نشتر ہسپتال‘ امتحان میں فیل ہونے پر طالبعلم کی خود کشی کی کوشش

    نشتر ہسپتال‘ امتحان میں فیل ہونے پر طالبعلم کی خود کشی کی کوشش

  



ملتان (وقا ئع نگار)نشتر میڈیکل یونیورسٹی و کالج میں ایم بی بی ایس کے فائنل ائیر کے امتحان سرجری کے وائیوا میں دو نمبروں سے فیل ہونے پر طالب علم نے خودکشی کی کوشش کر ڈالی۔حالت غیر ہونے پر نشتر ہسپتال کی ایمرجنسی منتقل کردیا گیا۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے نشتر میڈیکل یونیورسٹی و کالج کے طالب علم کاشف رضا نے ایم بی بی ایس فائنل ایئر کے امتحان(بقیہ نمبر15صفحہ12پر)

دیئے۔تو رزلٹ آنے پر وہ سرجری کے وائیوا میں دو نمبروں سے فیل ہوگیا۔جس سے دلبرداشتہ ہوکر مذکورہ طالب علم نے گزشتہ روز پہلے زہریلی شے کھائی۔اور پھر بلیڈ سے اپنے بازو کی نبض کاٹ لی۔جسکی وجہ سے خون بے تحاشہ بہانے لگا۔شور واویلہ پر اسکو فوری طور نشتر ہسپتال کی ایمرجنسی میں منتقل کردیا گیا۔واضح رہے میڈیکل سٹوڈنٹس کاشف رضا نشتر ہاسٹل میں رہائش پذیر تھا۔ ذرائع کے مطابق بدنامی سے بچنے کیلئے نشتر یونیورسٹی حکام نے کاشف رضا کا میڈکل چارٹ کو غائب کردیا۔اور اسکو خوف کے مارے ڈسچارج بھی کردیا گیا ہے۔ذرائع نے اس بات کا بھی انکشاف کیا ہے کہ نشتر ہاسٹلز کے چیف وارڈن۔کنٹرولر امتحانات اور انٹرنل ایگزامینر پروفیسر ڈاکٹر خالد قریشی نے مذکورہ طالبعلم کو ذاتی عناد پر کم نمبر دئیے،جس کی وجہ سے اس نے خودکشی کی کوشش کی ہے جبکہ دوسری جانب پروفیسر ڈاکٹر خالد قریشی نے کہا ہے میں نے کسی طالب علم کو جان بوجھ کر نمبر کم نہیں دیئے۔میرے اوپر تمام تر لگائے گئے الزامات جھوٹے اور بے بنیاد ہیں۔ایسی عمر میں بچے جذباتی ہو جاتے ہیں۔فی الحال کاشف رضا کی حالت خطرے سے باہر ہے۔نشتر میڈیکل یونیورسٹی ملتان کے ایم بی بی ایس فائنل ائیر زبانی امتحان میں فیل ہونے والے طالب علم کاشف رضا نے دوبارہ خودکشی کی دھمکی دیدی ہے۔کاشف رضا نے گذشتہ روز ویڈیو بیان جاری کیا ہے جسمیں اس نے کہا ہے کہ وہ اس پروفیسر سے ضرور پوچھے گا جس نے اسے فیل کیا ہے۔چار سال میں وہ کبھی فیل نہیں ہوا۔کاشف رضا نے ویڈیو بیان میں مزید کہا ہے کہ اگر پروفیسر نے اسے مطمئن نہ کیا تو وہ دوبارہ خودکشی کرلے گا کیونکہ ابھی تھوڑی دیر بعد اسکے دوست چلا جائیں گے اور وہ اکیلا ہوجائے گا اسکا دوسرا ہاتھ ابھی ٹھیک ہے جس سے وہ خودکشی کر سکتا ہے۔نشتر میڈیکل یونیورسٹی ملتان کے طالب علم کاشف رضا نے مبینہ طور پر ایم بی بی ایس فائنل ائیر کے زبانی امتحان(viva) میں فیل ہونے پر کی خودکشی کا معاملہ۔ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن پنجاب نے مبینہ طور پر زبانی امتحان میں فیل کرنے والے پروفیسر آف جنرل سرجری ڈاکٹر خالد حسین قریشی کیخلاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔وائی ڈی اے پنجاب کے چیئرمین ڈاکٹر خضر حیات،صدر ڈاکٹر سلمان حسیب،جنرل سیکرٹری ڈاکٹر قاسم اعوان نے کہا ہے کہ ڈاکٹر خالد حسین قریشی پہلے بھی طلباء و طالبات کو انتقامی کاروائیوں کا نشانہ بناتے ریے ہیں اور اس حوالے سے بدنام ہیں۔متعلقہ حکام طالبعلم کاشف رضا کی جانب سے خودکشی کرنے پر معاملہ کی چھان بین کریں۔یونیورسٹی کے دیگر طالبعلموں کے مطابق کاشف رضا سسٹم کی بھینٹ چھڑتا ھوا ایک ڈاکٹر طالب علم ہے۔پڑھائی کرنے کے باوجود تحریری امتحان پاس کرنے کے باوجود ایک نفسیاتی مرض میں مبتلا ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ کے ہتھے چڑھ گیا۔اگر اس بچے کو ایم بی بی ایس کے آخری سال میں سرجری میں پروفیسر نے اپنی ذاتی انا کا نشانہ بنایا ھے۔وہ دوران امتحان اتنا تضحیک آمیز رویہ رکھتے ہیں کہ طلبا کو خود اپنے اوپر شرم آنے لگتی ہے کہ اگر ایسے لوگ اس شعبہ میں ہیں تو ھم کیوں آئے۔انسان کو انسان نا سمجھنا ان کی فطرت ھے۔اپنے آپ کو عقل کل سمجھتے ہوئے طالب علموں کے لیول پر آکر ان سے پرسنل ھوجانا ان کا مشغلہ ھے۔اس سے ان کو سکون ملتا ھے۔طالبعلموں کا کہنا ہے کہ ایم بی بی ایس کے آخری امتحان میں پروفیسر کی جھوٹی انا کی تسکین بنتے ھوئے ایک معصوم طالب علم خودکشی کی کوشش پر نشتر میڈیکل یونیورسٹی اس پروفیسر کیلئے فوری میڈیکل بورڈ تشکیل دے کر نفسیاتی معائنہ کروائے۔اور معیار پر پورا نہ اترنے پر نوکری سے فارغ اور عمد قتل کی ایف آئی آر درج کروائی جائے۔

نوٹس

مزید : ملتان صفحہ آخر