بہار میں تاخیر؟ ہماری یادیں!

بہار میں تاخیر؟ ہماری یادیں!
بہار میں تاخیر؟ ہماری یادیں!

  



صبح جب پارک میں چکر لگایا تو خوشی ہوئی کہ کناروں پر کئی گڑھے کھدے ہوئے نظر آئے، جس سے اندازہ ہوا کہ موسم بہار کی شجرکاری کا وقت آ گیا ہے،اس کے ساتھ ہی جب چکر لگایا تو پہلے سے ساون میں لگائے گئے پودوں پر نظر پڑی تو ان میں سے کسی پر بھی پتے نظر نہ آئے،بلکہ سب سوکھی ہوئی ٹہنیوں میں تبدیل ہو چکے تھے،ایسی ہی کچھ صورتِ حال مرکزی گرین بیلٹ اور وحدت روڈ کے بعض حصوں کی تھی،مصطفےٰ ٹاؤن کی مرکزی گرین بیلٹ تو ایسی بدقسمت ہے کہ اس میں سال میں دو بار نئے پودے لگائے جاتے ہیں،پھلتا پھولتا کوئی نہیں کہ حفاظت نہیں کی جاتی اور یہاں بھینسیں اور گائے وغیرہ کی خوراک بن جاتے ہیں۔ پی ایچ اے والوں کے کان پر جوں بھی نہیں رینگتی۔بہرحال یہ تو وہ دُکھ ہے، جس کا اظہار انہی سطور میں ایک سے زیادہ بار ہو چکا، لیکن کوئی اثر نہیں ہوا۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اب ایل ڈی اے، پی ایچ اے، میٹروپولیٹن کارپوریشن اور دیگر اداروں نے میڈیا کے توجہ دلاؤ نوٹس کو دیکھنا، سننا یا پڑھنا چھوڑ دیا ہوا ہے کہ ٹی وی نہ دیکھنے اور اخبار نہ پڑھنے سے نہ طبیعت خراب ہوتی اور نہ ہی کوئی خرابی نظر آتی ہے، معاف کیجئے، بات اسی حوالے سے کچھ ماضی کی کرنا تھی کہ یہ سب یاد آ گیا۔

