اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 97

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 97
اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 97

  

حضرت جعفر جلدیؒ کے ایک مرید خاص حمزہ علوی جو ہمیشہ آپ کی خدمت میں رہا کرتے تھے۔ انہوں نے ایک رات جب اپنے گھر جانے کے لیے اجازت چاہی تو آپ نے فرمایا ’’آج تھہر جاؤ، کل چلے جانا‘‘ لیکن انہوں نے ازراہ ادب کوئی جواب نہ دیا کیونکہ ان کا ارادہ یہ تھا کہ رات کو گھر پہنچ کر مرغ پلاؤ پکالیا جائے تاکہ صبح کو اہل و عیال کے لیے کھانے کا انتظام ہوسکے لیکن جب آپ کے حکم کے بعد یہ خیال آیا کہ اگر میں ٹھہر گیا تو اہل و عیال میرے انتظار میں بھوکے رہ جائیں گے۔ اس خیال سے انہوں نے دوبارہ اجازت طلب کرتے ہوئے کہا ’’مجھے گھر پر ایک ضروری کام ہے۔ اس لیے جانا چاہتا ہوں۔‘‘ یہ سن کر آپ نے فرمایا ’’تمہیں اختیار ہے۔ چنانچہ انہوں نے گھر پہنچ کرمرغ پکانے کے بعد جب اپنی بچی سے کہا کہ سالن کی دیگچی چولہے پر سے اتار لاؤ تو وہ بچاری دیگچی سمیت گرپڑی۔ جس کی وجہ سے تمام سالن بھی زمین پر گر پڑا لیکن انہوں نے کہا کہ زمین پر گرا ہوا سالن اٹھالو۔ گوشت کو دھوکر کھالیں گے۔

اسی وقت ایک کتا آیا اور زمین پر گرا ہوا سالن کھاگیا۔ یہ دیکھ کر انہیں بہت صدمہ ہوا اور اس خیال کے تحت کہ سالن سے تو محرومی ہوچکی ہے اب مرشد کی صحبت سے کیوں محروم رہوں، آپ کی خدمت میں حاجر ہوگئے۔

حضرت جعفر جلدیؒ نے انہیں دیکھ کر فرمایا ’’اے حمزہ جو شخص صرف ایک گوشت کے ٹکڑے کے لیے شیخ کو صدمہ پہنچات اہے اللہ اس کا گوشت کتوں کو کھلادیتا ہے۔ یہ سن کر وہ بہت متاثر ہوئے اور حکم عدولی سے ہمیشہ کے لئے تائب ہوگئے۔

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 96 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

***

حضرت غوث الاعظمؒ فرماتے ہیں کہ میں نے آغاز کار میں اللہ تعالیٰ سے یہ عہد کیا تھا کہ میں اس وقت تک کچھ نہ کھاؤں گا جب وہ خود نہ کھلائیں اور نہ کچھ پیوں گا، جب تک وہ خود نہ پلائیں۔

چالیس دن اسی حال میں گزرے تو ایک شخص نمودار ہوا اور کچھ کھانا مجھے دے کر رخصت ہوا۔ بھوک کے مارے میرا حال اس نوبت کو پہنچ چکا تھا کہ میرا نفس کھانے پر آمدہ ہوا چاہتا تھا۔ مَیں نے اپنے دل میں کہا ’’بخدا مَیں نے اپنے مولا سے جو عہد و پیمان باندھا ہے، میں اس پر قائم رہا ہوں۔‘‘

ناگہاں غیب سے مَیں نے آواز سنی کو کوئی الجوع الجوع (بھوک بھوک) کہہ رہا ہے اسی اثنا میں حضرت ابو سعید مخزومیؒ نے نزول اجلال فرمایا۔ یہ آواز سنی تو فرمایا’’عبدالقادرؒ ! کیا ہے؟‘‘

میں نے عرض کیا ’’یہ میرے نفس کی بے کلی اور بے چینی ہے۔ لیکن روح اپنی جگہ پر ہے اور استغراق و محویت کے عالم میں ہے۔

آپ نے فرمایا ’’اچھا ہمارے گھر چلو۔‘‘

مَیں نے بڑی دل سوزی سے عرض کیا ’’مَیں یہاں سے نہیں ہلوں گا۔‘‘

اتنے میں خضر علیہ السلام تشریف فرما ہوئے اور فرمانے لگے ’’اٹھو اور ابو سعیدؒ کی خدمت میں چلے چلو۔‘‘

