کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے

کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے
کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے

  



انسانی زندگی کو اگر ایک خط ِ مستقیم سمجھ لیا جائے تو دو ایک ایسے نکتے ضرور دکھائی دیں گے جہاں اِس سیدھی لکیر نے اچانک اوپر یا نیچے کی طرف خم کھایا اور پھر ایک نئے زاویے پہ چلنے لگی۔ ہماری چال کا رخ بدلنے والے واقعات دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو رونما ہوئے اور حالات بدل گئے، دوسرے جو ہوتے ہوتے رہ گئے اور زندگی ایک اَور ہی دھارے پہ چل نکلی۔ جیسے میرے دادا، جو انگریز کے دَو ر میں وبائی امراض کے ٹیکوں سے ڈر کر امریکن مشن اسکول سے بھاگ نکلے تھے، بڑھاپے میں کہا کرتے کہ دسویں جماعت پاس کر لیتا تو خالو غلام علی مجھے نائب تحصیلدار بھرتی کروا دیتے۔ ہر دَور کا تقاضا جدا اور ہر دَور کا خالو الگ ماڈل کا ہوتا ہے۔ لہذا داد ا کو آزادی کے بعد کی کہانی کا اندازہ ہوتا تو وہ نائب تحصیلداری کی بجائے نائب صوبیداری کی دعائیں مانگا کرتے۔

آج نہ چاہتے ہوئے بھی خیال کا گھوڑا دلائل کی موٹر وے کی جانب چل پڑا ہے، وگرنہ کہنا تو یہ تھا کہ کوئی بھی منفرد واقعہ شعوری یا غیر محسوس طور پر ہمارے لئے کسی بڑی تبدیلی کا اشارہ ہو سکتا ہے۔ اسی لئے جنرل ضیا الحق کے مارشل لا کے دوران جب راولپنڈی کے حسن عباس رضا نے کہا کہ دیکھیں جی، ہمیں بھی پکڑ کر لے گئے تھے تو فیض احمد فیض کے منہ سے نکلا ”بھئی بہت اچھا ہوا، جو پکڑا نہیں گیا وہ جرنلسٹ کاہے کا ہے۔“ فیض تو اِس فلسفہ کی وضاحت برسوں پہلے یہ کہتے ہوئے کر چکے تھے کہ جیل جانا ایک بنیادی تجربہ ہے جس سے ’ابتدائے عشق کا تحیر‘ لوٹ آتا ہے۔ صحافی ہونے کے باوجود بعض لوگوں کے لئے جیل یاترا کا تجربہ ابھی ’پینڈنگ‘ ہے، بلکہ زندگی کی حیرتوں کو پانے کے لئے اُنہیں جیل تو کیا، تھانے تک بھی نہیں جانا پڑا۔ مجھے یہ حیرتیں ایک بارونق بینک میں میسر آئیں اور آج اُس یومِ حیرت کی چھٹی سالگرہ ہے۔

بینک کے لفظ میں خرابی یہ ہے کہ نام لیتے ہی ذہن میں کسی مالدار آدمی کا تصور گھومنے لگتا ہے۔ کلف زدہ شلوار قمیض، پیاری سی خوشحال ڈِھڈی، دیگر کیمیائی خواص آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 سے متصادم۔ اب کسی کو کیا خبر کہ لون ڈیفالٹر طبقے کی آنیا ں جانیاں اپنی جگہ، مگر مجھ جیسے جنٹل مین کو بھی چھوٹے موٹے لین دین کے لئے بینک میں جانا تو پڑتا ہے، خواہ نئے پاکستان میں گھر کی مجموعی قومی پیداوار میں تخفیف کے رجحان نے اُس کے لئے تمامتر معاشی سمجھ بوجھ کو ’آؤٹ آف باؤنڈ‘ قرار دے دیا ہو۔ اوپر سے یہ بندہء عاجز خون کی کمی کی طرح اُن اوصاف کی کمی کا شکار ہے جنہیں ماڈرن لوگ سماجی مہارتیں کہتے ہیں۔ چنانچہ چھ سال پہلے اُس روز بینک یاترا کی خاطر خود اعتمادی میں اضافے کے لئے اپنے آپ کو بیوی کی رفاقت سے مسلح کر لیا تھا۔

گلبرگ کے مانوس علاقے میں ہماری رواں صدی کی ہم عمر موٹر بینک کی نجی پارکنگ میں داخل ہوئی اور ہاتھ اٹھا کر سلام کرنے والے گیٹ کیپر کو میری شخصیت میں ضرور کوئی افسرانہ جھلک نظر آئی یا اُس نے سوچا ’لگدا تے نئیں پر خبرے۔‘ واجبی سی تلاشی کے ساتھ سکیورٹی چیک سے گزر کر ہم دونوں نے شیشے والا بڑا دروازہ پار کیا تو میرا دبا دبا سا اولین مشورہ تھا کہ کیوں نہ پہلے ٹوکن لے لیں۔ جواب میں وہی شائستہ مگر تحکمانہ نسوانی آواز آئی ”آپ کو کیا پتا؟ بس یہاں کرسی پہ بیٹھ جائیں، سب کچھ ہو جائے گا۔“ میرا کیا تھا مجھے نیم شناسا مرد و خواتین کے ہجوم میں چہرے گننے سے کون روک سکتا ہے، اور پھر انگریزی شاعر جیفری چاسر کی کینٹر بری ٹیلز کا ابتدائیہ جس میں دلچسپ کرداروں کی زمرہ بندی بھلائے نہیں بھولتی۔

