حکومت گرانے کی باتیں کرنیوالے احتساب سے بچنے کیلئے شور مچا رہے ہیں:شاہ محمود

  حکومت گرانے کی باتیں کرنیوالے احتساب سے بچنے کیلئے شور مچا رہے ہیں:شاہ ...

  



ملتان/اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی) وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاہے کہ ایک بہت بڑے مافیاکا مقابلہ کررہے ہیں، حکومت گرانے کی باتیں کرنے والے احتساب سے بچنے کیلئے شور مچا رہے ہیں۔ملتان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ کچھ لوگوں کی حکومت گرانے، مڈٹرم الیکشن اور اِن ہاؤس تبدیلی کی خواہش دل میں ہی رہے گی۔ یہ ان لوگوں کی خواہش ہے جو اقتدار سے باہر اور عوام نے انہیں سابقہ انتخابات میں بری طرح مسترد کیا ہے۔شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف2018ء کے انتخابات میں ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت بن کر ابھری ہے، عوامی مینڈیٹ کے مطابق آئینی مدت پوری کرینگے۔انہوں نے کہاقومی دولت لوٹنے والوں کو احتساب کا سامنا کرنا ہوگا، ملکی معیشت بتدریج بہتر ہو رہی ہے، قوم کو جلد اچھی خبریں دیں گے۔وفاقی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے ذریعے بلیک لسٹ میں دھکیلنے کیلئے تمام سازشیں ناکام ہو گئیں۔افغانستان اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ امریکا اور افغان طالبان کے درمیان امن معاہدہ پاکستان کی ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے، کسی کو توقع نہیں تھی کہ افغان طالبان اور امریکا ایک میز پر بیٹھیں گے، افغانستان کی تعمیر نو میں پاکستان کو کردار ادا کرنے کا موقع میسر آئے گا۔اس سے قبل وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے حلقہ 156 میں موٹر سائیکل پر سفر کیا اور لوگوں کے مسائل سنے۔علاوہ ازیں ایک بیان میں شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ہم نے امریکہ سے اپنا وعدہ پورا کرتے ہوئے کابل تک کا سفر طے کر لیا، پاکستان کی موجودگی میں 29فروری کو امریکہ طالبان کے درمیان معاہدے پر دستخط ہوں گے، پاکستان کے بغیر ان معاملات کا آگے بڑھنا ممکن نہیں تھا،پاکستان نے خلوص اور نیک نیتی سے افغان امن عمل میں اپنا کردار ادا کیا، اب افغانوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہے،افغان قیادت کو اپنے مستقبل کے بارے میں سوچنا ہے، افغانستان کے مسئلے کا پر امن حل آسان تھا اور نہ ہے، امریکہ سمیت پوری دنیا ہمارے کردار کو سراہ رہی ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ جب امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو پاکستان آئے اورمیں نے پاک امریکہ تعلقات کو از سر نو استوار کرنے کے حوالے سے بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بہتری کا یہ راستہ کابل سے مشروط ہے، اب میں ان کو باور کروانا چاہتا ہوں کہ ہم نے اپنا وعدہ پورا کر دیا ہے ہم نے کابل تک کا سفر طے کر لیا ہے ہم نہ صرف ایک مستند وفد کو سامنے لے کر آئے بلکہ اس وفد نے مذاکرات کو منطقی انجام تک بھی پہنچایا۔ اب افغان کی قیادت کی ذمہ داری ہے جنہوں نے اس جنگ کی بھاری جانی اور مالی قیمت ادا کی ہے، اس قیادت کو اپنے مستقبل کے بارے میں سوچنا ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ میرا تجزیہ ہے کہ افغانستان کے عوام تو امن چاہتے ہیں اب یہ خواص پر منحصر ہے کہ وہ امن کی کاوشوں کو آگے بڑھاتے ہیں یا اسے سیاسی رسہ کشی کی نظر کرتے ہیں اس کی تمام ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے پاکستان پر نہیں۔ پاکستان کی موجودگی میں اس معاہدے پر دستخط ہوں گے کیونکہ پاکستان کے بغیر ان معاملات کا آگے بڑھنا ممکن نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ 29فروری کے بعد کوشش ہے کہ ایک جامع وفد تشکیل پائے تاکہ انٹرا افغان مذاکرات کی طرف بڑھا جا سکے۔ یہ مذاکرات کب اور کیسے ہوں گے اس حوالے سے بھی طے کر لیا گیا۔

شاہ محمود قریشی

مزید : صفحہ اول