مہنگائی۔بے روزگاری اور آمدنی

مہنگائی۔بے روزگاری اور آمدنی
مہنگائی۔بے روزگاری اور آمدنی

  



پاکستان کثیر المقاصد کواپریٹو سوسائٹی یعنی، PAKISTAN MULTI-PURPOSE COOPERATIVE SOCIETY (PMCS)کے نام سے ہی ظاہر ہوتا ہے کہ امدادِ باہمی کے ا صولوں پر بنایا ہوا ایسا ادارہ،جو اپنے ممبران کے لئے روزگار اور مناسب آمدنی کے ذرائع مہیا کر سکے۔ مندرجہ ذیل دیئے ہوئے پیش لفظ سے سوسائٹی کے اغراض و مقاصد سے مکمل آگاہی ہو جاتی ہے۔

Realizing that most of our young qualified doctors, engineers, teachers, technicians and independent professionals are out of suitable jobs in Urban areas and further realizing that Government jobs in Rural areas are unattractive due to poor quality of life, ill equipped clinics, hospitals and schools, we the sponsors of Pakistan multipurpose cooperative Society Ltd. have decided to pool our resources and set up state-of-the art hospitals, clinics, schools, vocational training institutes, light engineering workshops, live-stock clinics and hospitals, road transportation, consultancy services, agriculture extension services, housing and all such independent professions and services where individual professional skills of members are best utilized through financial and Institutional support of the society and hence providing jobs, improving educational and health facilities in Urban and Rural Areas on self-help basis. And through Cooperative effort of the members of the Society to assist Government's Poverty Alleviation, Health and Education improvement programmes.

یعنی PMCS ہر کاروبار، صنعت کاری، خدمات، زراعت اور اس سے جڑی ہوئی تمام صنعتیں (پولٹری، ماہی گیری، بھیڑ بکری اور گائے بھینس کی تجارتی activity، ڈیری فارمنگ تازہ اور صحت مند سبزیوں کی کاشت کاری اور فروخت، قصبات میں اچھے سکول اور کم آمدنی والے افراد کے لئے مکانوں کی تعمیر، کوآپ سٹورز کی طرز پر گراسری کی فروخت اور ہر ایسا معاشی عمل جو عوام کے لئے روزگار اور آمدنی کے ذرائع پیدا کرے اور مہنگائی کم کرنے میں مدد دے۔ PMCS پڑھے لکھے، ٹیکنوکریٹس، پروفیشنلز، اعلیٰ ریٹائرڈ افسران، بینکار اور ترقی پسند کاشتکاروں پر مشتمل ہے۔ ہماری سوسائٹی کی خوش قسمتی کہ پنجاب میں سبزیوں کا کامیاب ترین کاشتکار بابا حاکم دین ہمارے ساتھ ہے۔ 150 ایکٹر اراضی پر ہر قسم کی اعلیٰ اور صحت مند سبزیاں PMCS کے لئے مہیا ہونگیں۔ بابا حاکم دین 84 سال کی عمر میں بھی چاق و چوبند ہے۔ اُس کی سبزیاں کراچی اور بیرونِ ملک جاتی ہیں، جن قارئین نے خدا بخش بُچہ صاحب کا کردار زراعت کے حوالے سے سُنا ہے، بابا حاکم دین آج کا خدا بخش بُچہ ہے۔ سبزیوں کی قومی نمائش میں بابے کا فارم ہمیشہ فرسٹ یا سیکنڈ آتا ہے۔ یہ تمام ممبران اپنے اپنے طور پر خوشحال ہیں، سچ پوچھیں تو انہیں کسی روزگار کی یا آمدنی کی ضرورت نہیں ہے۔ دراصل ہم فاؤنڈر ممبران نے اپنی صلاحیتوں، تجربے اور اچھی ساکھ کو اپنے بے روزگار، ہنر مند چھوٹے درجے کے تارکین ِ وطن کے لئے ایک پلیٹ فارم کواپریٹو سوسائٹی کی شکل میں مہیا کیا ہے۔ آج کل 5 یا 10 لاکھ روپے کے سرمائے سے تنہا فرد کوئی معقول کاروبار نہیں کر سکتا، لیکن اجتماعی سرمائے سے بڑے پیمانے کے کام بھی کئے جا سکتے ہیں۔ آج کل اخباروں میں پڑھ رہے ہیں کہ مڈل ایسٹ میں کام کرنے والے ہنر مند اور مزدور پیشہ پاکستانی ملازمت سے نکالے جا رہے ہیں۔ اُن کے پاس اِتنی بچتیں بھی نہیں ہوں گی کہ وہ اُن سے گھر بھی چلا سکیں اور کاروبار بھی کر سکیں۔ PMCS ممبر شپ کے لئے زیادہ توجہ تارکین ِ وطن کی بحالی کے لئے دے رہی ہے تاکہ اُن کو اپنی بچتوں پر حلال کی مناسب آمدنی مل سکے۔ابھی جو پہلا کاروبار سوسائٹی کرنے جا رہی ہے اُس کاروبار میں آمدنی کی شکل 6-7 ماہ میں ہی نکل آئے گی اور بہت سے تارکین ِ وطن کے لئے چھوٹی اور درمیانے درجے کی ملازمتیں بھی پیدا ہو سکیں گی۔

