امریکہ اور طالبان میں امن معاہدہ

امریکہ اور طالبان میں امن معاہدہ

  



افغانستان میں اُنیس سالہ جنگ کے خاتمے کے لئے امریکہ اور طالبان نے امن ڈیل(معاہدہ امن) کی پہلی شق کے تحت ابتدائی طور پر متشددانہ کارروائیوں میں کمی کے سات روزہ معاہدے پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے، آج سے29فروری تک فریقین پُرتشدد کارروائیوں کے خاتمے کو یقینی بنائیں گے اور آئندہ ہفتے دوحہ میں امن معاہدے پر دستخط کریں گے،جنگ بندی کے باوجود داعش اور دیگر دہشت گردوں کے خلاف آپریشن بدستور جاری رہے گا۔طالبان نے اِس امر کی تصدیق کی ہے کہ عالمی برادری کے روبرو امن معاہدے پر دستخط ہوں گے، اس تاریخ سے قبل ماحول سازگار بنایا جائے گا، دستخط کی تقریب میں چند ممالک اور تنظیموں کے نمائندوں کو شرکت کی دعوت دی جائے گی۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پامپیو نے کہا کہ طالبان کے ساتھ افغانستان بھر میں تشدد کے واقعات میں کمی پر اتفاق ہو گیا ہے اس سمجھوتے کی کامیابی ہفتے کو ہونے والے امن معاہدے کی ضامن ہے۔ امریکہ،طالبان معاہدے کے بعد افغان دھڑوں میں مذاکرات کا عمل شروع ہو گا۔اُن کا کہنا تھا کہ چیلنجز باقی ہیں،لیکن دوحہ مذاکرات سے امید اور اچھا موقع ملا ہے، افغان قوم اس موقع کو ہاتھ سے نہ جانے دے پاکستان نے قیام امن کی کامیاب کوششوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے ہمسایہ ملک میں استحکام،اتحاد، جمہوریت اور خوشحالی کے لئے اپنی حمایت کی توثیق کی ہے۔

دوحہ مذاکرات میں نشیب و فراز آتے رہے اور اِن کا سلسلہ ٹوٹ ٹوٹ کر جڑتا رہا، مذاکرات کے دوران افغانستان میں ایک امریکی فوجی کی ہلاکت کے بعد ٹرمپ نے انتہائی غصے کے عالم میں یہ مذاکرات ختم کر دیئے تھے تو ہم نے انہی سطور میں عرض کیا تھا کہ جونہی صدر کا غصہ ٹھنڈا ہو گا وہ پھر مذاکرات کی میز پر بیٹھنے پر آمادہ ہوں گے اور اس میں زیادہ دیر بھی نہیں لگے گی،اس کے بعد مذاکرات دوبارہ شروع ہوئے اور اب حتمی امن معاہدے سے پہلے ایک سمجھوتہ یہ ہوا ہے کہ ایک ہفتے تک تشدد سے گریز کریں گے۔البتہ بعض اقدامات کی اب بھی فریقین کو اجازت ہے اس دلچسپ سمجھوتہ کا مدعا بظاہر یہی لگتا ہے کہ ایک دوسرے کو ”فیس سیونگ“ کی سہولت میسر آئے، طالبان نے بھی اپنے موقف میں تھوڑی سی نرمی کی ہے اور ہمیشہ سے اُن کا جو مطالبہ رہا ہے کہ غیر ملکی افواج کے مکمل انخلا سے پہلے مذاکرات نہیں ہوں گے،اب اس پر بھی نظرثانی کی ہے اور اب وہ افغانستان میں 13 ہزار امریکی اور غیر ملکی فوجیوں کی بجائے8600 فوجیوں کی اجازت دینے پر رضا مند ہو گئے ہیں،مذاکرات کے موقع پر طالبان رہنما سراج الدین حقانی کا ایک مضمون صفحہ اوّل پر ”نیو یارک ٹائمز“ میں شائع ہوا ہے،جس میں انہوں نے طالبان کا نقطہ نظر تفصیل سے بیان کیا ہے،اس مضمون کی اشاعت سے ہی اشارہ ملتا ہے کہ امریکی اب کافی حد تک طالبان کے مطالبات کو ماننے پر تیار ہو گئے ہیں اور معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔

روسی فوج نے افغانستان پر حملے کی جو غلطی کی تھی، وہ اسے خاصی مہنگی پڑی اور بالآخر بھاری جانی و مالی نقصان کے بعد اُسے افغانستان سے نکلنا پڑا،ہمسایہ ہونے کے باوجود روس اس بات سے اگر بے خبر تھا کہ یہ سرزمین ”سلطنتوں کا قبرستان“ کے طور پر مشہور ہے تو اس پر اظہارِ حیرت کے سوا کیا کِیا جا سکتا ہے،لیکن امریکہ نے بھی نائن الیون کے بعد افغانستان پر بِلا سوچے سمجھے حملہ کر کے بڑی غلطی کی تھی،اُس وقت کے صدر بش نے ایک ماہ کی کارپٹ بمباری کے بعد ہی جلد بازی میں یہ اعلان کر دیا تھا کہ ”چوہے بلّوں میں گھس رہے ہیں“ مطلب یہ کہ ہم نے افغانستان کو شکست دے دی ہے،لیکن اسے اندازہ نہیں تھا کہ افغانستان حامد کرزئی کی اس حکومت کا نام نہیں ہے جو امریکہ نے مسلط کی تھی، جلد ہی اُسے اندازہ ہو گیا کہ وہ افغانستان میں پھنس چکا ہے تقریباً دو عشروں میں وہاں سے نکلنے کی جتنی بھی کوششیں کی گئیں سب ناکام رہیں۔

