کاش!آپریشن’’ردالفساد‘‘کی نوبت نہ آتی

کاش!آپریشن’’ردالفساد‘‘کی نوبت نہ آتی
کاش!آپریشن’’ردالفساد‘‘کی نوبت نہ آتی

  



جان کی امان پاؤں تو سچ یہ ہے کہ ہر ناکام آپریشن کے بعد نئے آپریشن کی ضرورت پڑتی ہے،ڈاکٹروں سے غلطی ہوجائے یا لاپروائی سے کوئی آلہ جراحی جسم میں رہ جائے تو دوبارہ جسم کی چیر پھاڑ کی جاتی ہے ۔اگر جسم ناکارہ ہوجائے تو پوسٹمارٹم کی ضرورت پڑتی ہے،ناکارہ جسم کی جراحی کرتے وقت تو نہ نشے کی ضرورت اور نہ کسی درد کا خوف ہوتا ہے،مریض کشمکش میں ہے کہ آپریشن ’’ردالفساد‘‘کو پہلی سرجری سمجھے یا آخری۔

2007 میں لال مسجد پر ہونے والے آپریشن کے بعدجب ملک میں مرض(دہشتگردی) اپنے عروج پر تھی ،ہر جگہ اور ہر روز خود کش حملے ملک کامقدر بنے ہوئے تھے تووادی سوات اور شانگلہ ڈسٹرکٹ میں ’’آپریشن راہِ حق ‘‘ کا آغاز کیا ہوا اور پھرِ اسی سال’’آپریشن راہِ حق دوئم‘‘۔ہر روز قوم کو ’’نوید ‘‘ سنائی جاتی رہی کہ آپریشن کامیاب ہورہا ہے ۔نقصان پہنچانے والے موذی جراثیموں کو ’’واصل جہنم ‘‘ کردیے ہیں،مریض کو تھوڑا آرام آتا تو پھر زوردار دھماکے سے درد اٹھتا اور مریض کو چیخ چیخ کر بتانا پڑتا کہ ڈاکٹر صاحب ابھی درد باقی ہے،مرض باقی ہے۔

پھر تو آپریشن پر آپریشن،سرجری پر سر جری ہوئی جس کا نقصان یہ ہوا کہ مریض پورے جسم کو لاغر کروا بیٹھا،ابھی آپریشن راہِ حق جاری تھا کہ 2008ء میں خیبر میں ’’آپریشن صراط مستقیم ‘‘ اور باجوڑ ایجنسی میں ’’آپریشن شیر دِل‘‘کا آغاز کر دیا گیا ، پھر 2009ء میں’آپریشن راہِ حق ‘‘ کے تیسرے ’’ایڈیشن ‘‘ کو لانچ کرنا پڑا ، ’’آپریشن بلیک تھنڈر اسٹروم‘‘ پھر ’’آپریشن بریخنا ‘‘ہوا ۔

پھر ایک نئے ڈاکٹر نے کمانڈ سنبھالی تو ’’کمینے ، کینہ پرور اورانسان دشمن‘‘ جرثوموں کو ختم کرنے کیلئے ’’آپریشن راہِ راست ،آپریشن راہِ نجات ‘‘کرنا پڑا۔

پھرایک قابل اور مرد آہن سرجن کی نگرانی میں 2014ء کو ’’آپریشن ضربِ عضب ‘‘ پوری قوت سے شروع کیا گیا جس نے کچھ لمحوں کیلئے درد میں کمی تو کی لیکن مرض ختم ہونے سے پہلے ہی صحت مند ہونے کی خوش خبری سنا کرداد وصول کرلی ،اس قابل طبیب کے رخصت ہوتے ہی

ان دشمنوں جرثوموں نے جسم کا روؤاں رؤواں ہلا کر رکھ دیا،پھر تو سمجھ نہیں لگ رہی تھی کہ سانحہ لاہور پر ماتم منائیں یا سانحہ لعل شہباز قلندر کا پرسا وصول کریں،سانحہ پشاور ،سانحہ چار سدہ پر افسوس کریں یا سانحہ مہمند ایجنسی پر تعزیت وصول کریں،مرض لاعلاج ہوجائے تو طبیبوں کی تمام تدبیریں ناکام ہوجاتی ہیں ۔ اب اک نیا فلسفہ سامنے آرہا ہے کہ آپریشن کے بعد پوسٹ کئیر نہ کرسلکنے سے بیرونی جرثوموں نے حملہ کیا ہے، گھس کر کارروائیوں کا فلسفہ پیش کرنے کے ساتھ ساتھ نئی مرض ’’جماعت الاحرار‘‘کی بھی تشخیص کی ہے، جس کے اچانک سے پورے جسم میں آثار نظر آرہے ہیں اور اس کے خلاف میڈیکل بورڈ کے سربراہ نے ’’آپریشن رَدْالفساد ‘‘ کے آغاز کا اعلان کیا ہے،ناخن میں لگنے والا زخم سرطان کی پورے جسم کو متاثر کرچکا ہے اس جسم کو اب جگہ جگہ سے کاٹا جائے گا،درد اور زیاد خون بہنے کی شاید تمیز بھی نہ کی جائے۔

