مطالبات منظوری کیلئے ایپکا عہدے داروں کا حکومت کیخلاف تحریک چلانے کا اعلان

    مطالبات منظوری کیلئے ایپکا عہدے داروں کا حکومت کیخلاف تحریک چلانے کا ...

  



ملتان (سپیشل رپورٹر)آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن (ایپکا) کے مرکزی عہدیداران رانا محمد اقبال نون، محمد سلطان مجددی، فخر الرحمن اظہر، سردار سیف اللہ چھینہ، چوہدری شفقت رسول سندھو، سردار عبدالرؤف چانڈیہ غلام عباس کھوکھر،مخدوم اظہر حسین گیلانی ودیگر نے گزشتہ روز ملتان پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے (بقیہ نمبر42صفحہ7پر)

ہر جمہوری اور غیر جمہوری ادوار حکومت میں اپنے مطالبات کے حصول کے لیے جدوجہد کی اور الحمد اللہ کامیابی حاصل کی۔ اس طرح موجودہ حکومت کو چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا گیا ہماری طرف سے اور صوبائی قیادتوں کی طرف سے خط وکتابت کی گئی۔ سابقہ بجٹ سے قبل معزز ممبران اسمبلی وزرا سے ملاقاتیں ہوئیں مگر کوئی شنوائی نہ ہوئی۔ سرکاری ملازمین نے بہت اعتماد کے ساتھ موجودہ حکومت کو ووٹ دیا مگر سوائے مایوسی، اقربا پروری اور محدود طبقہ کو نوازنے کے کچھ نہ ملا۔ یقینا ایپکا کے تمام گروپس نے یہ چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا اور اب سوائے احتجاجی تحریک کے اور کوئی راستہ نہ رہا ہے اور بجٹ سے قبل ہم اسلام آباد میں پورے ملک کے ملازمین کو جمع کرکے پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد کے سامنے پر امن دھرنا بھی دے سکتے ہیں اگر ہمارے جائز مطالبات چارٹر آف ڈیماند پر حکومتی مذاکراتی مراحل اور سنجیدگی کے ساتھ مرکزی، صوبائی لیڈر شپ کے ساتھ مذاکرات اور انکو اعتماد میں نہ لیا گیا تو پھر دمادم مست قلندر ہوگا اور پورے ملک کی سرکاری مشینری جام کردیں گے ملک بھر کے تمام اضلاع میں احتجاج ہوگا جسکی تمام تر ذمہ داری تحریک انصاف کی نہ انصافی کرنے والی حکومت پر عائد ہوگی۔دوران پریس کانفرنس انہوں نے اپنا 22 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا جس میں تمام سرکاری ملازمین کو بلاتفریق ایک جیسے پے سکیل دئیے جائیں اور ایک جیسے الاؤنسز دئیے جائیں۔ تمام ملازمین کی تنخواہوں میں مہنگائی کے مطابق اضافہ کیا جائے حکومتی اعداد وشمار کے مطابق سول سیکرٹریٹ کے ملازمین کی طرح تمام صوبائی ملازمین کو یوٹیلیٹی الاؤنس، سیکرٹریٹ الاؤنس، ٹیکنیکل الاؤنس اور ایگزیکٹو الاؤنس دیا جائے۔ سوشل ویلفیئر پاپولیشن کے ورکرز کو ریگولر کرنے کے لیے سروس سٹرکچر کا قیام عمل میں لایا جائے۔ شادی گرانٹ، فوتیدگی گرانٹ اور وظفیہ میں جو اضافہ کا نوٹیفکیشن واپس لیا گیا ہے اسکو بلا تاخیر بحال کیا جائے۔ موجودہ حکومت نے انتخابات میں جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا اور جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے قیام کا بھی وعدہ کیا تھا۔ ایپکا کے پلیٹ فارم سے مطالبہ کیا جاتا ہے حکومت وعدہ کے مطابق جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے دفاتر جنوبی پنجاب کے کسی بھی ڈویژن میں منتقل کرے۔فیملی ویلفیئر ورکرز عرصہ دراز سے اپنی ذمہ داریاں ایمانداری کے ساتھ دے رہی ہیں ان کا سروس سٹرکچر نہیں ہے نہ ہی ٹائم سکیل کے مطابق انکی پروموشن ہورہی ہے۔ محکمہ بہبود آبادی کے سروسز رولز 2009اور 2014کے مطابق انکی پروموشن نہیں ہورہی لہذا فیملی ورکرز کا سروس سٹرکچر بنایا جائے اور رولز کے مطابق پرموشنز کی جائیں سمیت اہم مطالبات شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ مندرجہ بالا مطالبات چارٹر آف ڈیمانڈ کی شکل میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو پیش کردیا گیا ہم نہیں چاہتے کہ جو دہ حکومت کے پہلے ہی بہت مسائل ہیں اور ہم بھی مزید مسائل پیدا کریں۔ اگر ایسا نہ ہوا تو پورے ملک کے تمام اضلاع ڈویژن اور صوبائی ہیڈ کوارٹرز پر احتجاجی تحریک چلائی جائیگی اور با امر مجبوری ملک کے لاکھوں ملازمین اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرنے پر مجبور ہونگے۔ جس کی تمام تر ذمہ داری پاکستان تحریک انصاف کی حکومت پر عائدہوگی۔پریس کانفرنس میں ملک بھر سے آئے مختلف اضلاع کے عہدیداران بھی شریک تھے۔

اعلان /تحریک

مزید : ملتان صفحہ آخر