دما دم مست قلندر

دما دم مست قلندر
 دما دم مست قلندر

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

عام لوگوں کے بس کی بات نہیں، جاہلوں کے تو بالکل بھی نہیں کہ وہ رتبہ پہچان سکیں، قلند ر کا رتبہ کوئی قلندر ہی پہچان سکتا ہے ۔بادشاہی مسجد کے عظیم گنبدوں کے سائے میں آسودہ خاک قلندر نے ایسی ہی وجدانی کیفیت میں لکھا تھا:

نہ تخت و تاج میں نے لشکر سپاہ میں ہے

جو بات مرد قلندر کی بارگاہ میں ہے

کبھی کسی نے سوچا یہ کون لوگ ہیں؟ نجف سے لے کربخارا اور بخارا سے اجمیر شریف و سیہون تک ۔۔۔محمدی نورؐ کی چمکتی کرنوں کی بادشاہی کا راز کیا ہے ؟ان کی درگاہوں کو ایسی بادشاہی نصیب ہوئی کہ سکندر سے لے کر اکبر اعظم تک کسی کے حصے میں نہیں آئی۔یہ مر کر بھی نہیں مر سکے۔ان کی درگاہوں کو شاہی مقبروں پر فضیلت کیوں نصیب ہوئی؟بڑے بڑے شہنشاہوں کے مقبرے اجڑ گئے، محلات ویران ہو گئے،مگر ان عام درویشوں کے مزار صدیوں بعد بھی آباد ہیں۔عقیدت مند انہیں اجڑنے نہیں دیتے۔ وہی چاہتیں،وہی عقیدتیں، زوال ہو تو کیسے ہو؟جو دلوں پر راج کر گئے ان کے تخت کو زوال نصیب نہیں ہوتا۔ باب الاسلام سندھ کی سرزمین پر دلوں کے شہنشاہ لعل شہباز قلندر بھی انہی میں سے ایک ہیں، جن کے بارے میں سندھ دھرتی کے درویش حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی نے کہا:

نکا ابتدا عبد جی، نکا انتہا

جن سیحا تو سپرین وجن کی ویا

’’اس کی ابتدا ہے نہ انتہا، معرفت ان کو حاصل ہوئی ہے جو اپنے وجود مٹا دیتے ہیں‘‘۔۔۔اُن جاہلوں اور نفس کے غلاموں کو کیسے خبر ہو گی جو شکم کی بھوک کے لئے اپنا دین دھرم ہی بیچ ڈالیں۔کاش یہ اس مرد قلندر کو پہچان سکتے تو انہیں اندازہ ہوتا کہ آج صدیوں بعد بھی وہی مقام و مرتبہ کیسے قائم ہے؟لعل شہباز قلندر کے ہی خوبصورت کلام سے اس راز سے پردہ اٹھاتے ہیں:

حیدریم، قلندرم مستم

بندہِ مرتضیٰ علی ہستم

پیشواِ تَمام رنداَنم

کہ سگِ کوُئے شیرِ یزدانم

’’مَیں حیدری ہوں ، قلندر ہوں ،مست ہوں ، علی مرتضیٰ کا بندہ ہوں ، میں تمام رندوں کا امام ہوں کہ شیرِ خدا کے در کا سگ ہوں‘‘۔۔۔ جو یہ راز جان گئے وہ کیسے ڈر سکتے ہیں اور کسی دہشت سے کیسے پیچھے ہٹ سکتے ہیں وہ تو وجد و سرور میں دیوانہ وار لپکتے گنگناتے آئیں گے:

طلوعِ سحر ہے شامِ قلندر

اُٹھو رندو پئیو جامِ قلندر

2016ء کا ایک گرم ترین دن تھا ۔ لاہور سے یہ مسافر حیدر آباد کے لئے ٹرین میں بیٹھا تو سامنے والی سیٹ پر ایک خاتون،اس کا بھائی اور ساتھ خاتون کا آٹھ سالہ بیٹا بھی تشریف فرما تھا۔تینوں نے ہلکے گلابی رنگ کا کپڑا گلے میں اوڑھ رکھا تھا۔ بات چیت شروع ہوئی تو راز کھلا سیہون شریف حضرت لعل شہباز قلندر ؒ کے عرس پر جا رہے ہیں اور پچھلے کئی برسوں سے یہ سلسلہ جاری ہے ۔اس نادان طالب علم نے سوال کیا، اتنی گرمی میں ہر سال وہاں آپ لوگ جاتے ہیں؟ خاتون نے ایسی بات کہی کہ آج تک اس کے الفاظ کی مٹھاس کانوں میں رس گھولتی ہے۔۔۔ ’’ہم کہاں جاتے ہیں ، بلائے جاتے ہیں‘‘۔ اکثر تنہائی میں یہ الفاظ ایسے سنائی دیتے ہیں جیسے ذہن کے کسی خانے میں چھپ کر بیٹھ گئے ہوں اور جب یہ محسوس کریں کہ کانوں میں رس گھولنا ہے تو خود بخود چلنے لگتے ہیں: ’’ہم کہاں جاتے ہیں، بلائے جاتے ہیں‘‘۔۔۔اللہ کے ولی سے محبت کسی عبادت سے کم نہیں اور پھر ایسے ولی سے محبت کہ جس نے قرامطی فتنے کے خلاف دین محمدی کا پرچم بلند کیا ہو۔حضرت لعل شہباز قلندر بھی انہی میں سے ایک ہیں جنہوں نے قرامطی فتنے کے خلاف بے خوف جہاد کیا۔اللہ نے اپنے ولی سے مخلوق کا محبتوں اور عقیدتوں کا ایسا رشتہ قائم کردیا جس کو کبھی زوال نصیب نہیں ہو سکتا۔ حضرت علیؓ کا فرمان ہے: ’’ محبت سب سے کرو، لیکن اس سے اور بھی زیادہ کرو جس کے دل میں تمہارے لئے تم سے بھی زیادہ محبت ہے‘‘۔

