نظام انصاف سے منسلک افراد کو خاص تربیت کی ضرورت ہے،چیف جسٹس ہائیکورٹ

نظام انصاف سے منسلک افراد کو خاص تربیت کی ضرورت ہے،چیف جسٹس ہائیکورٹ

  



لاہور(نامہ نگار خصوصی)چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس مامون رشید شیخ نے کہاہے کہ ذہنی طور پر بیمار انسان معاشرے کی ذمہ داری ہوتے ہیں، عام انسان کی طرح تمام بنیادی حقوق کی فراہمی ان کا حق ہوتا ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ذہنی طور پر کمزور اور بیمار شہریوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے،پاکستان میں قیدیوں کی ذہنی حالت پر خاص توجہ نہیں دی جاتی، وہ گزشتہ روزذہنی صحت دانستہ جرم کے موضوع پر مقامی ہوٹل میں ہونے والے سیمینار سے خطاب کررہے تھے،چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ایسا شخص جو ذہنی طور پر تندرست نہیں ہے وہ کبھی دانستہ اور منصوبہ بندی کے تحت جرم کا ارتکاب نہیں کرتا اس لئے دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی ایسے لوگوں کو کسی بھی جرم کی سزا عام اور ذہنی طور پر تندرست انسان کے برابر نہیں دی جاتی لیکن دورانِ ٹرائل ایسے افرادکا دماغی طور پر تندرست یا بیمار ثابت ہونا ایک مشکل مرحلہ بن جاتا ہے، ان کا کہنا تھا کہ نظام انصاف سے منسلک ہر سٹیک ہولڈر ادارے اور شخص کو اس حوالے سے خاص تربیت کی ضرورت ہے، چیف جسٹس نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ سیمینار کے سیر حاصل نتائج سامنے آئیں گے،چیف جسٹس نے جسٹس پراجیکٹ پاکستان کاشکریہ بھی اداکیاجس نے ایک اہم موضوع پر سیمینار کا انعقاد کیا،سیمینار میں ملکی اور غیر ملکی ماہرین قانون اور نفسیاتی ڈاکٹر، بشمول پروفیسر ڈاکٹر ملک حسین مبشر، بریگیڈیئر ڈاکٹر مودت رانا، روبن ماہر، جج محمد نواز واہلہ اور محمد اویس انور نے ذہنی صحت اور دانستہ و نادانستہ جرائم کے حوالے سے اظہارِ خیال کیا، نامزد چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس محمد قاسم خان، جسٹس محمد امیر بھٹی، جسٹس عائشہ اے ملک،جسٹس شاہد وحید، جسٹس علی باقر نجفی، جسٹس شاہد جمیل خان، جسٹس فیصل زمان خان، جسٹس مسعود عابد نقوی، جسٹس سردار احمد نعیم، جسٹس مجاہد مستقیم احمد، جسٹس طارق سلیم شیخ، جسٹس مزمل اختر شبیر، جسٹس رسال حسن سید، جسٹس عاصم حفیظ اور جسٹس شکیل الرحمان خان کے علاوہ رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ اشترعباس، ڈی جی پنجاب جوڈیشل اکیڈمی حبیب اللہ عامر، ڈی جی ڈسٹرکٹ جوڈیشری ریحان بشیر، سیشن جج لاہور قیصر نذیر بٹ، سینیئر سول جج لاہور، جوڈیشل اکیڈمی کے ڈائریکٹر شاہ زیب سعید، سینئرانسٹرکٹرز مدثر بودلہ اور شازیہ منور بھی سیمینار میں موجود تھے۔

مزید : صفحہ آخر