پنجاب فوڈاتھارٹی ایک منظم ادارہ

پنجاب فوڈاتھارٹی ایک منظم ادارہ
 پنجاب فوڈاتھارٹی ایک منظم ادارہ

  

قدرت نے بنی نوع انسان کو ان گنت نعمتوں سے نوازا ہے جن کی بدولت ایک انسان سکون اور اطمینان کے ساتھ اپنی زندگی گذارتا ہے۔ قدرت کی بخشی ہوئی نعمتوں میں سب سے بڑی نعمت صحت ہے۔آدی تندرست ہو تو ایک انسان اپنی زندگی کے معمولات بخوبی انجام دے سکتا ہے۔ تندرستی ہزار نعمت ہے،اس کا اندازہ وہ لوگ بخوبی کرسکتے ہیں جو خدانخواستہ اللہ تعالیٰ کی اس سب سے بڑی نعمت سے محروم ہیں۔ انگریزی کی ایک مشہور کہاوت"A healthy mind in a healthy body" اس حقیقت پر مہرثبوت ثبت کرتی ہے کہ صحت مند ذہن کے لیے تندرست جسم بھی شرط اول کا درجہ رکھتا ہے۔اگر صحت کی گاڑی ایک مرتبہ پٹری سے اتر جائے تو اس کا دوبارہ پٹری پر آنا مشکل ہوتا ہے۔ کسی بھی انسان کیلئے تندرستی نعمتِ غیر مترقبہ سے کم نہیں ہوتی۔بعض اوقات امیر آدمی بھی کسی ایسی مہلک بیماری کا شکار ہو جاتا ہے کہ دولت کے بے تحاشا انبار کے باوجود وہ صحت کاملہ جیسی نعمت حاصل کرنے میں ناکام ہوجاتا ہے۔ اس لئے انسانوں کو صحت و تعلیم کی بہتر سہولتیں فراہم کرنے کی بنیادی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے۔

ہمارے یہاں حفظان صحت کے اصولوں کا ذرا بھی خیال نہیں رکھا جاتا جس کا سب سے زیادہ فقدان بازاری ہوٹلوں اور ریسٹورینٹس میں کھلے عام نظر آتا ہے۔ ان میں صفائی ستھرائی کا ناقص نظام کسی سے بھی ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ بازاری ہوٹلوں اور ریسٹورینٹس میں کیڑوں مکوڑوں اور دیگر حشرات الارض کی موجودگی آزادانہ اور بلاروک ٹوک ہے۔ دوسری جانب غیر معیاری گھی، کوکنگ آئل، ناقص کیچ اپ اور مضرصحت ناقص مصالحہ جات کے استعمال کا معاملہ بھی عوام کے سامنے آچکا ہے۔ ان ہوٹلوں اور ریسٹورینٹس کے ملازمین کی صحت کے بنیادی اصولوں سے ناواقفیت اور عدم دلچسپی بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔پبلک ہوٹلوں اور ریسٹورینٹس کے علاوہ قصابوں اور مٹھائی کی دکانوں اور خوانچہ فروشوں کے خوانچوں پر بھی مکھیاں بھنکتی ہوئی نظر آتی ہیں ۔ اشیائے خوردنی میں ملاوٹ بلکہ غلاظت جس عروج تک پہنچ گئی ہے اس کے لیے کسی انقلاب کی ضرورت ہے۔