دوستوں کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ موسم بہار میں تاخیر ہوئی اور سردی کا دورانیہ بڑھ گیا، جبکہ سردی زیادہ بھی پڑی کہ درجہ حرارت یہاں بھی زیرو تک پہنچ گیا تھا۔ یہ گذشتہ چوتھائی صدی کا ریکارڈ بتایا جا رہا ہے، صبح ہم نے بھی غور کی تو ان دوستوں کا قائل ہونا پڑا کہ واقعی ابھی بہار کے پھول بھی کھل نہیں پا رہے اور نہ ہی درختوں کے پرانے پتوں کی جگہ نئے لے رہے ہیں،اس حد تک تو درست ہے کہ فروری ختم ہونے کو ہے اور حالات ایسے ہی ہیں، لیکن یہ ایسی بات نہیں کہ موسم کے بارے میں یہ کہا جائے کہ بہار تاخیر کا شکار ہو گئی،بلکہ حقیقت میں دیکھا جائے تو موسم پلٹ کر سابقہ مراحل کی طرف آ گیا ہے،اگر ایسا ہی رہے، ہم جو اس شہر لاہور کی پیدائش والے ہیں، ہمیں یاد ہے کہ اس سموگ، روگ اور گرمی کے دورانیئے میں طوالت آنے میں دیر اور سویر کا کوئی تعلق نہیں۔یہ وہی لاہور ہے،جو باغات کا شہر تھا، اور ہر طرف سبزہ تھا، تب نہ تو اے سی تھے اور نہ ہی آج کے دور کی طرح شہر گنجا تھا۔ ہم جو پرانے شہر کے رہنے والے ہیں،ایک ڈھائی مرلے کے تین منزلہ مکان میں پیدا اور بڑے ہوئے۔ یہ چھوٹی اینٹوں سے بنا، موٹی دیواروں والا مکان تھا، جس کی کئی کھڑکیاں گلی میں کھلتی تھیں، تب گرمیاں آتیں تو یہ کھڑکیاں کھل جاتی تھیں اور چھتوں کے اندر سے ہوا آتی تھی۔ ہمارے گھر کی پہلی منزل ہی ٹھنڈی ہوتی تھی اور جب ہمارے والد پہلی بار لکڑی کے بڑے بڑے پروں والا پنکھا لے کر آئے تو کئی محلے دار خواتین بھی دوپہر کو ہماری والدہ اور دادی جان کے پاس گپ لگانے آ جاتی تھیں، ہم لوگ باپ بیٹا وغیرہ تیسری منزل کی چھت پر سوتے اور کھیس لے کر لیٹنا پڑتا تھا، کافی دیر بعد ایک پیڈسٹل کا اضافہ ہوا تو چھت پر پہلے ایک دو گھنٹوں کے لئے چلایا جاتا تھا کہ چھت پر پانی کے چھڑکاؤ اور پنکھے کی ہوا سے اردگرد کی دیواریں بھی ٹھنڈی ہو جاتی تھیں، جہاں تک سردیوں کا تعلق ہے تو اس موسم میں کم از کم درجہ حرارت زیرو یا دو سنٹی گریڈ ہونے پر خبر بن رہی ہے، تب تو یہ معمول تھا، ہمیں بہت اچھی طرح یاد ہے کہ ہمارے گھر میں انگیٹھی میں لکڑی کے کوئلے جلائے جاتے اور گھر کو گرم رکھنے کی کوشش کی جاتی تھی، اس انگیٹھی پر پانی بھی گرم ہوتا،جو منہ ہاتھ دھونے اور پھر نل کے پانی میں شامل کر کے نہانے کے کام آتا تھا، اس دور کے درجہ حرارت کا اندازہ اس امر سے لگا لیں کہ ہمارے والد صاحب کے پاس چسٹر (اوور کوٹ) تھا اور وہ پہنا کرتے تھے،جبکہ ہمارے لئے گھر میں بنے سویٹر، کوٹ اور ٹوپی کا اہتمام کیا جاتا تھا، تب موسمی کیفیت معمول کے مطابق تھی،جاڑے کے موسم کا آغاز ستمبر کے وسط سے ہو جاتا، اسے کھلا موسم کہتے، اس کے دوران درجہ حرارت بتدریج کم ہوتا تھا، نومبر میں باقاعدہ سردی شروع ہو جاتی اور دسمبر جنوری سخت موسم ہوتا، جب درجہ حرارت زیرو تک چلا جاتا اور کبھی کبھار مائنس بھی ہو جاتا تھا،ہم لڑکے لوگ منہ سے دھواں نکال نکال کر بہت خوش ہوتے تھے، پھر فروری شروع ہوتا تو بسنت کا سلسلہ سامنے آتا،15فروری کے بعد کسی تاریخ کو یہ تہوار ہوتا (جو اب خونی ہو چکا) اور پھر کہا جاتا آئی بسنت پالا اڑنت کہ15فروری کے بعد سے دھوپ بہتر اور درجہ حرارت بڑھنا شروع ہوتا، تب فروری اور مارچ کے مہینے کو بہار کا موسم کہا جاتا اور مارچ ہی کے دوسرے ہفتے سے پھول کھل کر خوشی دیتے اور درختوں کے پیلے پتوں کی جگہ سبز پتوں کی بہار آ جاتی، گھاس کے میدان مکمل سبز ہو جاتے، آنکھوں کو فرحت اور دِل کو سکون دیتے تھے، اسی طرح گرمی کے لئے مئی اور جون تھے، جبکہ برسات جولائی اور اگست میں ہوتی،اگست کے وسط سے ستمبر کے پہلے ہفتے تک حبس بھی ہوتا تھا۔ یوں یہ سب معمول تھا اور کوئی حیرت نہیں ہوتی تھی۔ آج جدید دور میں سب کچھ الٹ ہو چکا اِس لئے تعجب کا اظہار ہوتا ہے، ہمیں تو اطمینان ہے کہ موسم پھر سے اپنے مقام پر آنا شروع ہو گیا،لیکن تشویش یہ ہے کہ سر سبز پاکستان کے خواب کو حقیقت بنتے بہت طویل مدت ہو جائے گی کہ متعلقہ احباب حالات کا تجزیہ کرنے کے اہل ہی نہیں ہیں، اور خود انسان نے سبزہ ختم کر کے اپنے لئے پریشانی پیدا ہے، لاہور قبضہ گروپوں کی زد میں ہے۔ یہاں تو قبروں پر بھی مکان تعمیر کر لئے گئے، اب محکمے بھی ”نمبر ٹنگ“ واردات میں ملوث ہیں، تعجب نہ کریں، تعاون کریں، متعلقہ محکموں کا محاسبہ کریں کہ درخت کاٹے نہ جائیں اور جو پودے لگائے جائیں ان کی حفاظت کی جائے کہ وہ درخت بن سکیں۔

مزید : رائے /کالم