آٹوموٹیو انڈسٹری کا مستقبل کے عنوان سے سمپوزیم کا انعقاد

آٹوموٹیو انڈسٹری کا مستقبل کے عنوان سے سمپوزیم کا انعقاد

  



لاہور(پ ر)پاکستان آٹو شو 2020 کے دوسرے دن”آٹوموٹیو انڈسٹری کا مستقبل(Future of Automotive Industry)“ کے عنوان سے ایک سمپوزیم منعقد ہوا۔ پی اے اے پی اے ایم سمپوزیم 2020 کے پہلے ایڈیشن کا مقصد ایک ایسا پلیٹ فراہم مہیا کرنا تھا جہاں صنعت کے اہم اسٹیک ہولڈرز اور اوریجنل ایکوپمنٹ مینوفیکچررز (او ای ایم) کو ایک دوسرے کے قریب آسکیں اور پائیدار ترقی کے لیے معلومات کا تبادلہ کرنے کے علاوہ پالیسیوں کو ہم آہنگ بنانے اور آٹو انجنیئرنگ انڈسٹری کو درپیش حالیہ چیلنجوں سے نمٹنے اور مواقع سے فائدہ اٹھانے کی غرض سے تجاویز پیش کر سکیں۔سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے چیف آرگنائزز، افتخار احمد نے کہا:”اس ایونٹ کا بنیادی مقصد صنعت-حکومت-تعلیمی اداروں کے درمیان رابطہ، اسٹیک ہولڈروں، انجنیئروں، اوریجنل ایکوپمنٹ مینوفیکچررز (او ای ایم)، آٹو پارٹس بنانے والوں (اے پی ایم)، اور استعمال کرنے والوں کو اکھٹا کرنا تھا تاکہ وہ بڑھتی ہوئی ضرورتوں کو سمجھ سکیں اور اپنے شعبے کی پائیدار ترقی کے لیے مناسب پالیسیاں تشکیل دینے کے علاوہ قومی معیشت میں اپنے حصے میں اضافہ کر سکیں۔“اٹلس ہنڈا لمٹیڈ کے کارپوریٹ چیف، عامر ایچ شیرازی، ملت ٹریکٹرز لمٹیڈ کے چیئرمین، سکندر مصطفیٰ خان، ہنڈائی نشاط کے چیئرمین، میاں محمد منشاء انجنیئرنگ ڈیویلپمنٹ بورڈ کے چیئرمین الماس حیدر اور پاکستان کی پہلی مقامی طور پر تیار کردہ آٹوموبیل کے بانی فیروز خان، پی اے اے پی اے ایم سمپوزیم 2020 کے اہم مقررین میں شامل تھے۔مؤرخہ 21سے23 فروری تک جاری رہنے والے اس پاکستان آٹو شو 2020 میں، توقع ہے کہ ایک لاکھ زائد افراد آئیں گے۔ یہ ملک میں آٹوموبیلز کی سب سے بڑی نمائش ہے جو ایکسپو سینٹر، لاہور میں جاری ہے۔ یہ نمائش پورے پاکستان میں 3000سے زائدبڑی، درمیانی اور چھوٹی صنعتوں کی نمائندگی کرنے والی پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹو موٹیو پارٹس اینڈ ایکسسریز مینوفیکچررز (پی اے اے پی اے ایم) کا انتہائی اہم قدم ہے۔اس سال نمائش کا عنوان ’میک ان پاکستان‘ ہے۔

جاپان، جرمنی، کوریا، چین، فرانس، ترکی، تھائی لینڈ، تائیوان، برطانیہ، امریکا، متحدہ عرب امارات اور سری لنکا سے تعلق رکھنے والی معروف کمپنیاں اپنی مصنوعات اور خدمات کی نمائش کر رہی ہیں جبکہ 150 بین الاقوامی خریداروں اور وفود سمیت 400 سے زائد بین الاقوامی مہمان بھی اس نمائش میں شریک ہیں۔نمائش میں شریک 100 نمائش کنندگان میں 10 غیر ملکی اور 90ملکی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔یہ شاندار نمائش 38,555 مربع فٹ رقبے پر جاری ہے اور اسے انجنیئرنگ ڈیویلپمنٹ بورڈ اور پاک وہیلزڈاٹ کام

(pakwheels.com) سمیت ہنڈا، سوزوکی، ہنڈائی اور ملت ٹریکٹرز کا تعاون حاصل ہے۔

نمائش کنندگان میں متنوع کیٹگریز میں کاریں، ٹرک، بسیں، ٹریکٹرز، رکشا، موٹرسائیکلیں، آٹو پارٹس بنانے والے، خدمات فراہم کرنے والے، مشینیں بنانے، ٹولز بنانے والے، یادگار کاروں اور ہیوی موٹر بائیکس بنانے والوں کے علاوہ ایکسسریز، ٹریکنگ اور انشورنس وغیرہ جیسی خدمات فراہم کرنے والے ادارے شامل ہیں۔اس نمائش کی خاص بات دلفریب جدتیں اور ٹیکنالوجیز ہیں جبکہ کارپوریٹ سوشل ریسپانسبلٹی پر زور دینے کے علاو ہ ٹریفک سیفٹی اور عوامی آگاہی کی مہمیں چلانے کے ساتھ مہمانوں نمائش کنندگان پر مشتمل

مفت ڈائریکٹری بھی تقسیم کی جائے گی۔

گزشتہ 10 برسوں کید وران،ملک میں کاروں کی اسمبلی کے لیے مقامی پرزوں کے استعمال میں خاصا اضافہ ہوا ہے جس کے باعث پاکستان آٹو موبیلز تیار کرنے والے 40 بڑے ممالک میں شامل ہو گیا ہے اور اسی کے ساتھ آٹو سیکٹر اب حکومتی خزانے میں ٹیکس ادا کرنے والے تین بڑے شعبوں میں شامل ہے اور مقامی طور پر تیار کردہ کاروں کا تقریباً 34 فیصد بطور ٹیکس ادا کر تا ہے۔

مزید : کامرس