تاہم پنجاب فوڈ اتھارٹی کا اس معاملے میں متحرک نظر آنا یقیناًایک خوش آئند اور لائق تحسین بات ہے ۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی نے اپنے قیام کے کچھ عرصہ میں ہی خود کو ایک منظم ادارے کے طور پر استوار کر لیا ہے اور انسانی زندگیوں کے ساتھ کھیلنے والوں کے خلاف اس کا موثرکردار ابھر کر سامنے آیا ہے۔پنجاب فوڈ اتھارٹی نے گزشتہ کچھ عرصہ میں پبلک ہوٹلوں اور ریسٹورینٹس پر پے درپے چھاپے مار کر جرمانے بھی عائد کیے اور متعدد ہوٹلوں اورریسٹورینٹس کو ناقص کوالٹی و انتظامات پر سیل بھی کیا ہے۔ حفظان صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی کرنے والے پبلک ہوٹلوں اور ریسٹورینٹس کے خلاف صوبہ پنجاب میں فوڈ اتھارٹی کی ان قانونی کارروائیوں کا سلسلہ تسلسل سے جاری و ساری ہے اور دیگر صوبوں کے متعلقہ ادارے بھی اس راست اقدام کی پیروی کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ حکومت نے پنجاب فوڈ اتھارٹی کو خصوصی اختیارات دے کر طعام خانوں اور ہوٹلوں کو صفائی ستھرائی کے نتظاما ت کو بہتر کرنے پر مجبور کر دیا ہے اور پنجاب فوڈ اتھارٹی اب حقیقی معنوں میں فعال او رموثرکردار ادا کررہی ہے۔ صوبہ میں غیر معیاری اور ملاوٹ شدہ اشیاء تیار اور فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائی کیلئے ٹاسک فورسز بنانے کے لئے بھی عملی اقدامات کئے جارہے ہیں۔ صوبہ کے جنوبی، مشرقی، مغربی اور شمالی ریجن کیلئے علیحدہ علیحدہ ٹاسک فورسز ہوں گی جو ملاوٹ اور غیر معیاری اشیاء کے دھندے میں ملوث افراد کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کریں گی۔ عوام کی زندگیوں کے ساتھ کھیلنے والوں کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے لئے پنجاب فوڈ اتھارٹی ایکٹ میں ترامیم کا بل بھی منظور کیا جا چکا ہے ۔جس کے تحت ملاوٹ شدہ اور غیر معیاری اشیاء کی تیاری و فروخت کے جرم کو ناقابل ضمانت قرار دیا گیا ہے۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی کی خاطر خواہ کارکردگی سامنے آنے کے بعد پنجاب فوڈ اتھارٹی کا دائرہ کار راولپنڈی، فیصل آباد، گوجرانوالہ، سرگودھا، ملتان، بہاولپور، سیالکوٹ اور مری تک بڑھایا جا چکا ہے۔پنجاب کے 9ڈویڑنل ہیڈ کوارٹرز میں بننے والی ٹاسک فورسز مکمل بااختیار اور اپنے متعلقہ اضلاع میں ملاوٹ شدہ اشیاء تیار و فروخت کرنیوالوں کیخلاف بھرپور کارروائی کی مجاز ہوں گی۔ ٹاسک فورسز کے سربراہان اور دیگر عملے کی تربیت کا بھی اہتمام کیا گیا ہے اور پنجاب فوڈ اتھارٹی کے متعلقہ عملے کو بیرون ملک سے تربیت دلوائی جائے گی۔ انسداد ملاوٹ مہم کے تحت اٹھائے جانیوالے اقدامات کا تھرڈ پارٹی آڈٹ بھی ہوا کریگا۔ پنجاب کے 36اضلاع میں انسداد ملاوٹ مہم کے حوالے سے عملدرآمد کمیٹیاں قائم کرنے کے لئے بھی عملی اقدامات کئے جارہے ہیں۔شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پرصوبہ میں فوڈ ٹیسٹنگ لیبز کا قیام بھی عمل میں لا یا گیا ہے، جن کا کردارملاوٹ اور غیر معیاری اشیاء کے کاروبار کی روک تھام کیلئے نہایت اہم ہے۔ وزیراعلیٰ لاہور میں ریڑھیوں کی جیو ٹیگنگ کے لئے پائلٹ پراجیکٹ تیار کرنے کیلئے بھی ہدایات دے چکے ہیں، جس پر تیز رفتاری سے عمل درآمد کیا جارہا ہے۔وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی جانب سے پنجاب فوڈ اتھارٹی میں نئے فوڈ سیفٹی آفیسر اور اسسٹنٹ فوڈ سیفٹی آفیسر بھرتی کرنے کی بھی منظوری دی جا چکی ہے۔مارکیٹ کنٹرول آفیسر کے عہدہ کی اہمیت کا احساس تو دنیا کے عظیم ترین منتظم آنحضرت محمد نے ہی ثابت کر دیا تھا اور انھوں نے مدینہ کی مارکیٹ میں قیمتوں کا توازن اور اشیاء فروخت کی کوالٹی پر نظر رکھنے کے لیے جس کا انتخاب کیا وہ ایک خاتون شفا بنتِ عبداللہ ابن شمس تھیں۔ بعدازاں حضرت عمر فاروق کے دور میں بھی انھی کا تقرر اس عہدہ کے لیے کیا گیا۔ وہ ایک باصلاحیت اور ذہین خاتون تھیں اور اپنی ذمے داری اولوالعزمی اور دلجمعی کے ساتھ نبھاتی رہیں۔خواتین کو ویسے بھی بہتر منتظم تصور کیا جاتا ہے۔ وہ معاشرے کی بنیادی اکائی خاندان کا انتظام و انصرام سنبھالتی ہیں اور ’’آٹے دال کا بھاؤ‘‘ بھی خوب جانتی ہیں۔ ہم صارفین جو سمجھ چکے تھے کہ اب ہمارا کوئی والی وارث نہیں ہے اور کاروباری طبقہ ’’جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے‘‘ کے مطابق ہمارے ساتھ ہر طرح کا سلوک روا رکھنے پر قادر ہے‘ ایسے میں پنجاب فوڈ اتھارٹی امید کی کرن ہے۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی کے قیام کے بعد کاروباری طبقہ جان جائے کہ انھیں کوئی پوچھنے والا بھی ہے اور صارف امید باندھ لیں کہ ان کی کوئی سننے والا بھی ہے۔

