خانپور میں سرائیکستان ریلی‘ الگ صوبے کیلئے نعرے

خانپور میں سرائیکستان ریلی‘ الگ صوبے کیلئے نعرے

  



ملتان (پ ر) سردار بلخ شیر خان مزاری، مخدوم خسرو بختیار، نصر اللہ دریشک، عثمان بزدار و دیگر نے صوبے کے نام پر سرائیکی وسیب سے ووٹ لیا مگر وعدے پورے نہیں کیے۔ ان خیالات کا اظہار سرائیکی رہنماوں ظہور (بقیہ نمبر27صفحہ7پر)

دھریجہ اور راشد عزیز بھٹہ نے ماں بولی کے عالمی دن کے موقع پر سرائیکی ایکشن کمیٹی اور سرائیکستان قومی کونسل کی طرف سے خانپور میں نکالی گئی ”سرائیکستان ریلی“ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ریلی کی قیادت کرنے والوں میں میاں شکیل دین پوری، علامہ سید اختر شمسی،سردار خالد خان گورگیج، سرادار لیاقت خان گورگیج، جام عبدالماک کیوڈ،احمد یار خا کورائی، باقر چغتائی، جام خلیل لاڑ، شاکر قریشی، امین خان لنگاہ،سردار خورشید خان چانڈیہ، ارشد پنوار، آصف دھریجہ، میاں عثمان، مرزا حبیب، طارق امین یازر، ضیا عزیز بھٹہ،احمد چوہدری، جام ظفر لاڑو دیگر شامل تھے۔ سرائیکستان ریلی بھٹہ ہاؤس احمد ٹاؤن سے شروع ہوئی اور ایئر پورٹ روڈ سے ہوتی ہوئی دین پور چوک پہنچی۔ ریلی میں شامل نوجوانوں فلک شگاف نعرے لگائے۔ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے سرائیکی رہنماؤں نے کہا کہ سو دن میں صوبہ بنانے کا وعدہ ہوا مگر 500 دن گزر گئے آج تک محض صوبہ کمیٹی کا اجلاس بھی نہیں ہوا۔ وسیب کے لوگوں سے بد ترین دھوکہ کیا گیا، وسیب کے لوگوں سے ووٹ لے کر صوبے اور مرکز میں حکومت بنا لی گئی مگر آج ووٹ لینے والے انہوں نے کہا کہ سرائیکی وسیب سے مذاق بند کیا جائے، وسیب کے لوگوں کو صوبہ دیا جائے اور وسیب کے لوگوں کو بنگالیوں کی طرح دیوار سے لگانے کی پالیسی بند کی جائے۔ وسیب کے لوگ اپنی شناخت، اپنا صوبہ اور اپنا اختیار مانگتے ہیں سرائیکی رہنماوں نے کہا کہ ماں بولی کے عالمی دن کا پیغام یہ ہے کہ سرائیکی سمیت پاکستان میں بولی جانیوالی زبانوں کو قومی زبانوں کا درجہ دیا جائے اور ابتدائی تعلیم ماں بولی میں دی جائے اور بدیسی زبانوں کو پاکستانی زبانوں پر مسلط کرنے کی پالیسی ترک کی جائے اور مشرقی پاکستان کی علیحدگی سے سبق حاصل کیا جائے۔

ریلی

مزید : ملتان صفحہ آخر