ہمارا پہلا منصوبہ موسمی سبزیوں کی مارکیٹنگ ہے، ہاؤسنگ سوسائٹیز میں خاص طور سے وہ سوسائٹیاں ہیں،جن کی تخلیق اور تعمیر اور تکمیل میرے سابقہ بینکوں کے سرمائے سے ہوئی، مثلاً کینال ویو، ویسٹ ووڈ، ویلنشیاء اِزمیر اور پانچ مرلے کے ویلنشیاء ہومز، جو اَب Status symbol بن گئے ہیں۔ کلسٹر ہومز کا تصوّر میَں نے اس وقت کے سیکرٹری ہاؤسنگ پنجاب سے لیا تھا۔

سستی سبزیاں فروخت کرنے کا منصوبہ یہ سمجھ لیں کہ سوسائٹی کاشتکاروں سے موسمی اور High value سبزیاں تھوک کے حساب خرید کر ڈائریکٹ ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے مکینوں کو فروخت کرے گی۔ سبزیوں کی فروخت میں مڈل مینوں کو نکال دیا جائے تو سبزی کی چوتھائی سے بھی زیادہ قیمت کم ہو جاتی ہے۔ پھر بھی سوسائٹی اِتنا منافع کمالے گی جو سوسائٹی کے مستحق اور چھوٹے درجے کے حصہ داروں کو تقسیم کیا جا سکے گا۔ ایسے ممبران کو روزانہ مزدوری سے لے کر سیلز مینوں اور Procurement کے فرائض انجام دینے والوں کی ملازمتیں بھی مل سکیں گی۔ سبزیوں کی مارکیٹنگ میں مہارت اور اپنے ممبران کو مناسب منافع دینے کی استعدادحاصل کرنے کے بعد سوسائٹی اراضی کے بڑے بڑے قطعات سالانہ پٹے پر لے کر Organic سبزیاں نہ صرف خودکاشت کرے گی، بلکہ اُن کو ایکسپورٹ بھی کرے گی۔جب میَں نے اس سوسائٹی کی شروعات کی تھی، اُس وقت میَں نے بنیادی ممبران میں روز گار پیدا کرنے والے شعبہ جات کے ماہرین کو شامل کیا تھا۔ لہٰذا PMCS میں تعلیمی ماہرین بھی ہیں اور اعلیٰ ڈاکٹر بھی، تاجر بھی اور بڑے کاشتکار بھی،ریٹائرڈ بیوروکریٹ بھی، وکلاء بھی، سروسز دینے والے، ایکسپورٹر اور ماہر تعمیرات بھی ہیں۔اِن احباب کو جب میَں نے PMCS کا یہ مقصد بتایا کہ ہم سب مل کر Investment کا ایک ایسا ذریعہ بنائیں،جس کے ذریعے متوسط، غریب اور ہنر مند تارکینِ وطن کے لئے آمدنی اور روزگار کے ذرائع پیدا ہوں۔ ہم سب (اِبتدائی ممبران کو)اللہ تعالیٰ نے دنیاوی، علمی، معاشی آسانیوں سے نو ازا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اچھی شہرت بھی دی ہے۔ یہ اللہ کا دیا ہوا سرمایہ ہے،جو ہمیں اپنے کمزور اور ضرورت مند لوگوں کے لئے وقف کرنا چاہئے،جبکہ ہر ممبر کو اُس کی اپنی Investment پر مناسب آمدنی ملے گی۔ میری اِس درخواست پر میرے دوستوں نے میری ہمت افزائی کی اور PMCS پورے پنجاب کی بنیاد پر عالم ِ وجود میں گئی۔

ہمارا پروگرام ہے کہ پنجاب کے ہر ضلع یا قصبہ، یہاں تک کہ دیہات میں وہیں کے مقامی باشندے PMCS کی شاخ بنا کر کوئی بھی کاروبار جو امدادِ باہمی کے اصولوں پر ہو سکتا ہے، وہ کریں اور جہاں سوسائٹی کی شاخوں کو تکنیکی، اِنتظامی یا مالی امداد کی ضرورت ہو وہاں Main سوسائٹی مدد کرے۔اِن سوسائٹیوں کی اپنی انتظامیہ ہوگی، اپنے مالی معاملات ہوں گے، لیکن معیار نہ صرف یکساں ہو گا، بلکہ اُس سوسائٹی کے کاروبار کی Feasibility بھی بڑے دفتر کی مشاورت سے ہوگی تاکہ غلط کاروبار میں سرمایہ کاری نہ ہو سکے اور سرمایہ کاروں کا نقصان نہ ہو۔