جنگ نفرتوں اور محبتوں کے دیوتاؤں کے درمیان ہے۔درندگی انسانیت کی ہلاکت کی ادنیٰ خواہش لے کر فتنہ وفساد پھیلا نے کی ناکام کوشش کر رہی ہے۔جہالت اپنا آپ منوانے کے لئے علم کے دیے گل کرنے کی خواہشمند ہے۔فتنہ و فساد کی تیز آندھیاں امن کے آشیانے اڑانے کے لئے چل رہی ہیں۔ظلمت کے دھوئیں نور کو دھندلانے میں مصروف ہیں۔نفرتوں کی بُو میں جینے کے عادی محبتوں کی خوشبو سے خائف ہیں۔کٹے ہوئے انسانی اعضا اور تڑپتی لاشوں کے رقص سے روحانی تسکین حاصل کرنے والے درندے دھمال کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں۔خون کے جام پینے والے چاہتوں اور عقیدتوں کے جام میں زہر گھول کر اپنی شکست کا انتقام لے رہے ہیں۔ اپنے باپ دادا کے اجڑے مزار وں کی خفت مٹانے کے لئے دریشوں کے پُرہجوم درباروں کو ویران کرکے ذہنی تسکین حاصل کرنا چاہتے ہیں۔بلھے شاہ یاد آگئے، جنہوں نے ان ہی شکست خوردہ جاہلوں کے لئے کہا تھا:

علم پڑھیاں اشراف نہ ہوون جیہڑے ہوون اصل کمینے

پیتل کدی نئیں سونا بندا بھانویں جڑئیے لعل نگینے

بلھے شاہ نے سچ کہا، ان کے اندر روح کہاں جن کے اندر سے انسانیت کی لاش بدبو دے رہی ہو۔ان پر دما دم مست قلندر سے وجد طاری ہونا ممکن نہیں،ان کی روحانی تسکین گولیوں کی گھن گرج اور انسانی سسکیوں اور آہوں سے ہوتی ہے۔ جب اندر سے تعفن اُٹھ رہا ہو تو پھر عقیدتوں کی خوشبو محسوس نہیں ہوتی،بارود کی بُو اچھی لگتی ہے۔ درندوں کو زندہ انسانوں کا رقص اور دھمال برداشت نہیں،بلکہ گوشت کے اڑتے لوتھڑے اور انسانی بے بسی اچھی لگتی ہے۔اندر سے انسانیت مر جائے تو پھر انسانی حسیات بھی مر جاتی ہیں اور درندگی اپنی پوری وحشت کے ساتھ کھل کر سامنے آ جاتی ہے۔ فرقوں میں بٹے تنگ نظر لوگ کیا جانیں محبت کا عقیدہ کیا ہے، جس میں پتھر بھی بول اُٹھتے ہیں،پھر انسانیت رنگ و نسل کی قید سے آزاد ہو کر محبتوں کی سر زمین پر خوشبو بوتی ہے، جسے فنا ممکن نہیں اور نہ ہی جبر اور دہشت سے اسے ختم کیا جاسکتا ہے۔نفرت کی عمر بہت تھوڑی ہوتی ہے، جبکہ محبت دائمی ہوتی ہے،جو ایک بار کہیں بو دی جائے توپھر قیامت تک اس کی مہک جاری رہتی ہے۔سیہون کی سرزمین پر لعل شہبا ز نے محبت کی ایسی ہی لازوال فصل بوئی جسے کسی دہشت سے مٹانا ممکن نہیں۔ دہشت گردو! تم ہار مان جاؤ، دھمال کا سلسلہ چلتا رہے گا اور دیوانے گاتے رہیں گے:

لال مری پت رکھئیو بھلا جھولے لالن

سندھڑی دا، سیہون دا، سخی شہباز قلندر

دما دم مست قلندر۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دما دم مست قلندر ہوتا رہے گا۔امیر خسرو کا ’’دما دم مست قلندر‘‘ جسے پنجابی میں بلھے شاہ نے لکھا اور پھر میڈم نور جہاں ، عابدہ پروین اور نصرت فتح علی خاں نے سر اور تال سے ملا کر دلوں کی دھڑکن بنا دیا۔کوئی مردہ دل ہی ہوگا جس پر دما دم مست قلندر سن کر وجد طاری نہ ہو۔۔۔ آہ، عجب لمحہ تھا جب ہم تین دوست سیہون شریف دربار کے قریب ایک ہوٹل میں کھانا کھانے کے لئے بیٹھے تو وہاں دو کتے بھی ہمارے قریب آگئے ہم نے ہوٹل کے مالک کو کہا کہ انہیں دور بھگاؤ کہیں کاٹ نہ لیں۔ مالک نے کہا: ’’یہ دربار کے کتے ہیں، یہ کسی پر بھونکتے نہیں اور کاٹنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، یہ ہر عقیدت مند کی بس قدم بوسی کرتے ہیں اور انہیں بھلی کری آیاں نو ں (خوش آمدید) کہتے ہیں‘‘۔ بہت حیرانی ہوئی۔ مالک نے کتوں کو اشارہ کیا تو وہ آئے اور ہم تینوں کے قدموں پر منہ رکھ کر چلے گئے اور دوسرے لوگوں کو بھلی کری آیاں نو ں کہنے لگے۔۔۔۔ دہشت گردوں کا کردار جب دیکھتا ہوں تو دل سے بے اختیار یہ آواز نکلتی ہے۔۔۔آہ بازی لے گئے کتے!

مزید : کالم