وقت کے قاضی کی پکار۔۔۔!

وقت کے قاضی کی پکار۔۔۔!
وقت کے قاضی کی پکار۔۔۔!

  

آج کل پانامہ کا ہنگامہ جاری ہے ، روزانہ کی بنیاد پر سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت جاری ہے۔ میرے سمیت تمام ٹی وی اینکرز ، تجزیہ کار ، کالم نگار ، دانشور اور عام آدمی اپنی اپنی استعداد کے مطابق قومی سطح پر پائی جانے والی بے چینی، غیر یقینی اور فرسٹریشن میں اضافہ کر رہا ہے، ہم سب حضرات کا فوکس حکمرانوں پر ہے، خاص طور پر میاں نواز شریف ، ان کے خاندان اور حکمرانوں کی بلا ناغہ سپریم کورٹ سے لیکر ہر گلے محلے تک ہر جگہ حکمرانوں کو چارج شیٹ کیا جاتا ہے اس کیس کا نتیجہ کیا نکلے گا ؟ میاں نواز شریف کے ساتھ یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے اس کو سمجھنے کیلئے صرف اتنا ہی کافی ہے ایسا ماضی میں حکمران خاندان اور ان کے ساتھی بخوبی دوسروں کیلئے کرتے رہے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ آج میڈیا پہلے کی نسبت بہت زیادہ ہے ، ماضی میں صرف ایک دو چینلز اور دو چار اخبارات ہوا کرتے تھے اب 85 سے زائد چینلز اور 200 سے زائد اخبارات ہیں۔ میڈیا مینجمنٹ کے اصول و ضوابط ، پروپیگنڈے کا طریقہ کار سمیت ہر چیز بدل گئی ہے۔ ماضی میں جب حکمران خاندان نے بینظیر بھٹو سے لیکر آصف علی زرداری تک کیخلاف ایک دو چینلز اور چند اخبارات کے ساتھ کیا آج حکمرانوں کو اس کا کفارہ 200 اخبارات، 100 کے لگ بھگ چینلز کے ساتھ ساتھ شتر بے مہار سوشل میڈیا کا سامنا کر کے ادا کرنا پڑ رہا ہے۔ مجھے امید ہے کہ میاں نواز شریف اور ان کے ساتھیوں کو اس بات کا شدت سے احساس ہو رہا ہو گا کہ دوسرے کا میڈیا ٹرائل کرنا آسان ہے مگر خود اس صورتحال سے گزرنا کتنا مشکل ہے۔ سپریم کورٹ میں جو منظر پوری دنیا روزانہ دیکھتی ہے اس کسی حد تک قانون مکافات عمل سے تعبیر کیا جا سکتا ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ سب غلط ہو رہا ہے ؟ کیا اس کا نتیجہ بھی وہی نکلے گا جو آصف علی زرداری کے مقدمات میں سامنے آیا تھا، آصف علی زرداری مسٹر 10 سے 15 پرسنٹ بن کر جیل گئے مگر مرد حر کا خطاب حاصل کر کے جیل سے باہر آگئے۔ آج بھی عمران خان میڈیا کا ایک بڑا حصہ اور عوام کی اکثریت ملک سے کرپشن سمیت تمام مسائل کا حل ختم کرنے کا ٹھیکہ سپریم کورٹ کو دیکر جس طرح گھروں میں بیٹھے ہیں اس کا نتیجہ تو نظر آ رہا ہے کہ عمران خان اور اس کی ٹیم جس کیس کو کرپشن کے خاتمے کی بنیاد یا ٹرننگ پوائنٹ سمجھ رہی ہے اس میں وقت کا قاضی چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ میں الزامات کو لیکر کہاں جاؤں ، کوئی ادارہ سپریم کورٹ کے ساتھ تعاون کرنے کو تیار نہیں ہے ، ملک کا سب سے بڑا انصاف کا ادارہ سپریم کورٹ ، نیب ، ایف آئی اے سمیت لگ بھگ تمام اداروں پر عدم اعتماد کر چکا ہے۔ سپریم کورٹ نہ صرف حکومتی اداروں کے بارے میں بار بار ریمارکس جاری کر چکا ہے کہ کوئی ادارہ پانامہ کیس میں عدالت کے ساتھ تعاون نہیں کر رہا بلکہ عمران خان اور اپوزیشن کی دیگر جماعتوں کے بارے بھی بار بار کہہ چکا ہے کہ اب تک صرف بلیم گیم چل رہی ہے۔ کوئی فریق سنجیدہ نہیں کسی فریق نے اب تک دستاویزی ثبوت پیش نہیں کئے اگر عدالت یہ ریمارکس جاری کر رہی ہے تو کیا فریقین کیلئے یہ واضح پیغام نہیں ہے کہ کیس کس جانب بڑھ رہا ہے اس کیس کا نتیجہ کیا نکلے گا۔ ہر ذی شعور شخص کو سمجھ آ رہی ہے کہ عدالت کے پاس اگر ثبوت نہیں ہونگے تو عدالت کس بنیاد پر اتنا ہائی پروفائل کیس کا فیصلہ کر سکتی ہے۔ وزیر اعظم میاں نواز شریف کو صرف کسی کی خواہش کی بنیاد پر تو نااہل نہیں کیا جا سکتا، مقدمہ کے حالات و واقعات کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو مجھے صورتحال عدالتی کمیشن کی جانب بڑھتی ہوئی نظر آرہی ہے یہ کمیشن عدالتی بھی ہو سکتا ہے اور دیگر لوگوں پر مشتمل بھی ہوسکتا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کمیشن کے قیام کے بعد اداروں نے وہاں بھی ثبوت پیش نہ کئے تو کمیشن کیا کریگا ، معاملہ اگر حکومت کے اندر ہو تو اور بات ہے لیکن اگر معاملہ دوسرے ممالک کے ساتھ ہو تو پھر مشکل ہی نہیں ہوتی بلکہ بعض اوقات صورتحال ناممکنات کی شکل میں بھی تبدیل ہو جاتی ہے۔ باخبر افراد کو تو کافی عرصہ پہلے ہی علم تھا کہ چیئر مین ایف بی آر عدالت کو کیا جواب دیں گے اور یہ خط جو عدالت میں پیش کیا گیا ہے یہ کافی عرصہ قبل ایف بی آر کو وصول ہو گیا تھا۔ ایف بی آر صرف مناسب وقت کا انتظار کر رہا تھا تا کہ اس کو عدالت میں پیش کر کے کیس کو ایک نیا موڑ دیا جا سکے۔ میرے خیال میں پانامہ کیس قانونی اور آئینی سے زیادہ سیاسی نوعیت اختیار کر چکا ہے۔ اس کیس کے منفی اثرات نواز شریف خاندان پر جس طرح اثر انداز ہو سکتے ہیں وہ ہو سکتے ہیں عمران خان اور دیگر اپوزیشن جماعتیں اب ایسے ٹمپو اور پانامہ کیس کے ساتھ انتخابی میدان میں اترنا چاہتی ہیں۔ عمران خان اور حکومت مخالف حضرات کا خیال ہے کہ نواز شریف پانامہ کیس کی وجہ سے اپنی سیاسی موت مر چکا ہے مگر میرا نقطہ نظر مختلف ہے میرے خیال میں نواز شریف کا ووٹر اور ان کا کارکن آج بھی سمجھتا ہے کہ نواز شریف بے قصور ، بے گناہ اور نواز شریف کیخلاف سازش کی جا رہی ہے۔ اگر ووٹ دینے والوں کی حالت یہ ہے تو پھر عمران خان کس نئے پاکستان اور کس تبدیلی کی بات کر رہے ہیں۔ عمران خان جس نئے پاکستان کو بہت قریب دیکھ رہے ہیں مجھے تو وہ دور دور تک نظر نہیں آ رہا جہاں پر ملک کی سب سے بڑی عدالت کا ماضی پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ کوئی ادارہ اپنا کام نہیں کر رہا ہے۔ وہاں کس طرح ایمانداری اور احتساب کی بات کی جا رہی ہے ، نیا پاکستان کیسے بن سکتا ہے؟

مزید :

کالم -