A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 2

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

نیب اندھی،گونگی اور بہری، اسے صرف نواز شریف نظر آتا ہے،ملکی خارجہ پالیسی کا از سر نو تعین کیا جائے : اسفند یار ولی خان

نیب اندھی،گونگی اور بہری، اسے صرف نواز شریف نظر آتا ہے،ملکی خارجہ پالیسی کا از سر نو تعین کیا جائے : اسفند یار ولی خان

Feb 23, 2018 | 21:09:PM

چارسدہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی خان نے کہا ہے کہ ہر ادارہ اپنے اختیارات کی حدود میں رہتے ہوئے کام کرے ، نیب اس وقت صرف اور صرف نوازشریف اور اس کے خاندان کے پیچھے پڑی ہے اور دوسرا جو کوئی مرضی چلاتا رہے اس سے نیب کو کوئی فرق نہیں پڑتا، بلین ٹری سونامی کے حوالے سے جو کچھ کیا جا رہا ہے اور کچھ لکھا جا رہا ہے کیا نیب والوں کو یہ نظر نہیں آ رہا؟ ملک کی خارجہ اور داخلہ پالیسی کے ازسرنو تعین کے لئے کل جماعتی کانفرنس بلائی جائے اور تمام جماعتوں کی مشاورت سے خارجہ اور داخلہ پالیسی بنائی جائے اور اس کی تصدیق پارلیمنٹ سے کروائی جائے، سینیٹ انتخابات ہوں یا قومی انتخابات ہوں وہ اپنے وقت پر ہوں تاکہ جو احساس محرومی بڑھ رہی ہے، اس پر قابو پایا جائے خدا را سیاست کو پارلیمنٹ تک محدود کرو ، اگر عدلیہ اور مقننہ کے درمیان براہ راست تصادم ہو گا تو اس سے ملک کے لئے ذرہ برابر خیرنہیں ہو گی بلکہ صرف تباہی ہو گی۔

چارسدہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسفند یار ولی خان نے کہا کہ اگر ہر ادارہ یہ فیصلہ کرے کہ آئین میں جو مجھے اختیارات ملے ہیں ان سے میں نے آگے نہیں بڑھنا تو کوئی مشکل نہیں ہو گی، ہم پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ سینیٹ انتخابات ہوں یا قومی انتخابات ہوں وہ اپنے وقت پر ہوں تاکہ جو احساس محرومی بڑھ رہی ہے اس پر قابو پایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ بہت پہلے سے ہم چیختے چلاتے ہیں کہ خدا را سیاست کو پارلیمنٹ تک محدود کرو لیکن کچھ لوگ ایسے ہیں کہ پارلیمنٹ کی بجائے سیاست کو عدالتوں میں لے گئے،اب جب عدالتوں میں لے گئے ہیں تو خدا کرے اب یہ مسئلہ کنٹرول ہو جائے اور کوئی ٹکراؤ نہ آئے جس سے ملک کو نقصان پہنچے۔ اسفند یار ولی خان کا کہنا تھا کہ اگر میڈیا مجھ میں اور عمران خان میں کوئی فرق نہیں کرتا تو میرے ساتھ بڑی زیادتی ہے، اگر حالات خراب ہوئے تو نہ ہم عمران کے ساتھ ہوں گے اور نہ نوازشریف کے ساتھ ہوں گے بلکہ ہم پارلیمنٹ اور آئین کے ساتھ ہوں گے اور ان دونوں کے ساتھ ہم کھڑے رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت میں یہ خوبصورتی ہے کہ اس میں اختلاف کی گنجائش ہوتی ہے لیکن ہمارے بعض سیاستدان اختلاف کی اس حد کو نہیں سمجھ پا رہے اور سیاسی جنگ کو ذاتی جنگ میں تبدیل کر دیتے ہیں،اگر دو افراد سیاسی جنگ کو ذاتی جنگ میں تبدیل کرتے ہیں تو اس کا الزام سارے سیاستدانوں پر تو نہیں لگایا جا سکتا، اچھے برے لوگ ہر جگہ موجود ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی ماحول کو ٹھنڈا کیا جائے اگر عدلیہ اور مقننہ کا براہ راست تصادم ہو تو اس سے ملک کے لئے ذرہ برابر خیر نہیں ہوئی بلکہ صرف تباہی ہو گی،درجہ حرارت کو مزید بڑھانے کی بجائے کم کرنے کی ضرورت ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ نیب اندھی گونگی اور بہری ہے، ہر شام ٹی وی پر صحافی جو تبصرے کر رہے ہوتے ہیں کیا نیب والے یہ نہیں دیکھ رہے؟ بلین ٹری سونامی پر جو کچھ کیا جا رہا اور جو کچھ لکھا جا رہا ہے کیا نیب والوں کو یہ نظر نہیں آ رہا؟ نیب اس وقت صرف اور صرف نوازشریف اور اس کے خاندان کے پیچھے پڑی ہے دوسرا جو کوئی مرضی چلاتا رہے اس سے نیب کی کوئی دلچسپی نہیں۔

مزیدخبریں