تین صدور کے عہد میں اُنیس سال تک جاری رہنے والی یہ جنگ اب اگر اختتام کو پہنچ رہی ہے تو اِس میں طالبان کی حکمت ِ عملی کو بھی کریڈٹ جاتا ہے،جنہوں نے جنگ کے ساتھ ساتھ سفارت کاری کے محاذ پر بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔امریکہ نے کب سوچا ہو گا کہ اُسے ایسے لوگوں سے مذاکرات کرنا پڑیں گے،جن میں سے بعض گوانتا ناموبے کے قید خانے میں اذیتیں برداشت کر چکے تھے۔طالبان کو دہشت گرد قرار دیا گیا، لیکن اب ماضی کے انہی دہشت گردوں کے ساتھ امن معاہدہ ہو رہا ہے،اگلے ہفتے ہونے والے اس معاہدے کے بعد انٹرا افغان مذاکرات بھی شروع ہوں گے اور یہ مرحلہ خاصا مشکل ہے،کیونکہ طالبان موجودہ حکومت کو کٹھ پتلی تصور کرتے ہیں اور اسے افغان عوام کا نمائندہ نہیں سمجھتے،طالبان نے نہ تو کبھی حامد کرزئی کی حکومت کو مانا تھا اور نہ ہی وہ صدر اشرف غنی کو اپنا نمائندہ تسلیم کرتے ہیں۔اشرف غنی کو تو عبداللہ عبداللہ جائز طور پر منتخب صدر نہیں مان رہے، جو اُن کے ساتھ بطور چیف ایگزیکٹو شریک ِ اقتدار رہے ہیں۔اب عبداللہ عبداللہ نے صدارتی انتخاب کا نتیجہ مسترد کر دیا ہے اور اپنی متوازی حکومت بنانے کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ ان حالات میں یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ افغانستان کے درمیان باہمی مذاکرات کا مرحلہ کس قدر مشکل ہو گا،جو لوگ اِس وقت حکومت میں ہیں وہ اقتدار سے باہر ہونا پسند نہیں کریں گے،طالبان بھی اس حکومت کو نمائندہ نہیں سمجھتے،اِس لئے ان مذاکرات میں بھی امریکہ کو کردار ادا کرنا ہو گا۔

دوحہ میں ہونے والا امن معاہدہ اِس لئے بھی یقینی ہے کہ صدر ٹرمپ اپنی انتخابی مہم شروع کرنے سے پہلے امریکی افواج کا بڑا حصہ افغانستان سے نکالنا چاہتے ہیں اور امریکی ووٹروں کو یہ خوشخبری دینا چاہتے ہیں کہ انہوں نے ایک ایسی جنگ ختم کی جس پر امریکہ جانی نقصان کے علاوہ ٹریلین ڈالرز خرچ کر چکا ہے،لیکن اب بھی اس کا کوئی اختتام نظر نہیں آ رہا تھا ان حالات میں یہ امن معاہدہ امریکی نقطہ ء نظر سے بڑی کامیابی ہے،جس کی وجہ سے امریکہ کو اِس جنگ سے نکلنے کا موقع مل رہا ہے۔ سات دن تک اگر افغانستان میں تشدد کا کوئی بڑا واقعہ نہ ہوا تو امن معاہدہ یقینی ہے،لیکن جو حلقے افغانستان میں امن نہیں چاہتے، وہ افغانستان میں کوئی واردات کر کے اس کا ملبہ طالبان پر ڈال کر معاہدہ کو سبوتاژ بھی کرنے کی کوشش کریں گے،اِس لئے طالبان کو ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے، کیونکہ افغانستان میں ایسے عناصر کی کمی نہیں،جنہیں کسی بھی محاذ پر طالبان کی کامیابی اچھی نہیں لگتی۔بہرحال اب امید کرنی چاہئے کہ آج سے جو ہفتہ شروع ہوا ہے وہ امن سے گزر جائے اور امن معاہدہ خوش اسلوبی سے طے ہو جائے۔افغانستان میں امن پاکستان کے مفاد میں ہے اور یہ خطے کے لئے بھی مفید ہے۔سالہا سال کی بدامنی کے بعد امن کے دور کی کامیابی کے لئے دُعا کرنی چاہئے۔

مزید : رائے /اداریہ