت سہولت مہیا کی جائے گی۔ سکول دور ہونے کی صورت میں حکومت بچوں کے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بھی برداشت کرے گی۔ اس پیکج کے تحت بچوں کومفت کتابیں، سٹیشنری، یونیفارم، جوتے اور سکول بیگ بھی فراہم کئے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی ہے کہ اینٹوں کے بھٹوں پر کام کرنے والے بچوں کا سکولوں میں سوفیصد داخلہ یقینی بنایا جائے اور اینٹوں کے بھٹوں کی چیکنگ کیلئے سی سی ٹی وی کیمرے لگانے کی تجویز کا بھی جائزہ لیا جائے۔ محکمہ لیبر نے بھٹہ خشت پر چائلڈ لیبرکی شکایات کے اندراج کیلئے 0800-55444ہیلپ لائن بھی قائم کی ہے۔ چائلڈ لیبر کی صورت میں کوئی بھی شہری مندرجہ بالا نمبر پر شکایت درج کرا سکتا ہے۔ پنجاب میں مجموعی طور پر 6090اینٹوں کے بھٹے ہیں جن پر 17240 بھٹہ مزدور خاندان آباد ہیں۔

محکمہ لیبر اور ضلعی سطح پر ڈی سی اوز اور تحصیل کی سطح پر اسسٹنٹ کمشنرز کی سربراہی میں قائم ٹیموں نے پولیس کے ہمراہ صوبہ بھر میں 5000سے زائد بھٹوں کی انسپکشن کی اور چائلڈ لیبر کرانے پر 717افراد کو گرفتار کرکے ان کے خلاف متعلقہ تھانوں میں 650سے زائد مقدمات قائم کئے جبکہ 128مقدمات میں سزائیں سنائی گئی ہیں۔ ٹیموں نے 207سے زائد بھٹوں کو سیل بھی کیا۔ اسی طرح حکومت پنجاب کے مؤثر اقدامات کے نتیجے میں 31,000سے زائد بچوں کو بازیاب کروا کر سکولوں میں داخل کروایا جاچکا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے جیابگا کے علاقے میں ایک بھٹہ کا اچانک معائنہ کیا تو وہاں پر سکول جانے کی عمر کا بچہ دانش مسیح اینٹیں بنا رہا تھا۔ وزیر اعلیٰ نے سخت نوٹس لیتے ہوئے بھٹہ مالک کے خلاف کارروائی کا حکم دیا اور بچے کو سکول میں داخل کروایا ہے اور یہ بچہ اب تعلیم حاصل کر رہا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے چائلڈ لیبر کے خاتمہ کیلئے قائم کردہ سٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھٹوں سے چائلڈ لیبر کا خاتمہ ہمارا مشن ہے اور معاشرے سے اس قبیح فعل کا مکمل خاتمہ کرکے بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کیا جائے گا۔ انہوں نے اس امر کاا علان کیا کہ بھٹوں سے چائلڈ لیبر کے خاتمے کے بعد آٹو ورکشاپس، ہوٹلوں، پٹرول پمپوں سے بھی چائلڈلیبر کا خاتمہ کیا جائے گا۔ اینٹوں کے بھٹوں سے چائلڈ لیبر کے خاتمے کی طرح دیگر پیشوں سے بھی بچوں سے مشقت کے خاتمہ کیلئے آہنی ہاتھ حرکت میں آئے گا۔ بھٹوں پر بچوں سے مشقت کیلئے خاندانوں کو پیشگی معاوضے کے ذریعے گروی رکھنے کی زنجیریں توڑیں گے۔ قوم کے بچوں کیلئے ہر طرح کے وسائل حاضر ہیں۔ وزیراعلیٰ نے ہدایات جاری کیں کہ ورکشاپس، ہوٹلوں اور پٹرول پمپوں سے چائلڈ لیبر کے خاتمے کیلئے صوبہ بھر میں سروے کرایا جائے جس کی روشنی میں مستقبل کا لائحہ عمل مرتب کیا جائے اور سروے کا عمل مکمل کرکے حتمی سفارشات پیش کی جائیں۔ چائلڈ لیبر کا خاتمہ ایک عبادت ہے اور اس مقصد کے حصول کیلئے بطورٹیم کام کرنا ہے۔

یورپی یونین اور انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن نے وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف کی قیادت میں حکومت پنجاب کی جانب سے بھٹوں سے چائلڈ لیبر کے خاتمے کے اقدامات کو سراہا ہے۔ یورپی یونین اور آئی ایل او نے اقدامات کی تعریف کرتے ہوئے پنجاب حکومت کے اقدامات کو انتہائی حوصلہ افزاء قرار دیا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ ان بین الاقوامی اداروں میں پاکستان کی کسی بھی صوبائی حکومت کی طرف سے چائلڈ لیبر کے خاتمے کیلئے اقدمات کی بازگشت سنائی دی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت پنجاب کی طرف سے چائلڈ لیبر کے خاتمہ کیلئے اقدامات انتہائی خوش آئند اور قابل تعریف ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ مانیٹرنگ کے عمل کو تسلسل سے جاری رکھے تاکہ دوبارہ یہ قباحت جنم نہ لے۔حکومت کو چاہیے کہ وہ لاز اور آرڈیننس پر عمل درآمد کو بھی یقینی بنائے اور خلاف ورزی کے مرتکب افراد کے خلاف سیاسی و معاشی اثرورسوخ سے بالاتر ہوکر سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ محکمہ لیبر و دیگر اداروں کو چاہیے کہ وہ چائلڈ لیبر کے منفی نتائج کو اجاگر کرنے کیلئے صوبائی ، ضلعی اور تحصیل لیول پر آگاہی سیمینارز کا انعقاد کرے۔غربت کے خاتمے کیلئے روزگار کے نئے مواقع پیدا کئے جائیں۔ اس کے علاوہ فنی تعلیم کو فروغ دیا جائے تاکہ نوجوان فنی تعلیم کے حصول سے باعزت روزگار کماسکیں۔

مزید :

کالم -