صدر ٹرمپ دورہ بھارت میں مذہبی آزادی کامسئلہ اٹھائیں گے:واٹ ہاؤس

  صدر ٹرمپ دورہ بھارت میں مذہبی آزادی کامسئلہ اٹھائیں گے:واٹ ہاؤس

  



واشنگٹن(اظہر زمان، خصوصی رپورٹ) صدر ٹرمپ آئندہ ہفتے بھارت کے دورے میں عوامی خطاب اور وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات میں مذہبی آزادی کا مسئلہ اٹھائیں گے۔ ان کا پہلا دو روزہ بھارتی دورہ پیر کو شروع ہو گا جس کے بارے میں وائٹ ہاؤس نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مذہبی آزادی کا مسئلہ ٹرمپ انتظامیہ کیلئے بہت اہمیت کا حامل ہے۔ وائٹ ہاؤس کے سینئر اہلکار نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ ہمیں بھارت کی جمہوری روایات اور اداروں کا پورا احترام ہے لیکن حال ہی میں شہری آزادیوں کے بارے میں مودی حکومت نے جو رویہ اختیار کیا ہے اس پر ہمیں بہت تشویش ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ صدر ٹرمپ ان تمام معاملات پر بھارتی وزیراعظم سے تفصیلی بات کریں گے اور ان پر زور دیں گے کہ وہ جمہوری روایات اور مذہبی اقلیتوں کے احترام کے سلسلے میں ضروری کردار نبھائیں کیونکہ امریکہ سمیت پوری دنیا بھارت میں ہونے والی حالیہ تبدیلیوں کو تشویش کی نظر سے دیکھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلاشبہ بھارتی آئین میں مذہبی آزادی اور خصوصاً مذہبی اقلیتوں کے احترام اور بھارت کے تمام مذاہب کے برابر سلوک کی ضمانت دی گئی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے عہدیدار سے سوال کیا گیا کہ کیا شہریت ترمیمی ایکٹ (سی اے اے) اور شہریت کے قومی رجسٹر(این آر سی) کے معاملات بھی زیر بحث آئیں گے۔ اس کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ صدر ٹرمپ لازمی طور پر اس پر گفتگو کریں گے کیونکہ یہ ان معاملات میں شامل ہیں جن پر امریکہ کو گہری تشویش ہے۔ مبصرین کے مطابق صدر ٹرمپ نجی یا سرکاری طور پر کشمیر کے مسئلے پر ثالثی کی پیشکش کو دہرا سکتے ہیں جو قبل ازیں متعدد بار پاکستان اور بھارت کے لیڈروں سے کر چکے ہیں۔ تاہم وائٹ ہاؤس کے اہلکار کے مطابق صدر ٹرمپ لازمی طور پر وزیراعظم مودی کو مشورہ دیں گے کہ وہ پاکستان کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کیلئے دو طرفہ بات چیت کا آغاز کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ پاکستان اور بھارت دونوں ممالک کی حوصلہ افزائی کرتا ہے کہ وہ اپنے تمام مسائل کو پرامن بات چیت کے ذریعے حل کریں اور اپنے اختلافات کم کریں تاکہ خطے میں کشیدگی بھی کم ہو سکے۔ صدر ٹرمپ کے دورہ بھارت میں کسی بڑے تجارتی معاہدے کی توقع نہیں ہے کیونکہ صدر پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ ایسا معاہدہ نومبر کے صدارتی انتخابات سے پہلے یا اس کے بعد ہو گا تاہم اس دورے میں متعدد معاہدوں پر دستخط ہو سکتے ہیں جن میں ہوم لینڈ سکیورٹی کا معاہدہ بھی شامل ہو سکتا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان انسداد دہشت گردی سے متعلق ایک مشترکہ مرکز کے قیام کا اعلان بھی دورے میں ہو سکتا ہے۔ صدر ٹرمپ کے بارہ رکنی وفد میں خاتون اول میلانیا ٹرمپ، بیٹی ایوانیکا ٹرمپ، داماد اور مشیر جیرڈ کشنر کے علاوہ وزیر تجارت، توانائی کے وزیر، قومی سلامتی کے مشیر اور وائٹ ہاؤس کے چیف آف سٹاف شامل ہونگے۔ صدر اپنے وفد کے ہمراہ 24 فروری کو احمد آباد پہنچیں گے اور بعد میں آگرہ اور دہلی جائیں گے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ جب صدر ٹرمپ احمد آباد کرکٹ سٹیڈیم جائیں گے جہاں ان کیلئے ”نمستے ٹرمپ“ کے نام سے بہت بڑا شو ہو گا تو ان کے راستے میں کچی اور پسماندہ آبادیوں کو صدر کی آنکھ سے اوجھل رکھنے کیلئے ایک خصوصی طویل دیوار تعمیر کی گئی ہے۔

وائٹ ہاؤس

مزید : صفحہ اول