اب تک جس مرض کو مذہب کے ساتھ جوڑتے آئے ہیں اس کی عجیب سے منطق ایک بین الاقوامی لیبارٹری نے اپنی رپورٹ میں کھول کر بیان کردی ہے، حقوق انسانی کی یہ لیبارٹری جسے ایمنسٹی انٹرنیشنل کہتے ہیں ’’واہیات‘‘قسم کے کمنٹس میں کہتی ہے کہ مرض کا ذمہ دار صرف مذہب نہیں ہے،کرپشن اور غربت بھی ہے اور یہ سیاستدان دنیا کو تقسیم کی جانب دھکیل رہے ہیں،حکمران دنیا میں خطرناک کھیل کھیل رہے ہیں،صرف ڈونلڈ ٹرمپ ہی نہیں بلکہ ترکی کے اردگان، فلپائن کے دوترتے، ہنگری کے اوربان،سعودی شاہ،ایرانی ڈاکٹر ،روسی پوتن،بھارتی مودی،پاکستانی نواز،بنگلہ دیشی حسینہ،برمن سوکائی سبھی اس کے ذمہ دار ہیں۔159 ممالک کی سیاسی صورتحال کے ٹیسٹ نے ظاہر کیا ہے کہ جسم میں اس مرض کی وجہ امریکہ اور یورپ میں تارکینِ وطن کو نشانہ بنانے والی نفرت انگیز تقاریر ، نسل، صنف، قومیت، اور مذہب کے نام پر حملوں نے موذی مرض کی شدت کو بڑھایا ہے۔

اس مرض کوختم کرنے سے پہلے اس کی ہلکی سی تعریف بتادی جاتی تو حق اور باطل میں تمیز کرنے میں’’جاہل‘‘لوگوں کو آسانی ہوتی،وگرنہ یہ تو سیاسی ڈیروں پر سامان تعیش کا بندوبست کرنے والوں،جاگیرداروں کے گھوڑوں، کتوں کو نہلانے دھلانے والوں کے ظلم سے تنگ آکر ’’گندے جرثومے‘‘ سمجھ بیٹھتے ہیں۔

اس مرض کی نرسریاں صرف مذہب نہیں،وڈیروں اور نوٹوں کی خاطر بے گناہوں کو تھانوں میں جانوروں سے بدتر سلوک کرنیوالے بھی ہیں،ہاتھ میں ترازو تھام کر ناانصافی کرنے والے جج بھی ہیں،فیس کے نام پر غریبوں کے کپڑے اتروانے والے پٹواری سے لیکر بڑے افسر تک سب ہیں،جرگوں اور پنچایتوں کے نام پر کمزوروں کی عزتیں تار تار کرنیوالے یہ منشی اور نمبردار بھی ہیں،ماڈل ٹاؤن میں تجاوزات کے خلاف آپریشن کے نام پر خون بہانے والے بھی ہیں،یہاں مذہب کوانتہا پسندی کا نام دے کر ایک ہاتھ سے تالی بجانے کی کوشش تو کی جاتی ہے لیکن جدیدیت کے نام پر ’’عریاں‘‘انتہاپسندی کو کھلا چھوڑ دیا جاتا ہے، ’’گندے جرثومے‘‘تو ان کے گھروں سے بھی برآمد ہورہے ہیں جو مذہب کو گناہ سمجھتے ہیں،جو روٹی ،کپڑا اور مکان کا نعرہ بھی لگاتے ہیں اور ان کو سہولت بھی فراہم کرتے ہیں،جو شہداء کے چیتھڑوں کی بے حرمتی کرکے طنزیہ تبصرے کرتے ہیں، دو انتہاؤں سے آنیوالی ریل گاڑی کو ایک پٹڑی پر دوڑانے کا نتیجہ تباہی ہوتا ہے سلامتی کی کوئی علامت نہیں ہوتا۔

یہ مرض پھیلا ہے تو جڑ سے ختم ہونا چاہیے،اس جڑ کو پانی دے کر پودا بنانے والوں کو بھی پکڑا جائے،ان کے خلاف بھی وہی سلوک کیا جائے جو مذہب کے نام پر پیدا ہونے والے جرثوموں کے ساتھ کیا جاتا ہے،فاسفورس بم مار کر دہشت اور آگ کو چنگاری دینے والوں کو نائٹ کلبوں میں ناچتا،گاتا نہیں چھوڑنا چاہیے،صرف اپنے پریس نوٹس اور ٹوئیٹس کے ذریعے جرثوموں کے خاتمے کی اطلاعات نہ دی جائیں،لکھی لکھائی تحریروں پر گذارا بہت ہوگیا ،اطلا عات کیلئے کوئی جوائنٹ میڈیا ٹیم بھی ہونی چاہیے ،قوم بہت زخم کھا چکی ہے اب اس کے جسم میں اور سکت نہیں ہے،کاش کہ ہم شاخ کو پکڑنے سے پہلے جڑ پکڑتے، اللہ کرے پوسٹ مارٹم کی نوبت نہ آئے،اسی آپریشن سے مریض کو مرض سے نجات مل جائے،کاش کہ ہم ہاتھی کی دم کو پکڑ جشن نہ مناتے،کاش!آپریشن’’ردالفساد‘‘کی نوبت نہ آتی۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