چونکہ دیگر سرگرمیوں کی طرح ہمارا خسارہ زدہ اکاؤنٹ بھی سانجھا ہے، اس لئے بیگم نے قیادت سنبھال کر پہلے تو بیلنس دریافت کیا، جو غالباً محفوظ سطح پہ تھا۔ پھر مجھے تخلیقی موڈ میں چھوڑ کر ایک ایسی قطار میں جا کھڑی ہوئیں جو تھی تو مجھ سے بیس فٹ دور، لیکن اُن کے میرے درمیان ایک چوکور ستون حائل تھا۔ جب دس منٹ گزر گئے تو میں نے ذرا ٹیڑھے ہوکر ٹکٹکی باندھی اور جھلکیاں دیکھنے لگا۔ دیکھنے والوں کو گمان ہوا ہو گا کوئی شریف آدمی کنکھیوں سے اپنی بجائے کسی اور کی بیوی کو تاڑ رہا ہے۔ فریم کو ٹائٹ کیا تو ذرا فاصلے پہ کھڑا ایک آدمی بینک افسر کی طرح انہیں ساتھ والی لائن میں گھسنے کا اشارہ دے رہا تھا۔ اس کی بدولت بیگم نے جلد ہی کیشئر سے رقم لی، اور شروع ہوئی اس طرح کے دھیمے لہجہ کی واردات جس پہ ایک مولوی صاحب نے کہا تھا ”ہم نے جرمنی میں ایک میم کو یوں چپکے سے مسلمان کیا کہ اسے پتا ہی نہیں چلا۔“

گلی کارروائی کی جزئیات پولیس کے سامنے بیان کروں تو کوئی وجہ نہیں کہ مجھے اعانت جرم میں گرفتار نہ کر لیا جائے۔ وجہ یہ ہے کہ رقم لے لینے کے بعد بیگم صاحبہ او ر وہی آدمی مجھ سے کوئی پندرہ فٹ پرے نوٹ ہاتھوں میں پکڑ پکڑ کر جب قائد اعظم کے کوٹ کو باری باری ناخنوں سے چیک کر رہے تھے تو میں عادت کے مطابق بس دیکھتا ہی رہا۔ یہاں تک کہ بیگم اٹھیں، کیش کاؤنٹر پہ دوبارہ گئیں، شائد ایک آدھ ’جعلی‘ نوٹ تبدیل کیا اور واپسی پر اس بندے کو جگہ پہ نہ پا کر میری طرف لپکیں۔ ”وہ آدمی پانچ ہزار لے گیا ہے‘۔ میں نے کہا ’ہاں، وہ حلئے سے بینک افسر نہیں لگتا تھا۔“ ’تو آپ نے مجھے روکا کیوں نہیں؟‘۔ عرض کیا ’روکا تو رشید ڈرائیور کو بھی نہیں تھا جس نے مری کی چڑھائیاں چڑھتے ہوئے میرے لین نہ چھوڑنے کے حکم کو پامال کیا اور تیز رفتار ویگن سے ٹکر میں ہماری جانیں مشکل سے بچیں۔“ یہاں بات ختم ہو جاتی تو اچھا تھا۔

پر جناب، بینک کا واقعہ مری کے حادثے سے زیادہ اندوہناک نکلا۔ بیگم نے ساری کہانی مرحلہ وار سنائی تو مَیں نے کہا ذرا رقم پھر سے گنتے ہیں۔ اب محتاط گنتی جو کی ہے تو پانچ پانچ ہزار کے سات نوٹ غائب تھے۔ بینک عملہ کے ایک سینئر رکن ہمارا تذبذب دیکھ کر قریب آئے اور کچھ دیر بیٹھنے کا کہہ کر سی سی ٹی وی کی ریکارڈنگ دیکھنے چلے گئے۔ واپس آ کر انہوں نے بتایا کہ واردات کرنے والے نے بہت صفائی سے نوٹ اپنی جیب میں ڈالے ہیں اور یہ کہ اس کے ساتھ دو امدادی کارکن اور بھی تھے۔ ہمیں ’حق حلال کی کمائی‘ چھن جانے کا صدمہ تو ہوا، لیکن انسان اِس احساس کا کیا کرے کہ بینک والے فنکار کی شکل ابا کے ایک شاعر مزاج مرحوم دوست سے ملتی تھی جو اردو ملی پنجابی میں کہا کرتے: ”اپنی گاڑی ہووے، پائپ لگایا ہووے، ہر کوئی کہندا اے کم آن، مسٹر تصور، ہیو اے کپ آف ٹی۔“

