ایوب خان، مولانا مودودی سے خفا کیوں تھے؟(3)

ایوب خان، مولانا مودودی سے خفا کیوں تھے؟(3)
ایوب خان، مولانا مودودی سے خفا کیوں تھے؟(3)

  



ایوب صاحب نے علما کے بائیکاٹ کا سارا غصّہ مولانا مودودی اور کسی حد تک مولانا احتشام الحق تھانوی [م: 11اپریل 1980ء ] پر ظاہر کیا اور پیر آف دیول شریف [م:25ستمبر 1995ء] کے حوالے سے لکھا ہے کہ: ’’یہ لوگ لاوٓڈ اسپیکروں پر اعلانات کرکے لوگوں کو 12 تاریخ کو عید منانے سے منع کررہے تھے‘‘۔

ایوب خان کا کہنا ہے کہ: ’’یہ لوگ متوازی حکومت چلانے، اور عوام کی بے خبری و معصومیت کو سیاسی استحصال کے لیے برتنے کی کوشش کر رہے ہیں133 میں ایسی صورت حال پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ اسلام صرف رسم ورواج اور تقریبات منانے، دوسرے الفاظ میں ’مْلّا ازم‘ تک محدود نہ رہ جائے بلکہ یہ زندگی کا ایک متحرک فلسفہ بن جائے‘‘[ایضاً،ص 48]۔ گویا کہ عید جیسے دینی شعار بھی ’رسم ورواج‘ میں شامل ہیں۔ وہ مزید لکھتے ہیں: ’’یہ معاملہ سمجھ لینا چاہیے کہ مْلاؤں میں شرپسند عناصر کو پیش قدمی نہیں کرنے دی جائے گی اور نتیجہ وہی ہوگا جو معاملہ عیسائیت کے ساتھ ہوا یا پھر ترکی میں اسلام کے ساتھ، اور دیگر بہت سے ممالک میں بھی‘‘ [ایضاً،ص 48]۔

یادرہے کہ سرکاری عید کو تسلیم نہ کرنے والے علما میں مولانا مودودی بھی شامل تھے اور ان کو گرفتار کرکے بنوں [خیبرپختونخوا]میں قید کردیا گیا تھا۔ ’ترقی‘ اور ’روشن خیالی‘ کی اس سے بہتر اور کیا مثال ہو سکتی تھی کہ جعلی عید نہ منانے والوں کی آزادی سلب کر کے ان کو دْور دراز کے علاقوں کی جیلوں میں بند کر دیا جائے۔

ایوب خان کی اس پسندیدگی سے حوصلہ پاکر فیض الحسن صاحب نے بھانپ لیا تھا کہ مولانا مودودی کی مخالفت کے نام پر مفادات حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ 9فروری 1967ء کو ڈائری میں لکھتے ہیں: ’’انھوں [یعنی فیض الحسن صاحب] نے مطالبہ کیا کہ انھیں اپنی فیملی کے اخراجات اور مودودی کے خلاف جارحانہ مہم چلانے کے لیے وسائل فراہم کیے جائیں۔

اس مطالبے کا خلاصہ یہ تھا کہ:انھیں بسوں کے نئے روٹ پرمٹ اورایک چھوٹی انڈسٹری شروع کرنے کے لیے سرمایہ دیا جائے۔ میں، فیض الحسن سے بے تکلفی سے بات کرسکتا ہوں۔ وہ ایک تعلیم یافتہ، آزاد خیال اور حسِ مزاح کے حامل انسان ہیں‘‘۔[ایضاً، ص 59]

18فروری 1967ء کو ایوب خان صاحب، جماعت اسلامی کے بارے میں لکھتے ہیں: ’’مغربی پاکستان کی کابینہ کے اجلاس میں ، خرابی پیدا کرنے والی جماعت اسلامی اور سیاسی مْلاؤں کا معاملہ زیربحث آیا، اور متعدد اقدامات تجویز کیے گئے۔ میں نے کہا: اصل مسئلہ یہ ہے کہ مْلّا اپنے آپ کو اسلام کی تعبیر کا اجارہ دار سمجھتا ہے‘‘۔ [ایضاً، ص 63]

مولانا مودودی کے خلاف مہم کے ذریعے فائدہ حاصل کرنے کے متمنی صاحبزادہ صاحب تنہا نہیں تھے۔ 20فروری 1967ء کو ڈائری کے اندراج سے معلوم ہوتا ہے: ’’کوثر نیازی [م: 19مارچ 1994ء] ملنے آئے۔ وہ بڑے ترقی پسند مْلّا ہیں، جو مودودی کے گمراہ کن فلسفیاور طرزِ عمل کے مکمل طور پر مخالف ہیں۔

انھوں نے مجھ سے وعدہ کیا کہ وہ مجھے مودودی کی سرگرمیوں کا توڑ کرنے کے لیے ایک تفصیلی یادداشت دیں گے اور بتائیں گے کہ مسلم لیگ کو اس سلسلے میں کیا کرنا چاہیے133 بعدازاں [چودھری غلام احمد۔ م: 24فروری 1985ء ] پرویز صاحب بھی ملے، انھوں نے ماوزے تنگ(م: 9ستمبر1976ء) کے فلسفے پر بڑا فکرکشا مطالعہ لکھا ہے۔ حقیقت ہے کہ اسلام حیات بخش فلسفہ ہے، جسے مْلّاازم کی گہری زنگ آلودگی سے صاف کرنے کی ضرورت ہے‘‘۔[ایضاً،ص64، 65]

25فروری کو ڈائری میں ایوب خان صاحب لکھتے ہیں: ’’گورنروں کی کانفرنس میں جماعت اسلامی کی طرف سے پیدا کیا جانے والا دباؤ زیربحث آیا، اور حسب ذیل نکاتِ کار کی مناسبت سے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی: اوّل یہ کہ علما اور مساجد کو کس طرح قومی پالیسی کی ترویج کا ذریعہ بنایا جائے؟ دوم یہ کہ مخالفت کرنے والوں کو کس طرح بے اثر بنایا جائے؟ سوم یہ کہ جماعت اسلامی جیسی سیاسی پارٹی نے مذہب کے لبادے میں موجودہ حکومت کو غیراسلامی قرار دینے کی مہم چلا رکھی ہے۔ اس سے کس طرح نبٹا جائے؟‘‘ [ایضاً، ص 66،67] (جاری ہے)

مزید : رائے /کالم