مَیں چل دیا تو دیکھتا کیا ہوں کہ ابو سعیدؒ اپنے دولت خانے کے دروازے پر کھڑے ہوئے میرے لئے چشم براہ ہیں، مجھے دیکھتے ہی فرمانے لگے ’’اے عبدالقادرؒ ! مَیں نے جو بات کہی تھی وہ تیرے لیے کافی نہ تھی کہ تو نے حضرت خضر علیہ السلام کو زحمت دی۔‘‘

یہ فرما کر اپنے دولت خانے کے اندر مجھے اپنے ساتھ لے گئے اور جو کھانا تیار تھا لقمہ لقمہ میرے منہ میں اپنے ہاتھ سے دیتے جاتے تھے۔ یہاں تک کہ مَیں شکم سیر ہوگیا۔ ازاں بعد آپ نے مجھے خرقہ پہنایا۔

***

ایک دن حضرت قطب الدین اولیاؒ کے دوران وعظ کوئی خراسانی عالم بھی اجتماع میں شریک تھا۔ پورے مجمع میں آپ کے پرتاثیر وعظ سے ایک وجدانی کیفیت طاری تھی۔ اس وقت خراسانی عالم کو یہ خیال پیدا ہوا کہ میرا علم اس شیخ سے کہیں زائد ہے لیکن مقبولیت اس کو حاصل ہے۔ وہ مجھے تمام علوم پر دسترس کے باوجود بھی حاصل نہیں۔

اس وقت آپ نے باطنی ذریعہ سے اس کی نیت کو بھانپتے ہوئے مجمع سے فرمایا ’’قندیل کی طرف دیکھو کیوں کہ آج قندیل کا تیل اور پانی آپس میں باتیں کررہے ہیں۔ پانی کا قول ہے کہ خدا نے مجھے ہر شے پر فوقیت عطا کی ہے کیونکہ اگر میرا وجود نہ ہو تا تو لوگ شدید پیاس سے مرجایا کرتے اور مرتبہ تجھے حاصل نہیں، اس کے باوجود تو میرے اوپر آجاتا ہے۔‘‘

اس کے جواب میں تیل نے کہا ’’میں منکسر المزاج ہوں اور تجھے غرور و تکبر ہے کیونکہ میرا تخم پہلے زمین میں ڈالا گیا پھر پودا نکلنے کے بعد کاٹ اور کوٹ کر مجھے کولہوں میں ڈالا گیا۔ اس کے بعد مَیں نے خود لوجلا جلا کر دنیا کو روشنی عطا کی۔ اور جس قدر اذیتیں مجھ کو پہنچائی گئیں، مَیں نے ان سب کو نظر انداز کردیا۔‘‘

اتنا کچھ کہنے کے بعد آپ نے وعظ ختم کردیا۔ وہ خراسانی عالم آپ کا مفہوم سمجھ کر قدموں میں گر پڑا اور ہمیشہ کے لیے مرید ہوگیا۔

***

حضرت حاتم اصمؒ فرماتے ہیں ’’شہوت کی تین قسمیں ہیں۔ اول کھانے کی شہوت، دوم بولنے کی اور سوم دیکھنے کی۔ لہذا کھانے میں خدا پر اعتماد رکھو، بات ہمیشہ سچ بولو، دیکھ کر عبرت حاصل کرو اور اعمال صالحہ کو ریا سے دور رکھو۔ گفتگو میں حرس کو خیرباد کہہ دو۔ سخاوت و احسان کرکے کبھی نہ جتاؤ۔ جو شے تمہارے پاس موجو دہے اس میں بخل نہ کرو۔‘‘

***

حضرت علاؤ الدین علی احمد صابر کلیریؒ جب وفات پاگئے تو آپ کے مزار مبارک پر شیر پہرہ دیتے تھے۔ مجاور شیروں کے خوف سے دور رہتے تھے۔ ایک مدت کے بعد ہندوؤں نے روضہ مبارک کے قریب ایک دیوی کا مندر تیار کرایا۔ قریب تھا کہ اس مندر کی تعمیر سے روضہ مبارک گرجائے کہ ایک شیر اسی وقت آن پہنچا اور بہت سے ہندوؤں کو ہلاک کیا اور باقی فرار ہوگئے۔ دوبارہ کبھی اس طرف کسی ہندو نے منہ نہ کیا۔(جاری ہے)

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 98 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

کتابیں -اللہ والوں کے قصے -