فیض کے لئے جیل جانے کا تجربہ ابتدائے عشق کی حسیات واپس لے آیا تھا۔ میرے لئے بینک کے واقعہ نے ابتدائی پروفیسری کے دور کی ایک فوجداری واردات ذہن میں تازہ کر دی۔ یہ واقعہ ٹیلی گراف آفس کے پچھواڑے سیکریڈ ہارٹ اسکول سے چند گز دور پیش آیا تھا جہاں رات گئے پہلے تو یہی لگا تھا کہ کوئی پرانا جاننے والا دسمبر کی یخ بستہ تاریکی میں سرپرائز دے رہا ہے۔ چونکہ نیو ائر نائٹ تھی، اس لئے وقوعہ کا زمانی و مکانی تناظر مزیدار بن گیا۔ یعنی پہلے تو دو دوستوں کے ساتھ پلازہ سنیما میں فلم دیکھی، پھر گوالمنڈی میں بٹ بابا مچھلی فروش کی دکان پہ ڈنر کیا۔ یہاں سے پنڈی والے شاہد مسعود تو عزیزوں کی طرف گلبرگ روانہ ہو گئے اور سینئر ہاؤس فزیشن رفیق شیخ نے صلاح دی کہ میرے ساتھ میو اسپتال چلو، وہیں سے پیدل وائی ایم سی اے ہاسٹل جا نکلنا۔ مَیں نے اسپتال کے راستے والی ڈاکٹر رفیق کی تجویز رد کردی تھی۔

آج بھی میرے پاس کوئی دلیل نہیں کہ میں نے نصف شب کے وقت ہاسپٹل کی بجائے پٹیالہ گراؤنڈ اور پھر تھورنٹن روڈ کاا سنسان راستہ کیوں چنا، سوائے اس کے کہ میں نئے سال کی خوشبو میں دوائیوں کی مہک شامل نہیں کرنا چاہتا تھا۔ چنانچہ نیم روشن، یک و تنہا سڑک پر ایک پرانی کوٹھی کے باہر جینز، جیکٹ میں ملبوس سانولی رنگت والے ایک نوجوان نے چند قدم میرے ساتھ چل کر اچانک کہا ’ٹھہرو‘ تو بخدا میرا خیال یہی تھا کہ کوئی شاگرد میرے ساتھ ڈرامہ کر رہا ہے اور اُس کے ہاتھ میں چھوٹی سی تلوار نما چھری یا خنجر ڈرامے کا حصہ ہے۔ خوفزدہ ہونے کے لئے بھی آدمی میں دنیاداروں والی عقل ہونی چاہیے، جو مجھ میں آج بھی نہیں۔ میرا کنفیوژن شلوار قمیض میں ملبوس ایک پتلے سے آدمی نے دُور کیا جو ایک ہاور ہتھیار سے ملبوس اچانک میری بائیں طرف آ کھڑا ہوا تھا۔ ”جیب میں کتنے پیسے ہیں؟“ تب سمجھ میں آیا کہ یہ تو لوٹنے والے ہیں، رقم لے کر چھوڑ دیں گے۔ ڈر کی لہر مجرموں کے غائب ہو جانے کے بعد محسوس ہوئی اور میں پوری رفتار سے مال روڈ کی روشنیوں کی طرف بھاگنے لگا۔

سیکریڈ ہارٹ والے واقعہ کو اب چالیس سال ہونے کو ہیں، اس لئے ’شاگردوں‘ کی شکلیں ٹھیک سے یاد نہیں۔ البتہ بینک والے وارداتئے کو میرے لئے کسی دکان، مسافر کوچ یا ائر پورٹ پہ پہچان لینا مشکل نہیں ہو گا۔ سچ کہوں تو اچھا خاصا جہاندیدہ انسان لگتا تھا۔ بالکل وہ جن کے چہرے کی شادابی کاروباری تمدن کے وادھے گھاٹے چھین چکے ہوتے ہیں۔ پھر بھی دل میں ہماری طرح بال بچوں کے لئے ’حق حلال کی روزی‘ کمانے کی جبلی تمنا دم نہیں توڑتی۔ لگتا ہے کہ میرے ابا کے دوست کی طرح اِس مسٹر تصور کے پاس اُن دنوں نہ تو ’اپنی گاڈی‘ تھی، نہ پینے کے لئے پائپ کا تمباکو۔ اس لئے مَیں نے انہیں ایک نہیں کئی پینتیس ہزار روپے معاف کئے، بلکہ خواب و خیال کی دنیا میں ایک موٹر کار بھی خرید دی اور نیا پائپ بھی۔ خدا نہ کرے کبھی پھر ٹاکرہ ہو تو خوش ہو کر کہہ سکوں گا: ”کم آن مسٹر تصور، ہیو اے کپ آف ٹی“۔

مزید : رائے /کالم