کامریڈ لال خان بھی رخصت ہو گئے

کامریڈ لال خان بھی رخصت ہو گئے
کامریڈ لال خان بھی رخصت ہو گئے

  



دنیا میں بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنی زندگی کا ایک راستہ ایک نظریہ بنائیں اور پھر اس پر جمے رہیں۔ پاکستان جیسے ملک میں تو ایسے لوگوں کا ملنا خواب و خیال سے زیادہ نہیں، کیونکہ یہاں سیاسی طبقہ ء اشرافیہ سے لے کر دانشوروں اور مفکرین تک نے نظریہ ء ضرورت کے تحت اپنا راستہ تبدیل کیا ہے۔ مشکل کی صورت میں تو نظریات بدلنے والے قدم قدم پر مل جاتے ہیں، مگر اس سماج میں ایک ایسا شخص بھی تھا، جو اپنے نظریئے پر آخری سانس تک کھڑا رہا، مشکلات اور صعوبتوں کے باوجود اس نے اپنا راستہ تبدیل نہیں کیا۔ چند روز پہلے وہ شخص کینسر کے ہاتھوں زندگی کی بازی ہار گیا۔ لاہور میں 64سالہ تنویر گوندل لال خان کی رحلت نے طبقاتی جدوجہد کا ایک سنہری باب بند کر دیا۔ لیکن لال خان نے جو شمع جلائی ہے۔ وہ بجھے گی نہیں۔اس کی روشنی مزدوروں، کسانوں، محنت کشوں اور نظریاتی لوگوں کو اپنے حقوق کا شعور دیتی رہے گی۔ تنویر گوندل نے محنت کشوں کے سرخ رنگ کو اپنی زندگی کا حصہ اس طرح بنایا کہ ان کا نام ہی لال خان پڑ گیا اور آج وہ پوری دنیا میں مارکسی اور سوشلزم کے انقلاب اور نظریہ کی وجہ سے پوری دنیا میں پہچانے جاتے ہیں۔ پاکستان میں ٹریڈیونین کو ایک طاقت کا درجہ دلانے والے لال خان اپنے لئے ایک خوشحال راستے کا انتخاب کر سکتے تھے، مگر انہوں نے دشوار راستے کا انتخاب کیا اور زندگی میں مشکلات سے گزرتے رہے۔

یہ غالباً 70 کی دہائی کا اواخر تھا، جب میری لال خان سے پہلی ملاقات ہوئی۔ مَیں گورنمنٹ کالج ملتان، جو اب گورنمنٹ ایمرسن کالج ملتان ہے، میں بے اے کا طالب علم تھا۔ حبیب اللہ شاکر، ڈاکٹر صلاح الدین حیدر، اعجاز مڈو جیسے سٹوڈنٹس لیڈر لیفٹ کی طرف سے سرگرم عمل تھے۔ مَیں بھی اسی سرخ گروپ کا حصہ تھا، بلکہ ایشیاء سرخ ہے کا نعرہ لگانے اور لگوانے والوں میں پیش پیش رہتا تھا۔ انہی دنوں لال خان این ایف ایس کے ایک جلسے میں شرکت کے لئے گورنمنٹ کالج ملتان آئے۔ ضیاء الحق کا زمانہ تھا۔ خاص سختی ہوتی تھی، مگر اس کے باوجود جلسے ہوتے، تقریریں کی جاتیں، جن میں زیادہ تر جمہوریت اور سوشلزم کا تذکرہ ہوتا اور آمریت پر تنقید کی جاتی۔ لال خان کی باتوں اور تقریروں میں انقلاب کی خوشبو ہوتی تھی۔ سوشلزم انقلاب، مزدور کا انقلاب، کسان کا انقلاب وغیرہ وغیرہ، جوان میں ہمیں بھی یہ نعرے بہت پُرکشش لگے۔ سامنے جمعیت ہوتی تھی جو ”سبز ہے سبز ہے ایشیاء سبز“ ہے کے نعروں سے جواب دیتی تھی۔ لال خان نے نشتر میڈیکل کالج ملتان کا محاذ سنبھال رکھا تھا، جہاں وہ ایم بی بی ایس کے طالب علم تھے۔ شروع میں تو ضیاء الحق نے تھوڑی ڈھیل دیئے رکھی، مگر پھر شکنجہ کسنا شڑوع کیا۔ این ایف ایس کے جس امیدوار سلیم حیدرانی کو ہم نے بہاؤ الدین ذکریا یونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین کا صدر بنایا تھا، لال خان اور اس پر زمین تنگ ہوئی تو دونوں ملک چھوڑ گئے۔ لال خان کو تو بغاوت کے الزام میں فوجی عدالت نے باقاعدہ سزائے موت سنا دی، اس کی وجہ غالباً یہ بھی تھی کہ وہ ضیاء الحق کے اسلامی انقلاب کو ایک ڈھونگ قرار دیتے تھے اور ابھی تک بھٹو کے نظریئے سوشلزم ہماری معیشت ہے، کے نظریئے کا پرچار کر رہے تھے۔