پنجاب فوڈاتھارٹی حفظانِ صحت کے لیے غلاظت فروشوں کے خلاف شبانہ روز کام کر رہی ہے۔ اس اتھارٹی کے قیام نے بڑے بڑے ہوٹلوں، بیکریوں اور فوڈ انڈسٹریز کے مالکان کی نیندیں حرام کر کے رکھ دی ہیں۔پنجاب فوڈ اتھارٹی نے ایسی کارروائیاں کی ہے جس پر صوبے کے عوام کو فخرہے۔ ملاوٹ،غیرمعیاری اورمضر صحت اشیاء کی تیاری و فروخت کا کاروبار پنجاب کا ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان کا المیہ ہے اور پنجاب اس گھناؤنے کاروبار کے خاتمے کے لئے پر عزم ہو کرشبانہ روز کام کر رہا ہے۔ایسے عناصر جو انسانی زندگیوں سے کھیلتے ہیں وہ معاشرے کیلئے بدنامی کا باعث ہیں۔ ریسٹورینٹس اور فوڈ چینز کی درجہ بندی کے حوالے سے موثر آگاہی مہم چلائی جا رہی ہے۔ غیر معیاری اور مضر صحت اشیاء تیار کرنیوالے یونٹس کے مالکان کیخلاف بھی بھرپور کریک ڈاؤن کیا جا رہا ہے۔۔فوڈ اتھارٹی نے صرف کھانے پینے کے مراکز میں نظر آنے والی گندگی کو ہی واضح نہیں کیا بلکہ ملٹی نیشنل کہلانے والے برانڈز کے نام بھی عیاں کر دئیے۔ ماضی میں ایسا بھی ہوتا رہا ہے کہ جرمانے کرنے کے باوجود بڑے اداروں کے ناموں کو عیاں نہیں کیا جاتا تھا۔ یہ بات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ ایسی بڑی کمپنیاں اپنی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے بھاری قیمت ادا کرنے پر بھی تیار ہو جاتی ہیں۔اس سارے پس منظر کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی کو بھی بڑے مگر مچھوں نے اپنی ساکھ بچانے کے لیے بھاری رشوت کی پیشکش کی ہو گی۔پنجاب فوڈ اتھارٹی کی جانب سے عملی اقدامات اور فوری انصاف کے تصور نے اگر ایک طرف ملاوٹ مافیا کو بے نقاب کیا ہے تو دوسری طرف پنجاب کو ملاوٹ سے پاک اشیا کی فراہمی کو یقینی بنایا ہے۔ایک اچھی صحت کا حامل شخص اپنا ہر کام اچھے طریقے سے انجام دے سکتا ہے لیکن ایک بیمار رہنے والا شخص خواہ کتنی ہی محنت کیوں نہ کرے وہ کوئی بھی کام اچھے طریقے سے انجام نہیں دے سکے گا۔ کیونکہ صحت ہی ایک ایسی چیز ہے جو انسان کو چوکس اور توانا رکھتی ہے اگر وہی نہیں ہے تو پھر انسان ریت کی دیوار ثابت ہوتا ہے۔ انسان کی دنیا میں چاہے کوئی بھی سماجی حیثیت ہو، اچھی صحت کو ہر کسی نے ایک بہت بڑی دولت سے تعبیر کیا ہے۔اس لئے ضروری ہے کہ ایک انسان اپنی صحت کا ہمیشہ خیال رکھے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اگر کوئی محکمہ یا افسر اپنی ذمہ داریاں مکمل ایمانداری سے سر انجام دے تو اس کی حوصلافزائی کی جائے۔ اسی طرح بیورو کریسی میں بھی ترقی پیشہ وارانہ کامیابیوں سے مشروط کی جائے تاکہ نہ صرف اہل افراد ہی اہم عہدوں پر فائز ہوں بلکہ باقیوں میں بھی اپنے فرائض کی انجام دہی کا رحجان پیدا ہو۔

مزید :

کالم -