ترقی پذیر ممالک کی معاشی ترقی میں تحریکِ امداد ِ باہمی کا بہت بڑا ہاتھ ہے چونکہ میں َ خود ایک سر گرم کوآپریٹررہا ہوں اور مجھے ہندوستان، جاپان، ملائیشیاء، سری لنکا اور یورپ کی مختلف النوع امدادِ باہمی کی سوسائٹیاں دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے اِس لئے میَں کہہ سکتا ہوں کہ ہماری حکومتوں نے امدادِباہمی کی تحریک اور محکمہ سے بہت مجرمانہ غفلت برتی ہے۔ ہندوستان دنیا کی دو عظیم سوسائٹیوں کے لئے مشہور ہے۔اِنڈین فارمرز فرٹیلائزر کواپریٹو سوسائٹی جو 5 کروڑ کاشتکاروں کی ایسی کواپریٹو سوسائٹی ہے، جو اہم کھادیں خودتیار کرتی ہے اور خود ہی ممبران میں فروخت کرتی ہے اور ایکسپورٹ بھی کرتی ہے۔ حکومت ِ ہند نے ہندوستان کے مشرقی ساحل پر ایک مکمل بندرگار کوچین اِسی سوسائٹی کی سمندری تجارت کے لئے مختص کر دی ہے۔ پاکستان میں کھاد پبلک سیکٹر میں بنائی جاتی ہے اور اُس کی فروخت بھی سرکاری سطح پر ہوتی ہے۔ ہماری نیشنل فرٹیلائزر کارپوریشن کے سائز کے 10 اِدارے IFFCO میں سما جائیں گے۔ اسی طرح ہندوستان کی ڈیری کواپریٹو سوسائٹیAmulکے نام سے 32کروڑ گائے بھینسوں کے مالکوں کی انجمن ہے۔ دراصل ہمارے پاکستانی عوام کے ساتھ کوآپریٹو کے نام پر دھوکے بھی بہت ہوئے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ہی ہم عوام بھی لالچ میں مبتلا ہو کر دھوکا کھانے کے لئے تیار ہتے ہیں۔ غیر منطقی منافع کے لالچ میں انسان اندھا ہو جاتا ہے۔ ہمارے ہاں ڈبل شاہ کی طرح کے فراڈ آئے دِن ہوتے رہتے ہیں۔

PMCS کا ابتدائی کاروبار کسانوں سے بغیر آڑھتیوں کو بیچ میں ڈالے سبزیاں خریدنا ہے اور لاہور کی ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں مناسب نرخ پر فروخت کرنا ہے جو ہر حالت میں خاتونِ خانہ کے لئے اتوار بازار سے کم نرخ ہو گا۔ سبزی بھی تازہ اور Crispy ہوگی۔ ہمارے کاروبار کا دوسرا مرحلہ ہو گا ہر گھر کو سوسائٹی کا ممبر بنایا جائے اور لاہور اور پنجاب کے بڑے شہروں کے اِردگرد اراضی کے خالی قطعات پٹے پر لے کر اُن پر بڑے پیمانے پر Organic Farming کی جائے اور ممبر گھروں کو صحت مند سبزیاں فروخت کی جائیں۔ ہم Online فروخت کی ہمت افزائی نہیں کریں گے۔ ہم چاہیں گے کہ ممبر گھرانے فارم پر آئیں فارم پر Picnic منائیں اور قلیل سے دام دے کر اپنے ہاتھ سے سبزی توڑیں اور گھر لے جائیں۔

دراصل یورپ، امریکہ وغیرہ میں یہ بڑی صحت مند Family recreation ہے۔ ہمارے ہاں اس کا کم رواج ہے۔ ہم کو آپ سٹور کی طرح سبزیوں اور کچن گراسری کی مخصوص دوکانیں بنائیں گے،بلکہ ہمارا اِرادہ خوبصورت اور خصوصی ڈیزاین کے ریڑوں پر محلوں اور متوسط آبادیوں میں سبزیاں فروخت کرنے کا بھی پروگرام ہے۔ ہم سبزیوں کی فروخت کو نہ صرف Corporotise کرنے کا اِرادہ رکھتے ہیں،بلکہ ہزاروں غیر ہنر مند نوجوانوں کو ملازمتیں مہیا کرنے کا پروگرام بنا رہے ہیں۔ اِنشااللہ PMCS دو۔ تین ماہ میں سبزیوں کی فروخت کا آغاز کر دے گی۔ ممبران کے لئے آمدنی کا بھی ذریعہ اور عوام کے لئے ارزاں نرخوں پر سبزیوں کا حصول۔ ہم خرما، ہم ثواب

مزید : رائے /کالم