لال خان عالمی سطح پر اس وقت ایک نظریاتی انقلابی بن کر سامنے آئے جب سوویت یونین کے زوال پر دنیا اُسے سوشلزم و مارکسزم کا زوال اور مغرب کے سرمایہ دارانہ نظام کی فتح قرار دے رہی تھی۔ اس موقع پر انہوں نے سوشلزم کا نظریہ چھوڑنے کی بجائے جنوبی ایشیاء میں مارکسٹ تنظیم کی بنیاد رکھی اور پھر پوری قوت سے اس کا دفاع بھی کیا۔ اپنی بیسیوں تحریروں کے ذریعے مارکس، اینجلز، لینن اور ٹروٹسکی کے سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف نظریات کی تبلیغ کی اور اس پروپیگنڈے کو غلط اور گمراہ کن قرار دیا کہ سوشلزم کا سوشل سسٹم ناکام ہو گیا ہے۔ ان کے نظریاتی اور انقلابی ہونے کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ زندگی کی آخری سانس تک ان کے سوشلزم پر یقین و اعتماد میں کوئی کمی نہیں آئی۔ فروری کے اوائل میں لاہور کینسر کے مرض کی آخری اسٹیج پر ہونے کے باوجود وہ لال لال تحریک کی ریلی میں شریک ہوئے۔ ان کی سوچ کا محور مزدور طبقے کی خوشحالی تھی۔وہ اس نظریے کے قائل تھے کہ صرف مزدور ہی کسی معاشرے کو آگے لے جا سکتے ہیں۔ اس لئے سرمایہ دارانہ نظام میں صرف مزدوروں کو دبایا جاتا ہے۔ وہ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ مغرب کے سرمایہ داری نظام نے تیسری دنیا کے غریب ملکوں کو اپنا غلام بنا کے رکھا ہوا اور اس کے لئے وہ اپنے ایجنٹوں کو استعمال کرتے ہیں جو غریبوں اور مزدوروں کی آواز کو سرمایہ دارانہ حربوں سے ابھرنے نہیں دیتےّ لال خان ایشین مارکسسٹ ریویو کے چیف ایڈیٹر اور پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپنی (PTUDC) کے جنرل سیکرٹری تھے۔ وہ عملی کے ساتھ فکری جدوجہد کے بھی قائل تھے۔ اس لئے اپنی تحریروں کے ذریعے ورکنگ کلاس کے لئے آواز بلند کرتے رہے۔2000ء میں ان کی ایک معرکہ آرا تصنیف ”سوشلسٹ انقلاب اور پاکستان“ سامنے آئی۔ اس کتاب میں انہوں نے کھل کر اپنے نظریات، سوشلسٹ انقلاب کی اہمیت اور پاکستان کے مسائل کا ذکر کیا ہے۔12ابواب پر مشتمل اس کتاب میں اگرچہ بہت سی ایسی باتیں بھی ہیں، جن سے اختلاف کیا جا سکتا ہے۔ تاہم ایک نظریاتی شخص کی آنکھ سے لال خان نے زندگی اور حالات کو جس طرح دیکھا اسے پوری دیانتداری سے اس کتاب میں سمو دیا۔ اس کتاب کی کئی باتیں تو ایسی ہیں کہ جو آج سچ ثابت ہو رہی ہیں، مثلاً اس کتاب کا چوتھا باب جو ”معیشت کا زوال، کالے دھن کا پر انتشار پھیلاؤ“کے عنوان سے موجود ہے۔اس تلخ حقیقت کو سامنے لاتا ہے کہ سرمایہ داری نظام میں معیشت چند ہاتھوں میں یرغمال بن جاتی ہے اور کالا دھن اس کی بنیاد ہوتا ہے۔ معیشت اس وقت مضبوط ہوتی اور پھلتی پھولتی ہے جب معاشرے کے تمام طبقوں تک خوشحالی کے اثرات پہنچتے ہیں۔ چند مفسد طبقے کی خوشحالی درحقیقت معیشت کا سب سے بڑا زوال ہوتی ہے۔ آج ہم اسی صورت حال کا شکار ہیں۔ چند فیصد سرمایہ دار طبقہ جب چاہتا ہے اشیاء کی قیمتیں بڑھا کر اربوں روپے اکٹھے کر لیتا ہے اور اس کی خوشحالی غریبوں کی بدحالی بن جاتی ہے۔ آج سرمایہ دار اپنے کالے دھن کی وجہ سے مضبوط اور قومی خزانہ کمزور ہے، لال خان اس کا علاج سوشلزم تجویز کرتے ہیں، کیونکہ سوشلزم میں ارتکاز سرمایہ کی گنجائش نہیں ہوتی اور اصول مساوات کے تحت تمام طبقات تک خوشحالی کے اثرات منتقل ہوتے ہیں۔ اسی کتاب میں ”زراعت کا بحران“ کے موضوع پر ایک اہم باب موجود ہے۔ جو ہمارے آج کے مسائل کی بھرپور نشاندہی کرتا ہے۔ مَیں سمجھتا ہوں لال خان جیسے لوگ کسی معاشرے کا حسن ہوتے ہیں جو اس بات کی پروا نہیں کرتے کہ ان کے حامی یا مخالف کون ہیں، کتنے ہیں، بلکہ وہ نیک نیتی سے اپنے سماج کو سدھارنے کی جدوجہد کرتے ہیں اور ہواؤں کے رخ پر چلنے کی بجائے ہواؤں کا رخ بدلنے کی جدوجہد میں لگے رہتے ہیں۔

مزید : رائے /کالم